26 نومبر 1967 — جب نواب کالا باغ، ملک امیر محمد خان کو اُن کے بیٹے نے قتل کیا

نواب کالا باغ

نواب کالا باغ، ملک امیر محمد خان 20 جون 1910 کو کالا باغ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پاکستان کے بڑے نوابوں اور زمین داروں میں سے تھے۔ انہوں نے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید طریقہٴ زراعت اور آکسفورڈ کی تعلیم کو استعمال میں لایا۔

1940 میں جب لاہور کے منٹو پارک میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی، تو نواب ملک امیر محمد خان بھی اس کے حامیوں میں شامل تھے۔ اس اجلاس میں قائداعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو لکھنے اور تقریر کے ذریعے بیدار کرنا چاہیے، لیکن یہ کام فنڈ کے بغیر نہیں ہو سکتا، اس لیے سب دوست تحریک کے لیے چندہ جمع کریں۔

اجلاس میں موجود ہر شخص نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دینے کا اعلان کیا۔ اسی دوران قائداعظم کے سیکریٹری نے لوگوں سے چندہ کا اعلان کرنے کی گزارش کی۔ تب نوجوان نواب ملک امیر محمد خان کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ جتنا چندہ جمع ہوا ہے، وہ اتنی ہی رقم مزید دیں گے۔ اس اعلان پر پنجاب کے تمام رہنما اور خود قائداعظم محمد علی جناح حیران رہ گئے۔ قائداعظم نے ممتاز دولتانہ سے پوچھا: ’’یہ نوجوان کون ہے؟‘‘ دولتانہ نے جواب دیا: ’’جناب! یہ ملک امیر محمد خان، نواب کالا باغ ہیں۔‘‘

پچھلی حکومتوں نے انہیں دو مرتبہ عہدے پیش کیے—ایک بار مرکزی وزیر اور دوسری بار صوبائی گورنر کے طور پر—مگر انہوں نے قبول نہیں کیے۔ 9 دسمبر 1958 کو انہیں پی آئی ڈی سی کا صدر مقرر کیا گیا۔ 1 جون 1960 کو صدر ایوب خان نے انہیں مغربی پاکستان کا گورنر بنایا۔

نواب کالا باغ ایوب خان حکومت کا ایک اہم ستون تھے۔ اپنی نجی زندگی میں وہ سخت گیر انسان تھے اور انتظامیہ پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ پرانے جاگیردارانہ نظام کے روایتی مظالم کی ایک نمایاں مثال سمجھے جاتے تھے۔ اگرچہ وہ انگلینڈ سے تعلیم یافتہ تھے، لیکن وہاں بھی انہوں نے شلوار قمیض پہننے کی عادت نہ چھوڑی اور یونیورسٹی کے قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی دیا، مگر لباس نہ بدلا۔ انہوں نے کبھی چمچہ یا کانٹا استعمال نہیں کیا۔ حتیٰ کہ گورنر کی حیثیت سے برطانیہ کی ملکہ کے ساتھ ضیافت میں بھی انہوں نے ہاتھوں سے کھانا کھایا۔

وہ سابق رکنِ اسمبلی رہ چکے تھے اور گورنر بننے سے قبل پی آئی ڈی سی اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ 18 ستمبر 1966 تک مغربی پاکستان کے گورنر رہے۔ 1962 اور 1965 کے انتخابات میں ایوب خان کی کامیابی میں ان کا بڑا کردار تھا۔ ان کا اثر و رسوخ اس قدر تھا کہ خود مسلم لیگ کے رکن نہ ہونے کے باوجود ان کی منظوری کے بغیر ٹکٹ جاری نہیں ہو سکتے تھے۔

گورنری چھوڑنے کے بعد وہ اپنی جاگیرداری پر واپس آ گئے۔
26 نومبر 1967 کو انہیں قتل کر دیا گیا۔

سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی ڈائری میں اس واقعے کا ذکر یوں کیا:
’’جنرل موسیٰ نے دوپہر کو فون پر بتایا کہ نواب کالا باغ کو اُن کے بیٹے اسد نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب کا اپنے بیٹے سے سخت جھگڑا ہوا اور نواب نے اسد پر دو گولیاں چلائیں جن سے اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔ اسد نے جواب میں پانچ گولیاں چلائیں اور نواب کالا باغ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔‘‘

نواب کی موت افسوسناک تھی، لیکن ان کی جاگیردارانہ پس منظر کے باعث وہ عدم برداشت اور سخت مزاجی کا شکار تھے۔ قتل کا الزام ان کے بیٹے ملک اسد پر لگا، لیکن الزام ثابت نہ ہو سکا۔

نواب کالا باغ کی تدفین جس لاپرواہی سے کی گئی، وہ اس شخص کے لیے ایک سبق تھی جس کا خوف اور اثر پورے مغربی پاکستان میں پھیلا ہوا تھا۔ ان کے جنازے میں صرف چند لوگ شریک ہوئے

اسی بارے میں: