دمہ کو عموماً صرف سانس لینے میں دشواری کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق یہ مرض انسان کی نجی اور ازدواجی زندگی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس پہلو پر کم بات ہوتی ہے، حالانکہ اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق دمے میں مبتلا تقریباً 68 فیصد افراد نے بتایا کہ اس بیماری نے ان کی جنسی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ دمہ مکمل طور پر قابو میں نہیں۔
ایک 31 سالہ خاتون نے اپنے تجربے میں بتایا کہ شدید دمے کے باعث ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہوئی۔ جنسی تعلق کے دوران سانس پھول جانا، گلے میں خرخراہٹ اور بار بار انہیلر کی ضرورت نے صورت حال کو مشکل بنا دیا۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتا ہے۔
یہ صورتحال کسی ایک فرد تک محدود نہیں۔ کئی افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تعلقات کی تعداد کم کر دی یا مکمل طور پر گریز اختیار کر لیا۔ سروے کے مطابق تقریباً 15 فیصد افراد کے تعلقات اسی وجہ سے ختم بھی ہو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ اگر روزمرہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نجی زندگی میں بھی رکاوٹ بن رہا ہو تو یہ اشارہ ہے کہ علاج کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ درست ادویات، انہیلر کا باقاعدہ استعمال اور ڈاکٹر سے کھل کر بات کرنا بیماری پر بہتر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر عموماً دمے کے اثرات کام، تعلیم یا جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں پوچھتے ہیں، مگر نجی تعلقات پر اس کے اثرات پر کم گفتگو ہوتی ہے۔ اسی خاموشی کے باعث بہت سے لوگ مدد لینے میں ہچکچاتے ہیں۔
صحت کے مسائل پر خاموشی اختیار کرنا مسئلے کو کم نہیں کرتا۔ آگاہی، بروقت علاج اور کھلی گفتگو بہتر زندگی کی طرف پہلا قدم ہو سکتے ہیں۔
بہتر سانس، بہتر زندگی۔
