حال ہی میں انڈین وزیر راج ناتھ سنگھ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ آج انڈیا کے ساتھ نہیں ہے، مگر یہ ہمارے (انڈیا) کے ساتھ دوبارہ واپس آ سکتا ہے. راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان نہ صرف تاریخ کے ساتھ مذاق ہے بلکہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش بھی ہے.
سندھ نے ہمیشہ اپنی جدا شناخت، تہذیب اور تمدن برقرار رکھا ہے جو دریائے سندھ کے کناروں پر ہزاروں سالوں سے آباد ہے. یہ الگ بات ہے کہ سندھ صرف 90 سال کے لیے بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ رہا، جس سے واپس نکلنے کے لیے سندھ کے عام عوام، ادیبوں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں نے ہر محاذ پر جدوجہد کی۔
ساگا تحقیق کے لیے محقق عامر مغیری نے ‘سندھ انڈیا کا کبھی حصہ نہیں رہا’ کے عنوان پر مکمل تحقیقی جائزہ لیا ہے۔
سندھ مین انگريزوں کی آمد
اٹھارویں صدی میں تالپور حکمرانوں نے حیدرآباد کو دارالحکومت بنایا اور سندھ پر اپنی عمل داری قائم کی، لیکن اندرونی اختلافات، باہمی رسہ کشی اور کمزور ہوتی ہوئی حکومتی گرفت نے ریاست کو کمزور کر دیا۔ یہی کمزوری برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے راستہ کھولتی گئی۔
فیبروری 1843 میں سندھ میں میانی اور پھر دبی کے مقامات پر جنگیں لڑی گئیں۔ جنگوں میں جنرل چارلس نیپئر کی قیادت میں برطانوی افواج نے تالپور حکمرانوں کو شکست دی اور یوں سندھ میں براہِ راست ایسٹ انڈیا کمپنی راج کا آغاز ہوا۔
ابتدا میں سندھ کو ایک الگ صوبہ قرار دیا گیا اور 28 مارچ 1843 کو سر چارلس نیپئر کو صوبہ سندھ کا پہلا اور واحد گورنر بنایا گیا، لیکن یکم اکتوبر 1847 میں ان کے رخصت ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی کا ایک ڈویژن بنا کر مسٹر آر. کے پرنگل کو سندھ کا پہلا کمشنر مقرر کر دیا.
چارلس نیپیئر کے استعفیٰ دینے پر 15 ستمبر 1847 کو ہندوستان کے گورنر جنرل سر ہینری ہارڈنگ نے ایک حکم جاری کیا کہ چارلس نیپیئر کے رخصتی کے بعد پرنگل کو سندھ ڈویزن کا کمشنر مقرر کیا جاتا ہے۔
سندھ کو جب بمبئی کے ماتحت ایک ڈویژن کے طور پر چلایا جانے لگا تو سندھ کے عوام میں یہ احساس بڑھنے لگا کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں، جب کہ اثرات سندھ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ فاصلہ صرف جغرافیائی نہیں تھا، سیاسی اور انتظامی فاصلے بھی تھے۔
کونسلز کا قیام اور بمبئی پریزیڈنسی میں سندھ کی نمائندگی

1857 کی جنگِ آزادی نے برطانوی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858 کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی سے اقتدار براہِ راست برطانوی تاج کے ہاتھ میں آ گیا۔ جس کے فوری بعد سر سید احمد خان نے ‘اسباب بغاوت ہند’ کے ذریعے انگریز حکومت کو باور کروایا گیا کہ اگر ہندوستان پر حکومت کرنی ہے تو یہاں پر ایسی ہی آئینی اصلاحات متعارف کرائی جائیں ،جو اس وقت انگلستان میں رائج ہیں، پھر آئینی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں 1861، 1892، 1909 اور 1919 کی اصلاحات نمایاں ہیں۔

سب سے پہلے انڈین کونسلز ایکٹ 1861 کے تحت بمبئی لیجسلیٹو کونسل کو بطور مشاورتی ادارہ قائم کیا گیا۔ گورنر کو اختیار ملا کہ وہ چار ہندوستانی اراکین باضابطہ طور پر قانون ساز ادارے میں شامل ہوئے۔ نامزد کرے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ غیر انگریز ہندوستانی

تاریخ: 09-01-1896
یہ اراکین کسی قانونی بل پر بحث اور ووٹ تو دے سکتے تھے، لیکن ابھی تک انہیں حکومت سے سوال کرنے، قراردادیں پیش کرنے یا بجٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کا پورا حق حاصل نہ تھا۔
کونسل کا پہلا اجلاس 22 جنوری 1862 کو بمبئی کے ٹاؤن ہال میں ہوا، جس کی صدارت گورنر سر جارج رسل کلرک نے کی۔انڈین کونسلز ایکٹ 1892 کے ذریعے بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی رکنیت 20 تک بڑھا دی گئی اور مختلف اداروں اور طبقات کے ذریعے غیر سرکاری اراکین نامزد کیے جانے لگے، جن میں بمبئی میونسپل کارپوریشن، بمبئی یونیورسٹی کے فیلو، بمبئی و کراچی چیمبرز آف کامرس، سندھ کے زمیندار، دکن کے سردار اور دیگر شامل تھے۔

اسی اصلاح کے تحت سندھ کے لیے پہلی بار ایک باقاعدہ نشست رکھی گئی جسے ‘زمینداران و جاگیردارانِ سندھ’ کا نام دیا گیا۔ اس نشست پر میر اللہ بخش شاہوانی تالپور کو سندھ سے پہلا منتخب، نامزد رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
اس نشست میں سندھ کے زمینداروں کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا. 1892 کے بعد کونسل کو سالانہ بجٹ پر محدود دائرے میں بحث اور سوالات کا حق بھی ملا۔
اصلاحات کے تیسری مرحلے میں انڈین کونسلز ایکٹ 1909 المعروف مورلے، منٹو رفارمز نے کونسل کی رکنیت کے لیے انتخابی عمل کو جُزوی طور پر انتخابی بنیاد دی۔ براہِ راست عام ووٹ ابھی نہیں آئے تھے، اور سندھ کے لیے مختص نشستیں بڑھا کر چار کر دی گئیں۔
جن میں سندھ لوکل بورڈز، سندھ میونسپلٹیز، سندھ زمینداران و جاگیرداران اور کراچی چیمبر آف کامرس کی نشستیں شامل تھیں۔
1910 کے انتخابات میں سندھ سے چار نمایاں شخصیات منتخب ہوئیں:
سید الھندو شاہ (سندھ لوکل بورڈز) جو سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ کے دادا تھے۔
سیٹھ ہرچند رائے وشن داس (سندھ میونسپلٹیز) جو کراچی کے منتخب میئر تھے اور پہلی مرتبہ کراچی میں بجلی متعارف کرائی. کراچی نے ان کے دور میں

اپنا شاندار عروج حاصل کیا۔
بیرسٹر رئیس غلام محمد خان بھرگڑی (سندھ زمینداران و جاگیرداران)، جو بعد میں کائونسل آف اسٹیٹ کے میمبر بنے اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔
مونٹیگو ویب (کراچی چیمبر آف کامرس)۔ اس سیٹ پر کراچی کے اکثر یورپی میمبران کو ہی ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔
چوتھے مرحلے میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 کے ذریعے سندھ کو بمبئی لیجسلیٹو کائونسل میں تقریبن 19 سیٹیں ملی اور 1920 میں ہونے والے انتخابات میں مندرجہ ذیل افراد منتخب ہوکر بمبئی کائونسل کے میمبر بنے.
دیوان بہادر بھوج سنگھ گرڈنو پہلجانی (جو بعد میں سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر بنے)،
دیوان واڈھو مل ادھارام مولچند (کراچی کے مشہور وکیل اور سماجی کارکن)،
مکھی جیٹھانند پریتم داس،
سیٹھ جی ایچ قاسم المعروف غلام حسین قاسم (کراچی میونسپلٹی کے نائب صدر)،
سید نبی بخش شاہ، سر شاہنواز بھٹو (سابق وزیرِ اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے والد)،
خان بہادر غلام محمد خان اسران (سابق ایم پی اے غلام مجدد اسران کے دادا)،
خان بہادر دھنی بخش جتوئی (بزرگ سیاست دان مرحوم عبدالحمید خان جتوئی کے چچا)،
صوفی قلندر بخش (درگاہ صوفی فقیر، عمرکوٹ)،
جان محمد خان بھرگڑی (بیریسٹر رئیس غلام محمد خان بھرگڑی کے بھائی)،
خان بہادر حاجی امام بخش خان جتوئی (سابق نگران وزیرِ اعظم رئیس غلام مصطفیٰ جتوئی کے دادا)،
خان بہادر سردار شیر محمد خان بجارانی (سابق وفاقی وزیر مرحوم ہزار خان بجارانی کے دادا)،
مسٹر ایف کلیٹن،
شیخ غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ کے سابق گورنر اور وزیرِ اعلیٰ)،
خان بہادر خیر بخش لغاری(سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسیمبلی ریحانہ لغاری کا دادا)،
سید محمد کمال شاہ ولد سید قبول محمد شاہ،
سردار قیصر خان بوزدار،
پرشوتم داس ٹھاکرداس اور دیپ چند اوجھا (کراچی میں ٹی بی سینیٹوریم قائم کرنے والی مشہور سیاسی اور سماجی شخصیت) شامل تھے۔
1920 کے بعد 1923، 1926، 1929 اور 1931 میں بھی انہی اصولوں کے تحت انتخابات ہوتے رہے اور سندھ کی سیاسی قیادت اس پورے عمل میں شریک رہی۔
یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کہ سندھ کی علیحدگی کی تحریک محض جذباتی نعرے نہیں تھے، بلکہ آئینی و سیاسی عمل کے اندر سے جنم لینے والی منظم جدوجہد تھی۔
علیحدگی کی پہلی بازگشت: کراچی میں کانگریس کا اجلاس
سندھ کو 1847 میں جبری طور پر بمبئی پریذیڈنسی میں شامل کیے جانے کے بعد یہاں کے لوگوں میں رفتہ رفتہ یہ احساس بڑھتا گیا کہ بمبئی سے دوری کے سبب سندھ انتظامی توجہ اور ترقیاتی فیصلوں میں نظرانداز ہو رہا ہے۔

سر شاہنواز بھٹو کے دائیں جانب: خان بہادر عظیم خان درانی (کلکٹر ضلع حیدرآباد، سندھ)، مسٹر میر بندہ علی خان تالپور، خان بہادر محمد ایوب کھوڑو، مسٹر محمد ہاشم گزدار
سر شاہنواز بھٹو کے پیچھے: مسٹر ایس۔ ایس۔ ٹیلانی (S.S. Tilani) ،سر شاہنواز بھٹو کے بائیں جانب: سید میران محمد شاہ
سردار بہادر جام جان محمد (شیروانی میں)، خان بہادر جان محمد خان پٹھان (شیروانی میں)، خان بہادر غلام نبی شاہ (شیروانی میں)

سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا پہلا باقاعدہ مطالبہ سیٹھ ہرچند رائے وشنداس نے کیا، جو بمبئی لیجسلیٹو کونسل کے رکن اور اُس وقت کراچی کے میئر تھے۔ یہ مطالبہ آل انڈیا کانگریس کے 28 ویں سالانہ اجلاس میں سامنے آیا، جو 1913 میں کراچی میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح بھی شریک تھے۔ 26 دسمبر کو چیئرمین استقبالیہ کمیٹی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں سیٹھ ہرچند رائے وشنداس نے واضح الفاظ میں کہا کہ سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے مستقل صوبہ بنایا جائے۔
بعد کے برسوں میں نہرو رپورٹ سامنے آئی، جس میں ایک متحدہ ہندوستان اور مضبوط مرکزی حکومت کا نقشہ پیش کیا گیا۔ اگرچہ اس رپورٹ میں اقلیتوں کے کچھ حقوق کا ذکر تھا، لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے نزدیک یہ مسلمانوں کے سیاسی، تہذیبی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ناکافی تھے۔

اسی تناظر میں 1929 میں قائداعظم نے اپنے مشہور 14 نکات پیش کیے۔ ان نکات میں سے ایک اہم نکتہ سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرکے مستقل صوبہ بنانا تھا۔ یہ مطالبہ سندھ کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھا، جو برسوں سے زبان، ثقافت اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے خود کو پس منظر میں دھکیلا ہوا محسوس کر رہے تھے۔
یوں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اب صرف چند رہنماؤں کی خواہش پر نہیں رہی تھی؛ یہ برصغیر کی مرکزی سیاست کے اندر ایک تسلیم شدہ آئینی مطالبے کے طور پر ابھر چکی تھی۔
12 نومبر 1930 سے 19 جنوری 1931 تک لندن میں گول میز کانفرنسیں منعقد ہوئیں، جن میں ہندوستان کے آئینی مستقبل پر بحث ہوئی۔ ان میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنایا جائے یا نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ان کانفرنسوں میں سندھ کی علیحدگی کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔
اسی دوران سندھ کے اندر بھی بمبئی سے علہدگی کی تحریک کا زور بڑھتا گیا۔
20 اگست 1934 کو سر شاہنواز بھٹو کی زیرِ صدارت میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کے ہر گاؤں اور شہر میں جلسے اور عام اجلاس منعقد کیے جائیں، جن میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے حق میں قراردادیں منظور ہوں۔
سندھ کے دور دراز علاقوں سے ہندوستان کے سیکریٹری آف اسٹیٹ اور برطانوی وزیراعظم کے نام ٹیلی گرام بھیجی گئیں، جن میں واضح مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کو بمبئی سے الگ صوبائی حیثیت دی جائے۔
1932 میں حکومتِ ہند نے مسٹر برین کی سربراہی میں ایک کمیٹی مقرر کی، جس کا کام تھا کہ سندھ کی مالی حالت کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ دے۔ برین کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ سندھ کی مالی حالت بنیادی طور پر درست ہے۔ البتہ ابتدائی برسوں میں تقریباً 80 لاکھ روپے سالانہ اضافی خرچ آئے گا۔ اس خسارے کو پہلے 15 برس تک حکومتِ ہند برداشت کرے تو اس مدت کے بعد سندھ مالی طور پر خود مختار ہو سکتا ہے۔
اس رپورٹ نے سندھ کی علیحدگی کے آئینی مطالبے کو مالی اعتبار سے بھی مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔
مارچ 1933 میں برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستانی اصلاحات کے بل پر غور کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کی۔اس ضمن میں سندھ آزاد کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے محمد ایوب کھڑو کو اپنا نمائندہ مقرر کیا کہ وہ لندن جا کر اس کمیٹی کے سامنے سندھ کا مقدمہ پیش کریں۔ 20 جولائی کو محمد ایوب کهڑو نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ایک مفصل یادداشت تقسیم کی، جس میں دلائل اور اعداد و شمار کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا کہ: ‘سندھ کو کسی صورت بمبئی کے ساتھ جوڑے رکھنا قرینِ انصاف نہیں، اور مشترکہ انتظام کے نتیجے میں سندھ کو مالی، انتظامی اور سیاسی سطح پر نمایاں نقصان پہنچ رہا ہے’
اکتوبر 1934 میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں واضح سفارش کی گئی کہ سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے الگ صوبائی حیثیت دی جائے۔
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سندھ کو نئے صوبے کی حیثیت
1935 میں بالآخر برطانوی پارلیمنٹ نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 منظور کیا، جو اکتوبر سے نافذ العمل ہوا۔ اس قانون کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ یکم اپریل 1936 سے سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرکے ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔
سندھ کے پہلے گورنر کے طور پر سر لینسلٹ گراہم کو مقرر کیا گیا۔ انہیں مشورہ دینے کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں سر شاہنواز بھٹو، غلام حسین ہدایت اللہ اور دیوان ہیرانند شامل تھے۔
یہ تاریخی کامیابی محض آئینی کاغذ پر نہیں لکھی گئی تھی؛ اس کے پیچھے برسوں پر محیط عوامی تحریک، جلسے جلوس، تاروں کی مہم، دلائل پر مبنی یادداشتیں، اور سندھ کے رہنماؤں کی مسلسل سیاسی جدوجہد کارفرما تھی۔
سندھ کی علیحدگی کی اس تحریک میں جن رہنماؤں نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں شیخ عبدالمجید سندھی،سر شاہنواز بھٹو، قائداعظم محمد علی جناح، سر آغا خان، سید ميران محمد، حاجی عبداللہ ہارون اور جی ایم سید شامل ہیں۔
ساگا تحقیق سے یہ ثابت ہوگیا کہ انڈین وزیر راج ناتھ سنگھ کا متنازعہ بیان جھوٹ پر منبی ہے اور سندھ تاریخی طور پر کبھی انڈیا کا حصہ نہیں رہا۔

