امریکا کے معروف شہری حقوق کے رہنما، اور سابق صدارتی امیدوار جیسی لوئس جیکسن 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ جیکسن خاندان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ منگل کی صبح وفات پا گئے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ، چھ بچے اور متعدد نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
خاندان نے اپنے بیان میں کہا، ‘ہمارے والد صرف ہمارے خاندان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں، بے آواز لوگوں اور نظر انداز کیے گئے افراد کے رہنما تھے۔ انصاف، مساوات اور محبت پر ان کا غیر متزلزل یقین لاکھوں لوگوں کے لیے امید کا ذریعہ بنا۔’
جیسی جیکسن 8 اکتوبر 1941 کو امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر گرین ول میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی ہی سے انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی تھی۔ 1960 کی دہائی میں جب امریکا میں شہری حقوق کی تحریک زوروں پر تھی تو جیکسن نے اس تحریک کے عظیم رہنماؤں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور جیمز بیول کے ساتھ کام کیا۔ اسی دور نے انہیں قومی سطح پر پہچان دلائی اور وہ جلد ہی سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے نمایاں ترجمان بن گئے۔
1980 کی دہائی میں انہوں نے بین الاقوامی امور میں بھی سرگرمی دکھائی اور امریکی حکومت کی کئی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی، خصوصاً اس وقت کی ریگن انتظامیہ کی خارجہ پالیسیوں کو انہوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
1984 میں جیسی جیکسن نے امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔ ابتدا میں انہیں ایک کمزور امیدوار سمجھا جا رہا تھا، لیکن انہوں نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 1988 میں انہوں نے دوبارہ صدارتی انتخاب لڑا اور اس بار وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ اگرچہ وہ صدر منتخب نہ ہو سکے، لیکن ان کی انتخابی مہم نے امریکی سیاست میں اقلیتی برادریوں کی سیاسی اہمیت کو نمایاں کیا اور مستقبل کے رہنماؤں کے لیے راستہ ہموار کیا۔
سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جیکسن میڈیا میں بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے 1992 سے 2000 تک سی این این پر ایک پروگرام کی میزبانی کی جس میں وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔ ان کی گفتگو کا انداز سادہ مگر پراثر تھا، جس کے ذریعے وہ عام لوگوں تک اپنے خیالات پہنچاتے رہے۔
ماہرین کے مطابق انہوں نے امریکی سیاست میں اقلیتوں کی شمولیت بڑھانے اور سماجی انصاف کے موضوع کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جیسی جیکسن بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق اور جمہوریت کے سرگرم حامی رہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے نظام اپارتھائیڈ کے خاتمے کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور اس مقصد کے لیے پوپ جان پال دوم اور روسی رہنما میخائل گورباچوف سے بھی رابطے کیے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی رہائی کے وقت جیکسن ان کے ہمراہ موجود تھے، جو ان کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
1997 میں وہ امریکی صدر بل کلنٹن کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے کینیا گئے، جہاں انہوں نے صدر ڈینیئل آراپ موئی سے ملاقات کر کے آزاد اور شفاف انتخابات کے فروغ پر زور دیا۔ اسی طرح 1999 میں کوسووو جنگ کے دوران وہ بلغراد پہنچے اور یوگوسلاویا کے صدر سلوبودان میلوسیوچ سے مذاکرات کر کے مقدونیہ کی سرحد پر اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ گشت کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے تین امریکی فوجیوں کی رہائی میں کردار ادا کیا، اگرچہ یہ مذاکرات کلنٹن انتظامیہ کی باضابطہ منظوری کے بغیر کیے گئے تھے۔
نائن الیون حملوں کے بعد جب افغانستان پر امریکی حملے کی تیاری ہو رہی تھی، تو جیسی جیکسن نے بتایا کہ طالبان نے انہیں ایک ”امن وفد“ کی قیادت کے لیے دعوت دی ہے، جس پر وہ غور کر رہے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر بات چیت کے ذریعے دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خاتمے، مشتبہ افراد کی حوالگی اور گرفتار عیسائی مشنریوں کی رہائی ممکن ہو جائے تو خونریز جنگ سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم بعد میں یہ واضح نہ ہو سکا کہ ثالثی کی دعوت اصل میں کس جانب سے آئی تھی، جبکہ امریکی حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے خلاف پالیسی دہراتے ہوئے اس دورے کی حوصلہ شکنی کی۔ آخرکار پاکستانی وفد کی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے اور صورتحال کو مشکوک قرار دیتے ہوئے جیکسن نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

