[rank_math_breadcrumb]

خیبر پختونخوا سے افغان مہاجرین کا انخلا: ‘بزرگوں کی قبریں پختہ کروا رہے ہیں تاکہ قبرستان پر قبضہ نہ ہو’

پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، افغان مہاجرین کیمپوں کی بجلی، پانی بند کرنے کے ساتھ تعلیم اور صحت کے ادارے بند کرکے ضلعی انتظامیہ نے مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔

کیمپ خالہ کرکے افغانستان روانگی سے قبل افغان شہری اپنے بزرگوں کی قبروں کو سیمنٹ سے پکا کروارہے ہیں۔

چارسدہ کے اتمانزئی کیمپ کے قریب واقع افغان مھاجرین کے قبرستان میں کچھ افراد سمینٹ سے قبروں کو پکا کررہے ہیں اور کچھ نوجوان نام، ولدیت اور تاریخ وفات والے بورڈ قبروں پر لگا رہے ہیں۔ یہ اس لیے کررہے ہیں تاکہ جب آنے والی نسلیں اگر کبھی پاکستان آئیں تو اپنے بزرگوں کی قبروں کی شناخت کر سکیں۔

ایسے حالات میں کیمپوں میں رہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے دن ختم ہونے کو ہیں اور وہ اپنے بزرگوں کی قبروں پر جا کر آخری دعا بھی مانگ رہے ہیں۔

افغان کیمپ اتمانزئی کے انچارج نصر اللہ بھی اپنے والد کی قبر پر دعا کے لیے آئے ہیں۔

ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے نصر اللہ نے کہا: ‘ہم پاکستان میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے، کءی دہایوں تک اس ملک میں رہے۔ یہاں اچھا وقت گزارا مگر اب لگتا ہے کہ پاکستان میں دن کم ہو گئے ہیں اور اپنے اکابرین کی قبروں کو پختہ کروارہے ہیں، تاکہ کوئی قبرستان پر قبضہ نہ کرلے۔

‘قبروں پر نام اور تاریخ وفات کی تختیاں لگا رہے ہیں تاکہ مستقبل اگر ہمارے بچے آئیں تو اپنے بزرگوں کی قبریں پہچان سکیں۔’
پاکستان میں اس وقت کل 54 افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں جن میں سے 43 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں ہیں۔

مہاجرین کہتے ہیں کہ یہاں ان کی قریب تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے، افغانستان جانا، نئی زندگی شروع کرنا اور یہاں اپنے اکابرین کی قبریں چھوڑنا ان کے لیے ایک سخت مرحلہ ہے۔

اسی بارے میں: