[rank_math_breadcrumb]

فلائیٹ میں اپنی نشست بچے کو دینے سے انکار، ایک ویڈو سے سوشل میڈیا سیلیبرٹی، برازیل کی جینیفر کاسترو کی کہانی

برازیلین خاتون انتیس سالہ جینیفر کاسترو ، ایک عام بینک ملازمہ، جو چند ہی دنوں میں سوشل میڈیا کی سیلیبرٹی بن گئیں۔ مگر کیسے؟

یہ سب ایک پرواز سے شروع ہوا۔ چار دسمبر 2025 کو ریو ڈی جنیرو سے بیلو ہوریزونٹے جانے والی گول ایئرلائنز کی پرواز میں ایک بظاہر معمولی واقعہ پیش آیا۔ جینیفر کھڑکی والی اپنی مخصوص نشست پر بیٹھی تھیں، جب ایک کم عمر لڑکے نے اصرار کیا کہ وہ اسی نشست پر بیٹھے گا۔

رپورٹس کے مطابق بچے کے پاس دوسری قطار میں کھڑکی والی نشست موجود تھی، مگر وہ جینیفر کی سیٹ پر ہی بیٹھنے کی ضد کر رہا تھا۔ جب اسے اپنی مرضی نہ ملی تو وہ رونے لگا۔

جینیفر نے اپنی نشست تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی لمحے ایک خاتون مسافر نے موبائل نکالا اور پوری صورتحال کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔ وہ جینیفر کو ملامت بھی کرتی رہیں۔ کیمرے کے پیچھے سے انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے، ’یہ سیٹ کیوں نہیں بدلنا چاہتی؟ میں نے تو یہ بھی پوچھا کہ کیا اسے کوئی سنڈروم وغیرہ ہے؟ اگر کسی کو کوئی مسئلہ یا معذوری ہو تو ہم سمجھتے ہیں۔ میں تمہارا چہرہ ریکارڈ کر رہی ہوں، یہ بہت گھٹیا حرکت ہے۔ اکیسویں صدی ہے اور لوگوں میں بچوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رہی۔‘

ان توہین آمیز جملوں کے باوجود جینیفر پُرسکون رہیں۔ انہوں نے صرف اتنا پوچھا کہ کیا ان کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔

یہی لمحہ وائرل ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی۔ جینیفر اچانک توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ابتدا میں تنقید بھی ہوئی، مگر جیسے ہی مکمل ویڈیو سامنے آئی، عوامی ردعمل بچے کی والدہ اور ویڈیو بنانے والی خاتون کے خلاف ہو گیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ جینیفر نے صرف اپنے حق پر قائم رہ کر درست کیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا، ’مجھے اس لڑکی کے لیے افسوس ہوا، وہ صرف پُرسکون سفر چاہتی تھی، میری یکجہتی اس کے ساتھ ہے۔‘

ویڈیو کے بعد جینیفر کی زندگی بدل گئی۔ ان کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد سترہ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے کئی اشتہاری معاہدے حاصل کیے۔ مگر اس شہرت کی قیمت بھی تھی۔

شدید ردعمل کے باعث ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہوئی۔ انہیں اپنی بینک کی ملازمت چھوڑنا پڑی۔ بعد ازاں انہوں نے خود کو سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر متعارف کرایا اور اپنے بایو میں خود کو ’پہلی بار انفلوئنسر‘ لکھا۔

انہوں نے ’کولا مائس پوڈکاسٹ‘ میں ایک انٹرویو کے دوران کہا، ’اب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جو کچھ میں نے برداشت کیا وہ آسان نہیں تھا۔ فلائٹ اٹینڈنٹس مجھ سے پوچھ سکتے تھے کہ کیا مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے یا کیا میں اس مسافر سے پریشان ہوں، لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ اس معاملے سے الگ رہے۔‘

پرواز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’جب میں جہاز میں سوار ہوئی تو بچہ میری سیٹ پر بیٹھا تھا۔ میں نے کہا، یہ میری سیٹ ہے، اور اس کے اٹھنے کا انتظار کیا۔ سامنے والی قطار میں بیٹھے ایک شخص نے کہا، اس کے ساتھ سیٹ بدل لو، تم گزرگاہ کے پاس بیٹھ جاؤ اور اسے اپنی جگہ دے دو۔ میں نے کہا، نہیں۔ لڑکا پوری پرواز کے دوران روتا رہا، تقریباً پچاس منٹ۔ اس کی والدہ کا رویہ بہت بدتمیز تھا۔‘

جینیفر کا کہنا ہے کہ وہ ایئرلائن اور ویڈیو بنانے والے مسافر دونوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر چکی ہیں۔ ان کا مقصد صرف ذاتی انصاف نہیں بلکہ ایک مثال قائم کرنا ہے، تاکہ لوگ بغیر اجازت ویڈیو بنانے اور کسی کو عوامی طور پر شرمندہ کرنے سے پہلے سوچیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی کو بھی صرف ’نہیں‘ کہنے پر ہراسانی یا تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ذاتی حدود کا احترام ضروری ہے، کیونکہ آن لائن شرمندگی کسی بھی شخص کی ذہنی صحت، کیریئر اور ذاتی زندگی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

ان کی کہانی برازیل میں حیرت اور دلچسپی کا باعث بنی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی شخص تضحیک سے شہرت تک اتنی تیزی سے پہنچ سکتا ہے۔‘ ایک اور نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’اب تو اس کے پاس پورا جہاز ہی اس کا اپنا ہے۔‘

تاہم کچھ افراد نے اس صورتحال پر تنقید بھی کی۔ ایک صارف نے کہا، ’میں کبھی نہیں سمجھ سکوں گا کہ ایک عام روزمرہ کے واقعے سے کوئی شخص راتوں رات مشہور شخصیت کیسے بن جاتا ہے۔‘ ایک اور نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’اب میں کھڑکی کے ساتھ والی تمام نشستیں خریدوں گا، صرف اس لیے کہ کوئی مجھ سے مانگے اور میں انکار کر دوں۔‘

یہ واقعہ صرف ایک نشست کا تنازع نہیں تھا۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت، عوامی ردعمل کی رفتار، اور ذاتی حدود کے احترام کا سوال بھی بن گیا۔ ایک لمحے کی ویڈیو نے ایک عام خاتون کی زندگی کا رخ بدل دیا، اور یہ سوال چھوڑ گیا کہ آن لائن دنیا میں انصاف، ہمدردی اور ذمہ داری کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔