پنوعاقل ضلع سکھر سے تعلق رکھنے والی فلائٹ لیفٹیننٹ مریم مختیار 18 مئی 1992 کو کرنل مختیار احمد شیخ کے گھر پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے مہران ماڈل اسکول پنوعاقل سے حاصل کی، جبکہ انٹرمیڈیٹ آرمی پبلک اسکول ملیر کینٹ کراچی سے مکمل کیا۔
بعد ازاں ان کا داخلہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ہوا۔
تعلیم کے دوران ہی مریم نے پاکستان ایئر فورس کے جی ڈی پائلٹ کورس کا امتحان پاس کیا اور 132ویں جی ڈی پی لانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ پاک فضائیہ کی تاریخ کی پہلی سندھی لڑکی تھیں جنہوں نے فائٹر پائلٹ بننے کا اعزاز پایا۔
24 نومبر 2015 کو فلائٹ لیفٹیننٹ مریم مختیار اپنے انسٹرکٹر اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی کے ہمراہ میانوالی کے قریب معمول کی تربیتی پرواز پر تھیں کہ ان کے FT-7PG ٹرینر طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ اس موقع پر انہیں ایجیکشن کا موقع ملا، مگر طیارہ آبادی کی سمت تھا۔ اگر وہ پیراشوٹ کے ذریعے باہر نکل جاتیں تو طیارہ رہائشی علاقے پر گرتا اور متعدد جانوں کے ضایع ہونے کا شدید خدشہ تھا۔
مریم نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کا رخ آبادی سے دور ویران علاقے کی سمت موڑ دیا۔ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئیں، جبکہ اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی زخمی حالت میں بچ گئے۔ مریم نے اپنی جان قربان کرکے کئی بے گناہ شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنائیں۔
قوم کی اس بہادر بیٹی کو ملیر کینٹ کے قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
ان کی شجاعت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں فوجی اعزاز ستارہ بسالت سے نوازا۔ فلائٹ لیفٹیننٹ مریم مختیار پاکستان کی پہلی شہید خاتون فائٹر پائلٹ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جان نچھاور کر کے تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔
