[rank_math_breadcrumb]

آپ کی پینے کی پانی کی بوتل، صحت مند یا جراثیم سے بھرپور؟

اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھنا ایک اچھی عادت سمجھی جاتی ہے۔ یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھتی ہے اور ڈسپوزیبل پلاسٹک کے استعمال میں کمی لاتی ہے۔ مگر یہی عادت اگر لاپرواہی سے اپنائی جائے تو صحت کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

اکثر لوگ روزانہ ایک ہی پانی کی بوتل استعمال کرتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ بوتل واقعی کتنی صاف ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف اس لیے کہ بوتل میں پانی ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ جراثیم سے پاک بھی ہو۔

تحقیقی مشاہدات سے پتا چلتا ہے کہ دوبارہ استعمال ہونے والی ایک پانی کی بوتل میں کروڑوں جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں بوتل کی اندرونی سطح پر جراثیم کی مقدار ٹوائلٹ سیٹ کے مقابلے میں بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔

جراثیم کہاں سے آتے ہیں؟ جب بوتل کو منہ سے لگایا جاتا ہے تو ہونٹوں، زبان اور مسوڑھوں پر موجود جراثیم بوتل میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ہاتھوں کے ذریعے بھی جراثیم بوتل تک پہنچتے ہیں، کیونکہ دن بھر موبائل فون، دروازوں اور مختلف سطحوں کو چھوا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نم اور بند بوتل میں موجود بیکٹیریا چوبیس گھنٹوں کے اندر ہزاروں سے لاکھوں تک بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس صورت میں جب بوتل دن بھر استعمال ہو اور دھوئی نہ جائے۔

کچھ واضح نشانیاں خطرے کی گھنٹی ہوتی ہیں۔ اگر بوتل کے نچلے حصے میں سبز داغ نظر آئیں، یا ڈھکن کے اندر سیاہ نشان بننے لگیں، تو یہ جراثیم اور پھپھوندی کی موجودگی کی علامت ہو سکتی ہے۔

حل کیا ہے؟ ماہرین روزانہ بوتل کو صابن اور گرم پانی سے اچھی طرح دھونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بچا ہوا پانی اگلے دن استعمال نہ کریں۔ بوتل اور ڈھکن کو دھونے کے بعد مکمل طور پر خشک کریں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ تنگ منہ والی بوتلیں صاف کرنا مشکل ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو ایسی بوتل استعمال کریں جسے اندر سے آسانی سے دھویا جا سکے۔

صاف بوتل ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ ایک چھوٹی سی صفائی، آپ کو بڑی بیماری سے بچا سکتی ہے۔

اسی بارے میں: