آج کل سوشل میڈیا پر انڈین فلم ‘دھیریندر’ کا چرچا ہے، جہاں پولیس مقابلوں، جرائم پیشہ کرداروں اور ‘چوہدری اسلم’ جیسے ناموں پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ لیکن فلموں کی گلیمرائزڈ دنیا سے دور، حقیقت کی زمین پر خون کے وہ دھبے بھی ہیں جو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہیں دھلے۔
یہ کہانی کراچی کے اس ‘انکاؤنٹر اسپیشلسٹ’ کی ہے جسے کچھ لوگ مسیحا کہتے ہیں، مگر کوٹری کے ایک غریب بروہی خاندان کے لیے وہ ایک بھیانک خواب سے کم نہیں تھا۔
جولائی 2006، ایک ‘فرضی’ معرکہ اور سرکاری انعام
قصہ شروع ہوتا ہے جولائی 2006 میں، جب اخبارات کی سرخیوں نے تہلکہ مچا دیا، ‘لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ چوہدری اسلم نے بدنامِ زمانہ ڈاکو معشوق بروہی کو مقابلے میں ہلاک کر دیا’۔ حکومتِ سندھ خوش تھی، پولیس پارٹی کے لیے انعامات کا اعلان ہو رہا تھا، اور عوام ایک ‘خطرناک ڈاکو’ کے خاتمے پر اطمینان کا سانس لے رہے تھے۔ مگر سچ وہ نہیں تھا جو پریس ریلیز میں لکھا گیا تھا۔
سچ کی تلاش، کوٹری کی وہ خاموش بستیاں
میں اس وقت سندھی اخبار روزنامی کوشش کے ساتھ حیدرآباد میں بطور کورٹ اینڈ کرائم رپورٹر کام کرہا تھا۔ میرے پاس ایک مبہم سی اطلاع آئی، ‘جسے ڈاکو کہہ کر مارا گیا، وہ معشوق نہیں، رسول بخش بروہی نامی ایک مزدور تھا’۔ میں اور میرے فوٹوگرافر شاہد بھائی، بغیر کسی موبائل فون یا گوگل میپس کے، کوٹری کی ان کچی بستیوں میں پہنچے جہاں غربت ناچ رہی تھی۔
وہاں ایک کچے مکان میں رسول بخش بروہی کی بوڑھی ماں، بیوہ اور معصوم بچے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا، صرف اپنے پیارے رسول بخش کی تصویریں تھیں جو کراچی کی ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا تھا۔ اسے بس سے اتار کر اغوا کیا گیا اور پھر ایک ‘تمغہ’ جیتنے کے لیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
جب ‘پِیپلی لائیو’ حقیقت بن گئی
جب میں نے خبر دی اور ساتھ میں تصاویر دیں تو ڈیسک نے میٹمنگ کرکے اس خبر کو آٹھ کالم باکس اسٹوری بنادی۔ ہماری خبر روزنامہ کوشش میں شائع ہوئی تو پورے ملک میں زلزلہ آ گیا۔ اگلے ہی دن وہ گاؤں میڈیا کا مرکز بن گیا، بالکل ویسے ہی جیسے انڈین فلم ‘پِیپلی لائیو’ میں دکھایا گیا ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا، آئی جی سندھ نے چوہدری اسلم سمیت 22 اہلکاروں کو معطل کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔
لاش کی وہ ہولناک تصویریں جو آج بھی پیچھا کرتی ہیں
اس کہانی کا سب سے لرزہ خیز موڑ وہ رات تھی جب رسول بخش کی لاش گاؤں پہنچی۔ باقی میڈیا کوریج کر کے جا چکا تھا، مگر ہم وہیں موجود تھے۔ جب کفن ہٹایا گیا تو منظر انسانیت کو شرما دینے والا تھا۔
جسم کے ہر حصے پر سگریٹ سے داغنے کے نشانات تھے۔ ہاتھ اور پاؤں کے ناخن کھینچ کر نکالے گئے تھے۔ بدترین تشدد کی وہ داستان سامنے تھی جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ یہ ‘انکاؤنٹر’ نہیں، ‘ماورائے عدالت قتل’ تھا۔
ہم نے ان زخموں کی تصویریں بنائیں، جو اگلے دن اخبار کی زینت بنیں اور پورے صوبے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
انصاف کی ادھوری ڈائری
آج چوہدری اسلم اس دنیا میں نہیں رہے، وہ خود ایک بم دھماکے کا شکار ہوئے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف ہوا؟ چوہدری اسلم اور ان کے ساتھی چند ماہ بعد ضمانتوں پر رہا ہو گئے، اپنی ملازمتوں پر بحال ہوئے اور طاقت کے اسی ایوان میں واپس آ گئے۔
فلمیں کسی کو ہیرو بنا سکتی ہیں اور کسی کو ولن، مگر رسول بخش بروہی کا خاندان آج بھی ان ناخنوں اور سگریٹ کے نشانات کا حساب مانگ رہا ہے جو ایک ‘مزدور’ کے جسم پر ایک ‘محافظ’ نے چھوڑے تھے۔
ہمیں فلمی کہانیوں سے زیادہ ان سچی کہانیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی اور رسول بخش بروہی کا جنازہ ‘انعام’ پانے کی خاطر نہ اٹھایا جائے۔

