گزشتہ چند ماہ کے دوران کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے صارفین کو ایک نئی مشکل کا سامنا ہے، اور وہ ہے ریم یعنی کمپیوٹر میموری کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں۔ وہ میموری جو کبھی کمپیوٹر کو تیز اور مؤثر بنانے کا سستا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، اب عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
بازار میں ریم میموری کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کمپیوٹر بنانے والی صنعت، تعلیمی اداروں، کاروباری شعبے اور سافٹ ویئر کی دنیا کو بھی متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق رینڈم ایکسس میمری کی چپ جس کو عرف عام میں ریم کہا جاتا ہے، کی قیمتوں میں اضافہ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے عالمی رجحان کا نتیجہ ہے جو گزشتہ برس سے آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتا گیا۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا تیزی سے پھیلاؤ ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، خودکار مشینیں، بڑے ڈیٹا کے مراکز اور جدید تحقیقاتی منصوبے بے حد زیادہ میموری استعمال کرتے ہیں۔
چونکہ یہ شعبے زیادہ منافع بخش ہیں، اس لیے میموری تیار کرنے والی فیکٹریاں اپنی زیادہ تر پیداوار انہی کے لیے مختص کر رہی ہیں۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں استعمال ہونے والی ریم چپ کی دستیابی کم ہو گئی۔ جب کسی چیز کی مانگ زیادہ اور رسد کم ہو تو قیمتوں کا بڑھنا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کمپیوٹر میموری کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بعض مارکیٹ رپورٹس کے مطابق مختلف اقسام کی میموری کی قیمتیں تیس سے ساٹھ فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں یہ اضافہ اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ اضافہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ نئے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہو گئے ہیں، یا پھر کم ریم کے ساتھ فروخت کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ اور فری لانسرز جو بہتر کارکردگی کے لیے میموری بڑھانا چاہتے تھے، اب اضافی اخراجات کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔
کمپیوٹر گیمز، ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافکس ڈیزائن اور سافٹ ویئر تیار کرنے والے افراد خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ان شعبوں میں زیادہ میموری بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔
یہ صورتحال ماضی کے بعض تجربات کی یاد دلاتی ہے، جیسے سنہ 2021 میں کرپٹو مائننگ کے باعث گرافکس کارڈز کی قلت اور مہنگائی۔ فرق صرف یہ ہے کہ کرپٹو مائننگ ایک وقتی لہر ثابت ہوئی، جبکہ مصنوعی ذہانت کو ایک طویل المدتی عالمی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریم کی طلب آئندہ برسوں میں بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ریم بنانے والی کمپنیوں کی تعداد دنیا میں بہت محدود ہے۔
امریکہ یا چین کے چند بڑے ادارے ہی عالمی سپلائی کا زیادہ تر حصہ کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے پیداوار میں معمولی رد و بدل بھی پوری دنیا کی مارکیٹ کو متاثر کر دیتا ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور دیگر ممالک تکنیکی طور پر پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ماضی میں زیادہ پیداوار کے باعث قیمتوں میں شدید کمی اور مالی نقصان کے تجربے نے انہیں محتاط بنا دیا ہے۔ اسی لیے اب ‘کنٹرول شدہ پیداوار‘ کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے
دنیا بھر کی کاروباری دنیا میں بھی اس کا اثر نمایاں ہے۔
کیا یہ صورتحال جلد بہتر ہو سکتی ہے؟
ماہرین اس بارے میں محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق میموری تیار کرنے والی فیکٹریاں نئے کارخانے قائم کرنے اور پیداوار بڑھانے پر کام کر رہی ہیں، مگر یہ ایک طویل عمل ہے جو کئی برس لیتا ہے۔
جب تک نئی فیکٹریاں مکمل طور پر کام شروع نہیں کرتیں، میموری کی قلت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا کے منصوبوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ منافع جدید سرورز اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں استعمال ہونے والی خاص قسم کی میموری چپس میں ہے۔ اسی لیے فیکٹریاں عام صارف کے کمپیوٹر میں استعمال ہونے والی میموری کے بجائے انہی مہنگی اور خصوصی چپس کو ترجیح دے رہی ہیں۔
اگر یہ ممالک عام ریم زیادہ مقدار میں بنانے کا فیصلہ بھی کریں تو انہیں اپنی موجودہ پیداوار کی حکمتِ عملی بدلنا پڑے گی، جو فوری طور پر ممکن نہیں۔
ایک اور رکاوٹ یہ ہے کہ نئی فیکٹری قائم کرنے میں بے حد وقت اور سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ ایک جدید میموری فیکٹری بنانے میں کئی سال لگتے ہیں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔
اس لیے اگر آج کوئی ملک فیصلہ بھی کر لے کہ وہ عام کمپیوٹر میموری زیادہ مقدار میں بنائے گا تو اس کا اثر کم از کم دو سے تین سال بعد ہی مارکیٹ میں نظر آئے گا۔
طویل مدت کے لیے امید کی کرن
تاہم طویل مدت میں کچھ امید بھی موجود ہے۔ اگر پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے، یا نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم میموری میں زیادہ کام لینے کے طریقے سامنے آتے ہیں، تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ ایک دو برس میں قیمتوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے، مگر فوری اور نمایاں کمی کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
اس تمام صورتحال سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ کمپیوٹر میموری کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کی علامت ہے۔ جب تک نئی ٹیکنالوجیوں کی مانگ بڑھتی رہے گی، عام صارف کو اس کے اثرات برداشت کرنا پڑیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صارفین خریداری میں احتیاط کریں، غیر ضروری اپ گریڈ سے گریز کریں اور صنعت کار ایسے حل تلاش کریں جو عام آدمی کو اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں پیچھے نہ چھوڑ دیں۔

