لاہور میں ماں اور بچے کا گٹر میں گر جانا محض ایک افسوسناک حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس ریاستی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ تھا جو برسوں سے بدانتظامی، نااہلی اور بے حسی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ یہ واقعہ لاہور میں ہو یا کراچی میں، یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں, ہر ایسا سانحہ اس ناکام نظام پر ایک اور سیاہ مہر ثبت کر دیتا ہے۔
اس سانحے کے چند پہلو نہایت واضح اور قابلِ غور ہیں۔
سب سے پہلا اور سنگین پہلو یہ ہے کہ ایک مظلوم شوہر، جس کی بیوی اور معصوم بچی گٹر میں جا گریں، جب انصاف کی تلاش میں تھانے کا رخ کرتا ہے تو پولیس اسے ہی ملزم بنا لیتی ہے۔ اس پر تشدد کیا جاتا ہے، اسے مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں؟
صرف اس لیے کہ وہ غریب ہے؟ اس لیے کہ اس کا کوئی تعلق کسی طاقتور افسر یا سیاست دان سے نہیں؟
کیا یہی شکایت اگر کسی بااثر شخص کی جانب سے آتی تو کیا پولیس کا رویہ بھی یہی ہوتا؟ کیا اسے بھی قاتل سمجھا جاتا؟ کیا اس پر بھی وہی تشدد کیا جاتا؟
یہ پولیس نہیں، یہ طاقتور کے لیے محافظ اور کمزور کے لیے جلاد بن چکی ہے۔
دوسرا پہلو وہ ویڈیو کلپ ہے جسے باقاعدہ تشہیر کے ساتھ ٹی وی اسکرینوں پر دکھایا گیا، جس میں مریم نواز صاحبہ افسران سے اس انداز میں مخاطب نظر آتی ہیں جیسے وہ کوئی منتخب وزیرِ اعلیٰ نہیں بلکہ کسی دربار کی مطلق العنان حکمران ہوں۔ فیصلے موقع پر، احکامات لمحوں میں، اور پنجاب کے سینئر ترین افسر خاموشی سے سر جھکائے ڈانٹ سن رہے ہیں۔
یہ طرزِ حکمرانی نہیں، یہ تذلیل ہے, اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اسے “قائدانہ انداز” بنا کر بیچا جا رہا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے خطرناک پہلو وہ مصنوعی اور گھڑا ہوا بیانیہ ہے جو ریاستی مشینری اور میڈیا کے ذریعے تشکیل دیا جا رہا ہے, جس کا مقصد اصل سوالات سے توجہ ہٹا کر عوام کو جذباتی تماشے میں الجھانا ہے۔ سانحے کی جڑیں، ذمہ داران، اور نظامی ناکامی پسِ منظر میں چلی جاتی ہے، اور سامنے صرف چہرے، کیمرے اور بیانات رہ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب ہو یا سندھ، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا, عام شہری کی کوئی وقعت نہیں۔ اگر کوئی واقعہ میڈیا کی زینت بن جائے تو وقتی شور مچ جاتا ہے، ورنہ بدترین حکمرانی کے نتیجے میں روزانہ درجنوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ سب کچھ “اللہ کی مرضی” کہہ کر فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
نہ نظام کا احتساب ہوتا ہے، نہ اس کی اصلاح کی سنجیدہ کوشش۔ یہاں تک کہ اس شخص کے لیے بھی آواز نہیں اٹھی جس پر پنجاب پولیس نے تشدد کیا، بلکہ الٹا ریاستی طاقت استعمال کر کے اسے جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ انصاف نہیں، یہ طاقت کا عریاں استعمال ہے, اور یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔.

