پردۂ ادراک کے اُس پار: راون، رام اور دیوالی کی فراموش شدہ روشنی

رام

ہندو مت کا دسہرا گزر چکا ہے اور دیوالی کی آمد آمد ہے۔ یہ ہیمنت کا موسم ہے، خزاں اور سرما کے درمیان وہ دل آویز ساعتیں جب گرمیوں کی جھلسا دینے والی تپش رخصت ہو چکی ہوتی ہے، برسات کے بادل افق کے پار جا چکے ہوتے ہیں اور زمین موسم سرما کے استقبال کے لیے اپنا دامن سنوارنے لگتی ہے۔

برصغیر کے قدیم اور زرخیز میدانوں میں انسانی محنت کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ دھان کی سنہری بالیاں اپنے دانوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہیں، کپاس کے سفید پھول کھل اٹھے ہیں، گنے کے بلند و بالا کھیت ہواؤں کے ساتھ جھوم رہے ہیں، جبکہ مکئی، باجرہ، جوار اور مونگ کی فصلیں خریف کی کٹائی اور خوش حالی کی نوید سنا رہی ہیں۔

ہواؤں میں نرمی اتر رہی ہے، شامیں خنک ہونے لگی ہیں اور زمین، جس نے اپنے سینے میں کسان کے پسینے کو محفوظ رکھا تھا، اب اس محنت کا صلہ اناج، آسودگی اور امید کی صورت میں لوٹانے کو تیار ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت خود جشن منا رہی ہو۔

لیکن دیوالی کے ہزاروں چراغوں کی جھلملاہٹ کے نیچے تاریخ کا ایک سوال صدیوں سے خاموش کھڑا ہے۔ کیا یہ چراغ پہلی بار چودہ برس کی جلاوطنی سے لوٹنے والے کسی شہزادے کے استقبال میں روشن کیے گئے تھے، یا ان کی روشنی اس سے بہت پہلے برصغیر کی قدیم بستیوں، کسانوں کے گھروں اور لہلہاتے کھیتوں کو منور کرتی رہی تھی، جب کسی بادشاہ کی واپسی کی داستان ابھی اس تہوار کے ساتھ وابستہ نہیں ہوئی تھی؟ اور ہر سال دسہرے کے موقع پر آگ کے شعلوں میں جل کر راکھ ہونے والے راون کے بلند قامت پتلے کے پیچھے بھی ایک دوسرا، شاید اس سے زیادہ بے چین کرنے والا سوال موجود ہے۔

کیا راون واقعی محض برائی کا وہ خوفناک مجسمہ تھا جس سے نفرت کرنا نسل در نسل ہمیں سکھایا گیا، یا اس معروف روایت کے پردے میں کسی ایسے طاقتور، علم دوست اور غیرمعمولی حکمران کی یادیں بھی پوشیدہ ہیں جس کی شکست کو مختلف قوموں اور برادریوں نے مختلف معنوں میں یاد رکھا؟

یہ سوال ہمیں فلسفے کے ایک نہایت دلچسپ مسئلے کی طرف لے جاتے ہیں: حقیقت اور اس حقیقت کے درمیان فاصلہ جسے ہم حقیقت سمجھتے ہیں۔ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ذہن میں نہ کوئی مذہبی صحیفہ ہوتا ہے، نہ ثقافتی تعصب، نہ نسلی وفاداریاں اور نہ ہی ہیرو اور ولن کے بارے میں پہلے سے طے شدہ فیصلے۔ بچہ کسی خاندان، مذہب، زبان، ذات، علاقے اور معاشرے میں پیدا ہوتا ہے۔

ابھی وہ اپنی عقل سے سوال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل نہیں کر پاتا کہ اس کے اردگرد کی دنیا اسے جواب فراہم کرنا شروع کر دیتی ہے۔ کچھ کردار مقدس قرار پاتے ہیں اور کچھ شیطانی؛ بعض فتوحات جشن کا سبب بن جاتی ہیں، جبکہ بعض شکستوں کو ہمیشہ کے لیے نفرت اور ملامت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

یوں انسان کی آزاد فہم و فراست بیدار ہونے سے پہلے ہی اس کے تصور کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔

یہیں فلسفے کا وہ مسئلہ سامنے آتا ہے جسے عموماً ’پردۂ ادراک‘ (Veil of Perception) کہا جاتا ہے اور جسے انگریز فلسفی جان لاک (John Locke، 1632–1704) کے افکار سے منسلک کیا جاتا ہے۔ لاک نے اپنی معروف تصنیف ’انسانی فہم کے بارے میں ایک مقالہ‘ (An Essay Concerning Human Understanding، 1690) میں یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ انسانی علم تجربے سے کس طرح جنم لیتا ہے اور ذہن خیالات اور حواس کے ذریعے دنیا کو کیسے محسوس کرتا ہے۔

یہ سوال فلسفے کی ایک وسیع روایت سے بھی جڑا ہوا ہے، جس میں افلاطون (Plato، تقریباً 428/427–348/347 قبل مسیح) نے اپنی مشہور تمثیلِ غار کے ذریعے سائے اور گہری حقیقت شناسی کے درمیان فرق واضح کیا؛ ڈیوڈ ہیوم (David Hume، 1711–1776) نے انسانی استدلال اور سبب و نتیجے کے بارے میں یقین کی حدود پر سوال اٹھائے؛ جبکہ ایمانوئل کانٹ (Immanuel Kant، 1724–1804) نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ انسانی ذہن کی ساخت ہمارے تجربے اور علم پر کیا حدود عائد کرتی ہے۔

ان فلسفیوں کے نظریات ایک جیسے نہیں تھے، لیکن ان کی فکری جستجو ہمارے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتی ہے: جس دنیا کو ہم پورے یقین کے ساتھ حقیقت کہتے ہیں، اس میں کتنی دنیا اپنی اصل صورت میں موجود ہے اور کتنی ہمارے ذہن، تربیت اور سیکھے ہوئے تصورات کی تشکیل کردہ ہے؟

رام اور راون کی داستان اس سوال کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت دلچسپ پس منظر فراہم کرتی ہے۔ رامائن کی معروف روایت کے مطابق لنکا کا طاقتور بادشاہ راون میدانِ جنگ میں مارا جا چکا ہے۔ اس کا اپنا بھائی وبھیشن رام کا ساتھ دے چکا ہے اور رام، لکشمن اور سیتا چودہ برس کے بن باس کے بعد ایودھیا واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

راون کی شکست کو دھرم کی فتح اور برائی کے خاتمے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ رام کی واپسی کو ایک معروف مذہبی روایت کے مطابق ہزاروں چراغ روشن کرکے استقبال کرنے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ داستان صدیوں کا سفر طے کرکے مندروں اور گھروں تک پہنچی، شاعری اور ڈراموں کا موضوع بنی اور کروڑوں انسانوں کی مذہبی اور ثقافتی زندگی کا حصہ بن گئی۔ لیکن ادب، خواہ کتنا ہی مقدس اور اثرانگیز کیوں نہ ہو، آزاد اور قابلِ تصدیق تاریخی شواہد کا متبادل نہیں بن سکتا۔

معروف روایات سے ہٹ کر راون کون تھا؟ یہ فیصلہ کس نے کیا کہ اس کی شکست کو ہمیشہ نیکی کی فتح سمجھا جائے؟ اور آخر بعض برادریاں اسے نفرت کے بجائے عزت و احترام سے کیوں یاد کرتی ہیں؟ سنسکرت کی قدیم رزمیہ روایات میں بھی راون کوئی معمولی ولن نہیں ہے۔

اسے ایک طاقتور حکمران، غیرمعمولی علم رکھنے والے شخص، شِو کے عقیدت مند اور بے پناہ طاقت کے مالک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کی علمی اور سیاسی حیثیت کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے دس سر، جو مذہبی تصویروں اور عوامی تخیل میں مشہور ہیں، بعض تشریحات میں وسیع علم اور ذہنی صلاحیتوں کی علامت بھی سمجھے گئے ہیں، اگرچہ مختلف روایات ان کی الگ الگ توضیحات پیش کرتی ہیں۔

اتنے پیچیدہ اور ہمہ جہت کردار کو محض ایک رنگین پتلے میں تبدیل کرکے آگ کے حوالے کر دینے سے اس کی پوری ادبی اور ثقافتی پیچیدگی ختم نہیں ہو جاتی۔

متعدد دراوڑی، دلت اور آدیواسی تعبیرات میں راون محض مخالف کردار نہیں بلکہ علم، وقار، مزاحمت اور ثقافتی شناخت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ بعض لوگ اسے ایک قدیم مقامی حکمران کی نمائندگی کرنے والی شخصیت سمجھتے ہیں جس کی یاد بعد کی مذہبی روایات میں تبدیل ہوتی رہی۔ یہ تعبیرات سنجیدہ مطالعے کی مستحق ہیں، اگرچہ آثارِ قدیمہ ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکے کہ راون واقعی تاریخ میں موجود کوئی قابلِ شناخت دراوڑی یا آدیواسی بادشاہ تھا، یا رامائن دو قدیم نسلی قوموں کے درمیان ہونے والی کسی ثابت شدہ جنگ کا تاریخی بیان ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی قوم کی ثقافتی یادداشت تاریخی اہمیت ضرور رکھتی ہے، لیکن وہ خودبخود اس میں بیان کردہ واقعات کی لفظی صداقت کا ثبوت نہیں بن جاتی۔

جن برادریوں کے لیے راون ان کی ثقافتی شناخت اور تاریخی یادداشت کا حصہ ہے، ان کے لیے دسہرا شاید وہ غیرمشروط خوشی لے کر نہیں آتا جو رام کی فتح منانے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ راون کے پتلے کو جلانا ان کے نزدیک کسی محترم کردار کی تذلیل یا کسی فراموش شدہ شکست کی یاد بن سکتا ہے۔

ایک روایت جس واقعے کو برائی کے خاتمے کے طور پر مناتی ہے، دوسری روایت اسی واقعے کو اپنی عزت اور شناخت سے وابستہ سوال کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔ شاید رامائن کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ کبھی ایک ہی آواز تک محدود نہیں رہی۔ ہندوستان، سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اس کے کردار، اخلاقی فیصلے اور داستان کے زاویے زبانوں، مذاہب، علاقوں اور سماجی تجربات کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔

بہت سی عقیدت مند روایات میں رام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، لیکن راون نے بھی ایسے معنی اختیار کیے ہیں جنہیں کسی ایک معروف تشریح میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

اور پھر آتی ہے دیوالی، اپنے چراغوں، عبادتوں، خوشیوں اور نئی امیدوں کے ساتھ۔ بجلی کی روشنیوں کے راتوں کو دن میں بدلنے سے بہت پہلے زرعی معاشرے فطرت کے عظیم تقویمی نظام کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ ان کی بقا بارشوں کی آمد، بیج بونے، فصلوں کی نگہداشت اور کامیاب کٹائی سے وابستہ تھی۔

برسات کی رخصتی اور سرد موسم کی آمد محض موسم کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ زندگی کی بقا کی جدوجہد میں ایک اہم موڑ تھی۔ مختلف علاقوں میں خریف کے زرعی چکر سے دھان، کپاس، مکئی، باجرہ، جوار، مونگ اور گنے جیسی فصلیں وابستہ تھیں، اگرچہ ہر فصل کے پکنے اور کٹائی کا وقت الگ ہوتا تھا۔ کسان کے لیے یہ محض تجارتی اجناس نہیں تھیں بلکہ بچوں کی خوراک، خاندان کی سلامتی، قرضوں کی ادائیگی اور آنے والے سال کی امید کا سہارا تھیں۔ ایسی فراوانی کا استقبال چراغ جلا کر، گیت گا کر، مل بیٹھ کر کھانا کھا کر، دعائیں مانگ کر اور قدرت کا شکر ادا کرکے کرنے سے زیادہ فطری بات اور کیا ہو سکتی تھی؟

دیوالی کا تاریخی ارتقا ایک ایسی ہی متنوع اور تہہ دار ثقافتی دنیا کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس تہوار کے روابط موسموں کی تبدیلی، زرعی خوش حالی، چراغاں، لکشمی کی پوجا، راجا بلی کی یاد اور کئی دوسری مذہبی روایات سے ملتے ہیں۔ اس کے معنی کسی ایک داستان سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

یوں ایک دلچسپ تاریخی امکان سامنے آتا ہے کہ چراغ جلانے اور موسمی خوش حالی کی رسومات شاید قدیم اور ایک دوسرے سے مربوط روایات سے بتدریج پروان چڑھی ہوں، اور رام کی ایودھیا واپسی کی داستان بعد میں ان کی معروف تشریحات میں سے ایک بن گئی ہو۔ خاص بات یہ ہے کہ والمیکی رامائن کی بنیادی روایت میں رام کی واپسی کو واضح طور پر دیپاوالی کے تہوار کے طور پر شناخت نہیں کیا گیا۔

دوسری ادبی اور مذہبی روایات میں اس تہوار کے مختلف روابط ملتے ہیں۔ اس سے رام کی واپسی کی مذہبی اہمیت ختم نہیں ہوتی، لیکن یہ تصور ضرور سوال کی زد میں آتا ہے کہ دیوالی کی پوری تاریخ صرف اسی ایک واقعے سے شروع ہوئی۔

اس کے ساتھ تاریخی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم یقین کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ رام نے جان بوجھ کر پہلے سے موجود کسی فصلوں کے تہوار کو اپنی واپسی کے لیے منتخب کیا تھا، یا لکشمی پوجا لازماً رامائن میں بیان کردہ واقعات سے پہلے رائج تھی۔ ایسے دعووں کے لیے تاریخی ترتیب اور شواہد درکار ہیں جو موجودہ مآخذ پوری طرح فراہم نہیں کرتے۔

تاہم اس تہوار کی وسیع تاریخ اپنی جگہ نہایت دلچسپ ہے۔ دولت اور خوش حالی کی دیوی لکشمی کو دیوالی کی متعدد مذہبی رسومات میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ کسان اپنی فصلوں کی فراوانی منا سکتے تھے، تاجر نئے مالی سال کا استقبال کر سکتے تھے، خاندان سکون اور خوش حالی کی امیدیں وابستہ کر سکتے تھے اور عقیدت مند اپنی مذہبی روایات کے مطابق عبادت کر سکتے تھے۔

مختلف برادریوں میں ایک ہی تہوار نے نئے معنی اختیار کیے اور ہر دور نے اس کے ثقافتی ورثے میں ایک نیا رنگ شامل کیا۔ اس لیے دیوالی کے چراغ ایودھیا کے دروازوں سے کہیں زیادہ وسیع تاریخ کو روشن کرتے ہیں۔

ان سوالات کی تحقیق کے لیے تحریری علمی مآخذ اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ پی۔ کے۔ گوڈے (P. K. Gode، 1891–1961) نے دیوالی سے متعلق اپنی تاریخی تحقیق میں اس تہوار کے موسمی، زرعی اور مذہبی روابط کا جائزہ لیا۔ پاؤلا رچمین (Paula Richman) کی مرتب کردہ کتاب ’مینی رامائنز: جنوبی ایشیا میں ایک داستانی روایت کا تنوع‘ (Many Ramayanas: The Diversity of a Narrative Tradition in South Asia، 1991) میں رامائن کی مختلف روایات اور ان کی حیرت انگیز کثرت پر علمی مطالعات جمع کیے گئے ہیں۔

پیریار ای۔ وی۔ راماسامی (Periyar E. V. Ramasamy، 1879–1973) نے اپنی کتاب ’دی رامایانا: اے ٹرو ریڈنگ‘ (The Ramayana: A True Reading) میں دراوڑی سماجی اصلاحات کے نقطۂ نظر سے رام اور راون کی روایتی تصویروں کو چیلنج کیا، جبکہ اوشو (Osho، 1931–1990) نے بھی اپنے فلسفیانہ خطبات میں وراثت میں ملنے والے مذہبی فیصلوں پر سوال اٹھائے اور راون کی غیرمعمولی علمی حیثیت کی طرف توجہ دلائی۔

یہ تحریریں اجتماعی طور پر کسی ایک متبادل داستان کو آخری تاریخی حقیقت ثابت نہیں کرتیں، لیکن ضرور بتاتی ہیں کہ موروثی روایات کو ادب، تقابلی مطالعے، عقل اور شواہد کی روشنی میں پرکھنا کس قدر ضروری ہے۔

فکری سوال اٹھانے کی یہ روایت سندھ کی سرزمین کے لیے بھی اجنبی نہیں۔ دریائے سندھ کی یہ دھرتی، جس نے دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک کو اپنی آغوش میں پروان چڑھایا، ترقی پسند فکر، عقلی تحقیق، ادبی مزاحمت اور سماجی تنقید کی ایک توانا روایت کی بھی امین رہی ہے۔ جی۔ ایم۔ سید (1904–1995)، رسول بخش پلیجو (1930–2018)، محمد ابراہیم جویو (1915–2017)، سوبھو گیانچندانی (1920–2014) اور شیخ ایاز (1923–1997) نے اپنے اپنے منفرد فکری، ادبی اور سیاسی سفر کے ذریعے شناخت، سماجی انصاف، روایتی اختیار، انسانی وقار اور آزادیِ فکر کے مباحث میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے نظریات اور فکری راستے یکساں نہیں تھے، اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ان سب نے راون یا دیوالی کے بارے میں کسی ایک مخصوص تعبیر کی حمایت کی تھی۔ تاہم ان کا وسیع فکری ورثہ اس روایت سے تعلق رکھتا ہے جو معاشرے کے ہر موروثی بندوبست کو سوال سے بالاتر نہیں سمجھتی۔

جویو کی تعلیم اور ذہنی بیداری سے وابستگی، جی۔ ایم۔ سید کی سندھ کی تاریخی و ثقافتی شناخت کے بارے میں نئی فکری تعبیرات، سوبھو گیانچندانی کا ترقی پسند اور انسان دوست نقطۂ نظر، شیخ ایاز کی شاعری میں ظلم کے خلاف بغاوت، اور رسول بخش پلیجو کی طبقے، ثقافت، تاریخ اور سماجی آزادی سے متعلق تحریریں اور سیاسی جدوجہد، سب تنقیدی شعور کی طرف جانے والے مختلف راستوں کو روشن کرتی ہیں۔

ان کا فکری ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی تہذیب کی تاریخ صرف بادشاہوں، مذہبی پیشواؤں، فاتحین اور حکمران طبقات کے بیانات سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ کسانوں، محنت کشوں، عورتوں، آدیواسی برادریوں اور اقتدار سے محروم رکھے گئے انسانوں کے تجربات کو بھی سننا ضروری ہے۔ کیونکہ ماضی صرف مشہور حکمرانوں اور شکست خوردہ دشمنوں کا جلوس نہیں، بلکہ ان بے شمار انسانوں کی اجتماعی یادداشت ہے جنہوں نے اپنی محنت سے شہر آباد کیے، زمینیں کاشت کیں، زبانوں کو زندہ رکھا اور تہذیب کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچایا۔

یہیں ہم دوبارہ پردۂ ادراک کی طرف لوٹتے ہیں۔ ایک مذہبی روایت میں پیدا ہونے والا بچہ رام کو نیکی کا مجسمہ اور راون کو برائی کی علامت سمجھ کر بڑا ہو سکتا ہے۔ کسی دوسری ثقافتی یادداشت میں پرورش پانے والے بچے کو راون کا زیادہ ہمدردانہ اور باوقار تصور مل سکتا ہے۔ دونوں بچے یکساں خلوص کے ساتھ اپنے ابتدائی عقائد قبول کر سکتے ہیں، حالانکہ ابھی ان میں سے کسی نے اصل متون نہیں پڑھے ہوتے، تاریخی شواہد کا جائزہ نہیں لیا ہوتا یا مختلف تعبیرات سے واقفیت حاصل نہیں کی ہوتی۔ مسلسل تکرار سے عقیدہ مانوس ہو جاتا ہے،

مانوسیت یقین میں بدلتی ہے، یقین شناخت بن جاتا ہے، اور جب شناخت کو غور و فکر کے بغیر محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے تو وہ سمجھ بوجھ کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔

لیکن کوئی بات محض بار بار دہرانے سے سچ نہیں بن جاتی، اور نہ ہی کوئی قدیم روایت صرف اس لیے جھوٹی ہو جاتی ہے کہ وہ وراثت میں ملی ہے۔ سوال کرنا لازماً انکار نہیں، تحقیق کرنا لازماً بے ادبی نہیں، اور کسی مقدس روایت کو تاریخی نگاہ سے دیکھنے کا مطلب اس روحانی اہمیت کی نفی کرنا نہیں جو وہ اپنے عقیدت مندوں کے لیے رکھتی ہے۔

اصل چیلنج دیومالا، عقیدے، ثقافتی یادداشت، ادبی تخیل اور قابلِ تصدیق تاریخی حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھنا ہے۔ پردۂ ادراک اٹھانے کا مقصد رام کی عقیدت کو راون کی اندھی عقیدت سے بدل دینا نہیں، کیونکہ ایسا کرنا محض ایک موروثی یقین کی جگہ دوسرا یقین قائم کرنا ہوگا۔ اصل مقصد وہ حوصلہ پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے ہم خود سے پوچھ سکیں کہ ہمارے فیصلے آزاد فہم و فراست کا نتیجہ ہیں یا ان دنیاؤں کے غیرمرئی اثرات کے تحت تشکیل پائے ہیں جن میں ہم پیدا ہوئے۔

ممکن ہے کہ برصغیر کی معروف مذہبی داستانوں کی تہوں کے نیچے زرعی برادریوں کی قدیم یادیں، موسمی تہوار، سیاسی کشمکش، ثقافتی میل جول اور خوش حالی کے لیے انسان کی لازوال خواہش پوشیدہ ہو۔ ان میں سے بعض یادیں قدیم متون اور علاقائی لوک ادب میں محفوظ رہ گئی ہوں، بعض صدیوں کے مذہبی تخیل کے ساتھ تبدیل ہو گئی ہوں، اور بعض شاید ہمیشہ کے لیے تاریخی یقین کی دسترس سے باہر رہ جائیں۔ لیکن غیر یقینی کیفیت تحقیق ترک کرنے کی دلیل نہیں، بلکہ زیادہ احتیاط اور سنجیدگی کے ساتھ جستجو جاری رکھنے کا تقاضا ہے۔

اور اب، جب ہیمنت کی آمد قریب ہے، زمین اپنے ازلی کام میں مصروف ہے۔ دھان کی بالیاں پک رہی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ کسان سے اس کا مذہب پوچھیں۔ کپاس کے پھول ذات پات سے بے خبر کھل رہے ہیں۔ گنا اسی سورج کی روشنی میں مٹھاس سمیٹ رہا ہے جو مندر، مسجد، خانقاہ اور گاؤں کے کچے گھر پر یکساں چمکتا ہے۔

برسات کے بادل بادشاہوں کی اولاد اور محنت کشوں کے بچوں میں فرق نہیں کرتے، اور بدلتے موسم انسانی تعصب کی کھینچی ہوئی سرحدوں کو نہیں پہچانتے۔ دیوالی کے چراغ خواہ عظیم الشان مندروں اور شاہی محلوں کو روشن کریں، ان کی روشنی ان سادہ گھروں تک بھی پہنچتی ہے جن کے رہنے والوں کے ہاتھوں نے زمین کو آباد کیا ہے۔

شاید روشنی کا سب سے گہرا جشن محض کسی پتلے کو جلانے، کسی موروثی فتح کو دہرانے یا ہزاروں گھروں کو چراغاں کرنے تک محدود نہیں۔ شاید اس کا اصل مفہوم انسانی ذہن کو روشن کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آئیے، چراغ ان فصلوں کے نام روشن کریں جنہوں نے زمین کا دامن بھرا، اور ان ہاتھوں کے نام جنہوں نے انہیں بویا اور کاٹا۔

چراغ ان قدیم مقامی قوموں کے وقار کے لیے جلیں جن کی تاریخ کے بہت سے اوراق ابھی پڑھنا باقی ہیں۔ یہ چراغ قدیم تہذیبوں کے رنگارنگ ورثے، مختلف روایات میں محفوظ دانائی، سوال کرنے کی آزادی اور موروثی عقیدے کو تاریخی ثبوت سے الگ پہچاننے کے حوصلے کے لیے روشن ہوں۔

ان کی روشنی عقیدے اور تاریخ، یادداشت اور شواہد، وراثت میں ملی ہوئی دنیا اور ابھی سمجھی جانے والی دنیا کے درمیان موجود فاصلے کو منور کرے۔

کیونکہ سب سے گہری تاریکی ہمیشہ روشنی کی عدم موجودگی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ کسی ایسے عقیدے کی صورت میں موجود ہوتی ہے جو ہمارے ذہن میں اتنی گہری جڑیں جما چکا ہوتا ہے کہ ہم اس پر سوال اٹھانا ہی بھول جاتے ہیں۔

اور شاید سب سے بڑی دیوالی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے گھر کی دہلیز پر ایک اور چراغ جلانے کے ساتھ اپنے ذہن میں بھی سوال کا پہلا چراغ روشن کرتا ہے، پردۂ ادراک اٹھاتا ہے اور کھلی آنکھوں سے اس داستان سے آگے دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے جسے بچپن سے اسے حقیقت سمجھایا گیا تھا۔

اسی بارے میں: