[rank_math_breadcrumb]

کتے بلی یا کسی جانور کے کاٹنے سے ہونے والی ریبیز، ایک مہلک مگر قابلِ بچاؤ بیماری، ماہرین کی بروقت علاج کی ہدایت

ریبیز ایسی بیماری ہے جو علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مگر ماہرین کہتے ہیں کہ بروقت اور درست علاج سے اسے مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔

ساگا ڈیجیٹل نے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کے ریبیز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر رومانہ فرحت سے بات کی، جنہوں نے واضح کیا کہ ریبیز ایک وائرل بیماری ہے جو عموماً کتے، بلی یا جنگلی جانور کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ وائرس جانور کے لعاب کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

ڈاکٹر رومانہ فرحت کے مطابق، اگر کسی شخص کو جانور کاٹ لے تو سب سے پہلا قدم زخم کو کم از کم 15 منٹ تک بہتے پانی اور صابن سے اچھی طرح دھونا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ‘زخم کو فوری اور اچھی طرح دھونا وائرس کی مقدار کم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ ریبیز کی ویکسین علامات شروع ہونے سے پہلے لگائی جائے تو یہ مؤثر ہوتی ہے۔ ‘ریبیز کی ویکسین دراصل جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے کی ہدایت دیتی ہے،’ انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق عام طور پر ویکسین کی چار سے پانچ خوراکیں مخصوص دنوں کے وقفے سے دی جاتی ہیں، جبکہ شدید کیسز میں ریبیز امیونوگلوبیولن بھی لگایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر رومانہ فرحت کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ ابتدائی زخم کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ‘اگر جانور مشکوک ہو، یا ویکسینیشن اسٹیٹس معلوم نہ ہو، تو تاخیر کیے بغیر ہسپتال آئیں،’ انہوں نے خبردار کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریبیز کی روک تھام میں صرف انسانی ویکسینیشن کافی نہیں۔ آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، پالتو جانوروں کا حفاظتی ٹیکہ اور عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ریبیز مکمل طور پر قابلِ بچاؤ بیماری ہے، بشرطیکہ متاثرہ شخص بروقت طبی امداد حاصل کرے۔ ڈاکٹر رومانہ فرحت کے الفاظ میں، ‘ریبیز سے موت قابلِ قبول نہیں، کیونکہ ہمارے پاس اس سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ موجود ہے۔’

جانور کے کاٹنے کو معمولی نہ سمجھیں۔ فوری صفائی، بروقت ویکسین اور طبی مشورہ ہی زندگی بچا سکتا ہے۔

 

اسی بارے میں: