[rank_math_breadcrumb]

اونٹ سے چلنے والے سندھ کے ‘آخری چند’ لکڑی کے  کولہو میں ایک نوکوٹ کے محمد یوسف ملک کا کولہو ، جو  اب بھی متحرک

جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں جہاں زیادہ تر کام مشینری سے لیا جاتا ہے، وہیں نوکوٹ میں چالیس برس سے قائم ایک روایتی لکڑی کا کولہو آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ کولہو اونٹ کی مدد سے چلتا ہے اور علاقے کی پرانی طرز زندگی کی یاد دلاتا ہے۔

یہ کولہو محمد یوسف ملک چلا رہے ہیں۔ وہ اپنے بزرگوں کے اس ورثے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے محمد یوسف ملک نے کہا: ‘ایک وقت تھا جب نوکوٹ میں کئی کولہو اونٹ سے چلتے تھے۔ یہاں سرسوں، تل اور دیگر بیجوں کا تیل نکالا جاتا تھا۔’

انہوں نے بتایا کہ یہ مکمل طور پر لکڑی کا کولہو ہے۔ یہ کوہلو مضبوط دیسی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ دکاندار کے مطابق یہ لکڑی کا کوہلو سندھ کے شہر ہالا کے ماہر کاریگروں نے تیار کیا تھا، جو روایتی لکڑی کے کام میں مہارت رکھتے ہیں۔

محمد یوسف ملک نے کہا: ‘مشینری آنے کے بعد زیادہ تر کولہو بجلی پر منتقل ہو گئے۔ اب میرے پاس ہی آخری اونٹ سے چلنے والا کولہو باقی ہے۔’ ان کے مطابق اونٹ کے مسلسل اور ہموار چلنے سے کولہو کے اندر بیج آہستہ آہستہ پستے ہیں۔ اس عمل میں حرارت کم پیدا ہوتی ہے، جس سے تیل کی اصل خوشبو اور ذائقہ برقرار رہتا ہے۔

روایتی طریقے سے نکالا گیا تیل مقامی لوگ زیادہ خالص اور طاقتور سمجھتے ہیں۔ اس عمل سے تیل کے ساتھ کھل بھی حاصل ہوتی ہے، جو مویشیوں کی خوراک میں استعمال کی جاتی ہے۔

یہ کولہو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ نوکوٹ کی ثقافتی شناخت کا حصہ بھی ہے۔ ماضی میں ایسے کولہوں کے گرد سماجی سرگرمیاں بھی ہوتی تھیں۔ لوگ بیج لاتے، انتظار کرتے اور آپس میں گفتگو کرتے تھے۔

نوکوٹ کا یہ آخری لکڑی کا اونٹ سے چلنے والا کولہو آج بھی جدید مشینوں کے دور میں گردش کر رہا ہے۔ یہ روایت، ہنر اور صبر کی ایک زندہ مثال ہے، جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہے۔

 

اسی بارے میں: