[rank_math_breadcrumb]

کراچی میں بچے کی گٹر میں گر کر ہلاکت: بلدیہ عظمی کا تمام 46 یونین کونسلز کو گٹروں کے ڈھکن کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان

کراچی میں تین سالہ بچے ابراہیم کی کھلے گٹر میں گر کر ہلاکت کے واقعے کے بعد شہر کے میئر کی جانب سے بچے کے اہلخانہ سے معافی مانگی گئی ہے اور اسسٹنٹ کمشنر اور کراچی میونسپل کارپوریشن کے سینیئر ڈائریکٹر سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد گٹروں ڈھکن لگانے کی مد میں یونین کونسلز کو ایک لاکھ روپے کا خصوصی فنڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اعلان میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ویڈیو بیان میں کیا۔

اعلان کے مطابق شہر کی تمام 46 یونین کونسلز کو گٹروں کے ڈھکن کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
بچے کی گٹر میں گر کر ہلاکت کا واقعہ 30 اتوار کو گلشن اقبال کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ جہاں ایک نجی ڈیپارٹمنٹل سٹور کے سامنے مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش تقریباً 15 گھنٹے بعد کئی سو میٹر دور ایک کھلے گٹر سے ملی تھی۔

میئر مرتضیٰ وہاب واقعے کے کچھ دن بعد ابراہیم کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے تعزیت کی۔ اس موقعے پر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کی ذمہ داری لیتے ہیں اور بچے کے گھر والوں سے معافی چاہتے ہیں۔

پیر کو کیے گئے اعلان کے مطابق ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کے لیے دیے جاءیں گے۔
میئر کراچی کے مطابق نئے نظام کے تحت ہر یونین کمیٹی کو پہلے پانچ لاکھ روپے دیے جاتے تھے۔ اس رقم کا بنیادی مقصد گلی محلوں کے مسائل حل کرنا تھا۔

بقول مرتضی وہاب: ‘بہت سی یو سیز نے رقم درست استعمال کی، تاہم متعدد علاقوں سے رقم ناکافی ہونے اور تنخواہوں میں خرچ ہونے کی شکایات موصول ہوئیں۔ ہم نے یہ معاملہ قیادت کے سامنے رکھا، اور سندھ حکومت نے شیئر بڑھا کر بارہ لاکھ روپے کر دیا۔

‘یہ رقم روزمرہ مسائل کے حل کے لیے دی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جن کی توقع تھی۔ نیپا سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر یونین کمیٹی کو ہر ماہ ایک لاکھ روپے صرف مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔’

میئر کراچی کے مطابق یہ رقم دسمبر سے ہر یونین کمیٹی کو جاری کی جائے گی تاکہ مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔

اسی بارے میں: