نئے سال 2026 کے آغاز کے ساتھ پاکستان میں اظہار آزادی پر ‘قدغن’ لگانے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ انگریزی اخبار کے ایڈیٹوریل پیج پر چھپے ایک مضمون سے ہوا۔ جس کا مرکزی نام شائع کنندہ صحافی و مصنف زورین نظمانی ہے۔ انہوں نے ‘It Is Over’ کے نام سے لکھے آرٹیکل میں نئی نسل اور طاقتور طبقات کے درمیان فاصلے پر بحث کی گئی، ، جس کی زبان براہ راست اور تنقیدی سمجھی گئی۔
یہ آرٹیکل اخبار کی ویب سائٹ پر یکم جنوری 2026 کو شائع کیا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں یہ تحریر ہٹادی گئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر تیز ردعمل شروع ہو گیا۔ فیس بک پر 40 ہزار سے زائد بار زورین نظامانی کے آرٹیکل کا ذکر کیا گیا۔
تحریر کے شائع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد وہ ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی۔ اخبار انتظامیہ کی جانب سے حذف کیے جانے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم خود مصنف نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں کہا کہ تحریر ادارتی وجوہات کی بنا پر ہٹائی گئی اور اس عمل میں کسی بدنیتی کو لازم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی ایک جملے نے بحث کو مزید گہرا کر دیا۔
زورین نظامانی کے والد قیصر نظامانی کی آرٹیکل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی اپیل
زورین نظامانی کے والد، سینئر اداکار قیصر نظامانی کے بیٹے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس پر قیصر نظامانی کی وضاحت کے مطابق مضمون ‘اٹ از اوور’ ایک عمومی اور علامتی تحریر ہے، جس کا مقصد کسی ادارے، گروہ یا طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک فرضی فضا اور نئی نسل کے تاثر کو بیان کرنا ہے۔ اس مضمون کو بعض حلقے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اصل مفہوم سے ہٹا کر استعمال کر رہے ہیں، جو مصنف کی نیت اور تحریر کی روح کے خلاف ہے۔
اپنے فیس بک پروفائیل پر قیصر نظامانی نے لکھا: ‘یہ مضمون نہ تو سیاسی بنیادوں پر لکھا گیا اور نہ ہی کسی پر تنقید یا حملے کے لیے تھا۔ زورین نظامانی کا کسی سیاسی جماعت، گروہ یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ اس تحریر کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں، وہ یہ سب اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔
‘افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے بیرون ملک مقیم بعض سیاسی اینکرز اپنی ذاتی سیاسی ایجنڈا کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ براہِ کرم تصاویر میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ترمیم کر کے اور انگریزی سے اردو یا دیگر زبانوں میں ترجمہ کر کے اسے ہمارے اپنے اداروں کے خلاف موڑنے کی کوشش نہ کریں۔’
قیصر نظامانی کے مطابق ان کے بیٹے زورین پہلے ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر واضح کر چکے ہیں کہ ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘اس لیے کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچنے کے لیے پوسٹس لگانا اور دوبارہ شیئر کرنا بند کر دیا جائے۔ وہ جرم شناسی کے طالب علم ہیں اور کئی برسوں سے ایک اخبار کے لیے لکھ رہے ہیں۔’
سوشل میڈیا پر ردعمل دو واضح دھاروں میں تقسیم
اس موضوع پر سوشل میڈیا پر ردعمل دو واضح دھاروں میں تقسیم نظر آیا۔ ایک طبقے نے کہا کہ تحریر کا ہٹایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ تنقیدی آوازوں کے لیے جگہ محدود ہوتی جا رہی ہے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ مضمون اگر متنازع نہ ہوتا تو شاید ہٹایا نہ جاتا، اور حذف ہونا ہی اس کی اہمیت کا ثبوت بن گیا۔
دوسری جانب ایک بڑی تعداد نے محتاط رویہ اپنایا۔ ان صارفین کا کہنا تھا کہ ہر حذف شدہ تحریر کو طاقتور اداروں سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق ادارتی فیصلے، قانونی خدشات یا پلیٹ فارم کی پالیسیز بھی ایسے اقدامات کی وجہ بن سکتی ہیں، اور بغیر ثبوت قیاس آرائیاں ماحول کو مزید کشیدہ کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریر کے ہٹنے کے بعد اس کے اقتباسات اسکرین شاٹس کی صورت میں زیادہ تیزی سے پھیلنے لگے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ ڈیجیٹل دور میں کسی تحریر کو مکمل طور پر غائب کرنا ممکن نہیں رہا، اور حذف کرنے کا عمل بعض اوقات اس کے اثر کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
کچھ صحافتی حلقوں نے اس واقعے کو اداروں اور لکھنے والوں کے درمیان بڑھتے ہوئے دباؤ کی مثال قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے اظہار رائے اور ذمہ دارانہ تحریر کے درمیان توازن کی بحث سے جوڑا۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ تحریر لکھنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اسے کس پلیٹ فارم پر اور کن حدود میں شائع کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مضمون تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان میں ڈیجیٹل اظہار، آن لائن مواد کے نظم و ضبط اور ادارتی شفافیت پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا صارفین بار بار یہ سوال اٹھاتے دکھائی دیے کہ اگر کوئی تحریر ہٹائی جائے تو قارئین کو کم از کم وجہ سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
