روڈس کا دیوہیکل محافظ، دھات میں ڈھلا آزادی کا اعلان

آزادی

یہ کہانی قدیم یونان کے اُس عظیم مجسمے کی ہے جو صرف ایک فن پارہ نہیں تھا۔ یہ ایک قوم کی آزادی، حوصلے اور امید کا اعلان تھا۔ یونان کے جزیرے روڈس کے ساحل پر ایک وقت ایسا بھی تھا جب سورج کی پہلی کرن سمندر سے پہلے ایک دیوتا کے چہرے پر پڑتی تھی۔ یہی وہ کانسی کا مجسمہ تھا جسے دنیا کولوسس آف روڈس کے نام سے جانتی ہے۔

یہ مجسمہ سورج کے دیوتا ہیلیوس کے نام پر بنایا گیا تھا۔ اپنے عہد میں یہ دنیا کا سب سے بلند اور حیران کن نشان سمجھا جاتا تھا۔ اس کی موجودگی محض خوب صورتی نہیں تھی۔ یہ اعلان تھا کہ ایک شہر نے جنگ جیتی ہے اور اس کی آزادی برقرار ہے۔

یہ داستان تین سو پانچ قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت یونانی حکمران دمیٹریس نے روڈس کا محاصرہ کیا۔ ایک سال تک شہر کو شکست دینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ مگر روڈس کے لوگ اپنی زمین پر ڈٹے رہے اور آخرکار دمیٹریس کو پسپا ہونا پڑا۔

پسپائی کے وقت دشمن اپنا بھاری جنگی سامان چھوڑ گیا۔ روڈس کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اس فتح کو تاریخ میں محفوظ کیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ جس خدا نے انہیں بچایا، اس کے نام پر ایک عظیم نشان ہونا چاہیے۔ یہی سوچ سورج دیوتا ہیلیوس کے مجسمے کی بنیاد بنی۔

مجسمہ ساز چاریس نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا۔ اس نے ایک سو آٹھ فٹ بلند مجسمہ بنایا۔ یہ تقریباً دس منزلہ عمارت کے برابر تھا۔ اس کی بیرونی سطح کانسی کی تھی اور اندر مضبوط لوہے کا ڈھانچہ نصب کیا گیا تھا۔

مجسمے کی بنیاد پتھر اور مٹی سے بھری گئی تھی۔ اس کا مقصد اتنے بڑے وزن کو سہارا دینا تھا۔ یہ عظیم تعمیر بارہ برس میں مکمل ہوئی۔ دھوپ میں اس کی چمک دور سے نظر آتی تھی اور پورا شہر اس پر فخر کرتا تھا۔

عام تصور یہ ہے کہ یہ مجسمہ بندرگاہ کے دونوں کناروں پر کھڑا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جہاز اس کی ٹانگوں کے درمیان سے گزرتے تھے۔ مگر تحقیق اس خیال کی تردید کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجسمہ بندرگاہ کے ایک کنارے پر نصب تھا۔

اگرچہ یہ بندرگاہ کے درمیان نہیں تھا، مگر اتنا بلند تھا کہ پورے شہر سے دکھائی دیتا تھا۔ اس کی موجودگی امید کی علامت بن چکی تھی۔ لوگ اسے شہر کا محافظ سمجھتے تھے۔ دور سے آنے والے جہازوں کے لیے یہ طاقت اور آزادی کا پیغام تھا۔

روڈس کے لوگ سورج طلوع ہونے سے پہلے ساحل پر جمع ہوتے تھے۔ وہ مجسمے کی سمت رخ کر کے دیوتا کو سلام پیش کرتے۔ مسافر اس منظر کو دیکھ کر کہتے کہ یہ صرف فن نہیں۔ یہ ایک ریاست کی روح ہے۔

مگر تاریخ میں کوئی چیز ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ دو سو چھبیس قبل مسیح میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے اس دیوہیکل مجسمے کو گھٹنوں سے توڑ کر زمین پر گرا دیا۔ روڈس کا محافظ خاموش ہو گیا۔

دوبارہ تعمیر کی بات ضرور ہوئی۔ مگر اس وقت کے نجومیوں نے کہا کہ جسے خدا نے گرایا ہو، اسے انسان دوبارہ نہ اٹھائے۔ یوں یہ مجسمہ تقریباً نو سو سال تک زمین پر گرا رہا۔ اس کے ٹکڑے بھی لوگوں کو حیران کرتے رہے۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس کے ٹوٹے ہوئے حصے بہت بڑے تھے۔ ایک انسان اس کے انگوٹھے کو بھی پوری طرح تھام نہیں سکتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور منظر بدلتا گیا۔ تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔

ساتویں صدی میں عرب تاجر یہاں پہنچے۔ انہوں نے گرے ہوئے مجسمے کے ٹکڑے خرید لیے۔ کانسی کو پگھلا کر فروخت کر دیا گیا۔ دنیا کا یہ عجوبہ دھات میں بدل کر ختم ہو گیا۔

مگر مجسمہ ختم ہوا تو اس کی کہانی باقی رہی۔ کولوسس آف روڈس محض جسامت کی وجہ سے عجوبہ نہیں تھا۔ یہ ایک شہر کی بقا کی علامت تھا۔ ایک قوم کے اعتماد اور حوصلے کا اعلان تھا۔

یہ انجینئرنگ کا ایسا کارنامہ تھا جس نے آنے والی صدیوں کو متاثر کیا۔ دنیا کے کئی بڑے مجسمے اسی تصور سے جڑے نظر آتے ہیں۔ آزادی کا مجسمہ بھی اسی روایت کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ خیال اور علامت زندہ رہتی ہے۔

آج روڈس کا یہ مجسمہ کہیں موجود نہیں۔ نہ کھڑا ہوا، نہ ٹوٹا ہوا۔ مگر یہ لفظوں، کہانیوں اور انسانی تخیل میں زندہ ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی ایک مجسمہ صرف شکل نہیں ہوتا بلکہ تاریخ کی آواز بن جاتا ہے۔

اسی بارے میں: