میر رضا علی کی موت کی تحقیقات: عدالتی کمیشن کے سامنے بزنس پارٹر کا نام سامنے آگیا

میر رضا علی

کراچی میں کاروباری شخصیت میر رضا علی خان کی موت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں ابتدائی پولیس تفتیش، طبی معائنے، فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اور ڈیجیٹل معلومات کو محفوظ کرنے کے طریقہ کار پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

15 اکتوبر 2026 کو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ منگل کی شام جاری کی گئی۔

رپورٹ میں طبی معائنے کے نتائج میں اختلاف، جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی کارتوس کا سکیورٹی گارڈ کے اسلحے سے مطابقت نہ رکھنا اور ڈیجیٹل شواہد کی تحویل سے متعلق مسائل بھی درج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت کے حالات، ابتدائی تفتیش کی شفافیت اور پولیس، طبی عملے یا دیگر متعلقہ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے ممکنہ غفلت، بدعنوانی، شواہد میں ردوبدل یا قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کا مؤقف اختیار کیا، تاہم اہل خانہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔ بعد ازاں سامنے آنے والے طبی اور فرانزک شواہد نے ابتدائی مؤقف کی مزید جانچ کی ضرورت پیدا کی۔

رپورٹ میں انکوائری کے چار بنیادی مقاصد بیان کیے گئے۔ ان میں میر رضا کی موت کے حالات کا تعین، یہ جانچنا کہ تفتیش قانون کے مطابق اور غیر جانب دارانہ انداز میں ہوئی یا نہیں، متعلقہ پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینا اور مزید فرانزک یا قانونی تحقیقات کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی کرنا شامل تھا۔

میر رضا علی کون تھے؟

رپورٹ کے مطابق میر رضا علی خان آٹھ دسمبر 2000 کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے حبیب پبلک اسکول سے تعلیم حاصل کی، بعد ازاں الفا کالج سے  اے لیولز مکمل کیے اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں تعلیم حاصل کی۔

رپورٹ میں انہیں کاروباری ذہن رکھنے والا، متحرک اور اپنے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں دلچسپی رکھنے والا نوجوان قرار دیا گیا ہے۔ وہ تعلیم کے دوران تدریسی معاون کے طور پر کام کرتے، تعلیمی مقالوں کی جانچ میں حصہ لیتے اور کاروباری مواقع تلاش کرتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا اور ان کے بچپن کے دوست احمد بھردے نے 2020 میں وافلکس (Wafflix) کے نام سے کاروبار شروع کرنے کا تصور پیش کیا۔ ابتدا میں ایک چھوٹی فوڈ کارٹ سے شروع ہونے والا یہ کاروبار بعد میں تین بڑے فوڈ فیسٹیولز اور تقریبات تک پھیل گیا۔ وقت کے ساتھ کاروبار میں کیٹرنگ اور کلاؤڈ کچن بھی شامل ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 تک وافلکس کے کراچی میں دو آؤٹ لیٹس تھے، جبکہ بہادرآباد اور نارتھ ناظم آباد میں اس کے دو کلاؤڈ کچن بھی کام کر رہے تھے۔ کمپنی کے مینو میں 200 سے زائد اشیا شامل تھیں۔

27 جولائی کی رات سے میر رضا کی نقل و حرکت

عدالتی رپورٹ میں 27 اور 28 جولائی 2026 کے دوران میر رضا علی کی نقل و حرکت، فون کالز، پیغامات اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کی تفصیلات درج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 27 جولائی کی رات 11 بج کر 24 منٹ پر میر رضا کو رزاق کی کال موصول ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے احمد بھردے سے رابطہ کیا اور رات کے مختلف اوقات میں کئی افراد سے فون پر بات کی۔

رات 11 بج کر 52 منٹ کے بعد انہوں نے سلیم بن طاہر کو واٹس ایپ پیغام بھیجا، جس میں تین کروڑ روپے کا ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ کچھ ایسا ہونا ہے جس کے لیے رقم درکار تھی، تاہم صبح تک رقم تیار نہیں تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ 28 جولائی کی درمیانی شب تقریباً ایک بجے میر رضا نے غفار کباب ہاؤس میں رزاق کے ساتھ کھانا کھایا۔

رات دو بج کر 13 منٹ پر انہوں نے علی جمانی کو فون کیا، جبکہ دو بج کر 23 منٹ پر عبداللہ بھردواج کی کال موصول ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 28 جولائی کی صبح تقریباً تین بجے میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر فعال ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں ان کی قریبی دوست سلوٰی خان کو تشویش ہوئی اور انہوں نے واٹس ایپ پر رابطے کی کوشش شروع کی۔

صبح تین بج کر 57 منٹ پر بائیکیا کے ڈرائیور اسداللہ کو میر رضا کے موبائل نمبر سے آن لائن سواری کی درخواست موصول ہوئی۔ تقریباً چار بجے میر رضا نے بائیکیا کی سواری بک کی۔

رپورٹ میں درج ہے کہ صبح چار بج کر سات منٹ پر اسداللہ نے انہیں چیس ویلیو، بلاک 2، پی ای سی ایچ ایس سے پک کیا۔

اسی دوران میر رضا کے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے رابطے کی کوششیں جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلوٰی خان نے انہیں متعدد بار فون کیا، تاہم جواب موصول نہیں ہوا۔

صبح چار بج کر 28 منٹ پر میر رضا کو گلستان جوہر کے علاقے میں یونائیٹڈ چارٹرڈ اسکول کے قریب دیکھا گیا۔ اس کے بعد وہ یونیورسٹی روڈ اور قِلہ اسٹریٹ کی جانب جاتے دکھائی دیے۔

رپورٹ کے مطابق ان کی آخری مرتبہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجودگی صبح چار بج کر 38 منٹ اور 27 سیکنڈ پر ہل ویو روڈ کے ایک رینٹ اے کار دفتر کے کیمرے میں ریکارڈ ہوئی۔

صبح پانچ سے سات بجے کے درمیان میر رضا کے دوستوں اور ساتھیوں نے انہیں تلاش کیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ فیروزآباد تھانے بھی گئے، لیکن وہاں گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔

بعد ازاں میر رضا کے والد نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی اور تلاش کے لیے اقدامات کیے گئے۔

29 جولائی کو لاش ملنے کا واقعہ

رپورٹ کے مطابق 29 جولائی 2026 کو صبح تقریباً ساڑھے دس بجے میر رضا کے اہل خانہ کو بائیکیا کی جانب سے ڈراپ آف مقام کی اطلاع ملی۔ اہل خانہ گلستان جوہر میں وافلکس کے کلاؤڈ کچن کے قریب پہنچے، جہاں ایک سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ ممکنہ طور پر قریب موجود دو گیسٹ ہاؤسز میں کچھ سراغ مل سکتے ہیں۔

اسی روز تقریباً 11 بج کر 52 منٹ پر مالی اور دیگر افراد نے یونیورسٹی روڈ پر مسجدِ خضرا کے قریب ایک لاش دیکھی۔ رپورٹ میں اس مقام کو بلاک 1، گلستان جوہر کے علاقے میں بیان کیا گیا ہے۔

دوپہر 12 بج کر 24 منٹ پر پولیس اہلکار موقع پر پہنچے، جبکہ 12 بج کر 41 منٹ پر متعلقہ پولیس افسر نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور تصاویر بنائیں۔

رپورٹ کے مطابق دوپہر 12 بج کر 49 منٹ پر ایدھی ایمبولینس کا عملہ پہنچا۔ لاش کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر ضروری کارروائی کے بعد لاش جناح ہسپتال منتقل کی۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ لاش کی شناخت کے عمل میں تاخیر ہوئی اور ابتدائی طور پر اسے فنگر پرنٹ شناختی آلے کے ذریعے شناخت نہیں کیا گیا۔

دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے ڈاکٹر اسامہ شیخ نے پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے بائیں سینے پر گولی داخل ہونے اور پشت پر گولی نکلنے کا زخم درج کیا۔ ان کے مطابق جسم پر داخلے کا زخم تقریباً 1.8 ضرب 1.6 سینٹی میٹر اور اخراج کا زخم تقریباً ایک ضرب 1.2 سینٹی میٹر تھا۔

ڈاکٹر اسامہ شیخ نے موت کا سبب شدید خون بہنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صدمے کو قرار دیا۔ انہوں نے جسم سے نمونے حاصل کیے، جن میں قمیض اور دونوں ہاتھوں کے نمونے بھی شامل تھے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم پر اعتراضات

رپورٹ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں کئی اہم خامیاں سامنے آئیں۔ پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید نے 3 اگست کو ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے 14 خامیوں کی نشاندہی کی۔

ان خامیوں میں گولی لگنے کے زخم کی مکمل تفصیلات درج نہ کرنا، زخموں کی مناسب تصاویر نہ بنانا، گولی کے داخلے اور اخراج کے مقامات کی مکمل دستاویز بندی نہ کرنا اور گولی کے جسم سے گزرنے کی سمت سے متعلق ضروری معلومات کی عدم موجودگی شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق پولیس سرجن نے ابتدائی معائنے کے طریقہ کار پر وضاحت طلب کی۔ 4 اگست کو انہوں نے متعلقہ طبی عملے کے سامنے بھی ان خامیوں کی نشاندہی کی۔

بعد ازاں میر رضا کے اہل خانہ نے دوبارہ طبی معائنے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق 6 اگست کو مجسٹریٹ نے دوبارہ معائنے کی اجازت دی اور خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔

آٹھ اگست کو مجسٹریٹ، ڈاکٹروں اور متعلقہ پولیس افسران کی موجودگی میں لاش کا دوبارہ معائنہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس موقع پر جسم سے مزید نمونے حاصل کیے گئے اور طبی معائنے کی تفصیلات دوبارہ درج کی گئیں۔

خصوصی میڈیکل بورڈ کی عبوری رپورٹ میں پشت پر گولی داخل ہونے اور سامنے کی جانب گولی نکلنے کے زخم کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ کھوپڑی کے فریکچر اور پسلیاں ٹوٹنے کی نشاندہی بھی کی گئی۔

یہ نتائج ابتدائی پوسٹ مارٹم میں درج زخموں کی سمت سے مختلف تھے۔ اسی اختلاف نے موت کے حالات کے بارے میں مزید سوالات پیدا کیے۔

تاہم طبی معائنے کے نتائج میں فرق بذاتِ خود قتل کا حتمی ثبوت نہیں، بلکہ اس تضاد کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے مکمل طبی اور فرانزک تجزیے کی ضرورت ہے۔

جائے وقوعہ سے کارتوس اور ہولسٹر کی برآمدگی

رپورٹ میں جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی کارتوس اور سکیورٹی گارڈ کے اسلحے کے درمیان عدم مطابقت کو اہم تفتیشی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 10 اگست کو فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا خالی کارتوس سکیورٹی گارڈ کے رجسٹرڈ اسلحے کے خالی کارتوسوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ 31 جولائی کو اس مقام پر، جہاں لاش ملی تھی، ایک درخت سے لٹکا ہوا گن ہولسٹر دریافت ہوا۔ یہ واقعہ بھی تفتیش کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

چھ اگست کو جائے وقوعہ کو آگ لگائے جانے کا واقعہ بھی رپورٹ میں درج ہے۔ اس اندراج کے مطابق گولی کا خالی کارتوس وہاں سے ملا، لیکن جلے ہوئے حصے سے نہیں ملا۔

ان واقعات نے جائے وقوعہ کے تحفظ، شواہد کی دستیابی اور ابتدائی تفتیش کے طریقہ کار سے متعلق مزید سوالات پیدا کیے۔

رپورٹ میں ان شواہد کو موت کے سبب کے حتمی تعین کے بجائے مزید تفتیش کے قابل پہلوؤں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

قمیض اور ہاتھوں سے ملنے والے فرانزک شواہد

رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی قمیض کے نمونوں کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا۔ 11 اگست کے اندراج میں بتایا گیا کہ قمیض کی پشت پر گن شاٹ ریزیڈیو (فائرنگ کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات) کی موجودگی سامنے آئی، جبکہ سامنے کی جانب یہ باقیات نہیں ملیں۔

17 اگست کو خصوصی میڈیکل بورڈ کے جمع کردہ نمونوں کی کیمیائی رپورٹ میں میر رضا کے دونوں ہاتھوں سے حاصل کیے گئے نمونوں میں بھی گن شاٹ ریزیڈیو کی تصدیق درج کی گئی۔

یہ نتائج تفتیش کے لیے اہم تھے، لیکن ان سے تنہا یہ طے نہیں ہوتا کہ گولی کس نے چلائی، کس فاصلے سے چلائی گئی یا موت خودکشی تھی یا قتل۔ ان سوالات کے جواب کے لیے تمام طبی، فرانزک اور واقعاتی شواہد کا مشترکہ تجزیہ ضروری ہے۔

رپورٹ میں خون کے نمونے کے کیمیائی تجزیے کا بھی ذکر ہے۔ 11 اگست کے اندراج کے مطابق خون کے نمونے میں بُوپی ویکین (Bupivacaine)  پائی گئی۔ تاہم دستیاب صفحات میں اس مادے کی موجودگی کی وجہ اور موت کے حالات سے اس کے ممکنہ تعلق کی حتمی تشریح موجود نہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد

عدالتی کمیشن نے میر رضا علی کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ، ایپل واچ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق بعض سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اصل نظام سے براہِ راست حاصل کرنے کے بجائے ڈسپلے اسکرین سے بنائی گئی تھیں۔ اس سے ان کی صداقت، مکمل ہونے اور تفتیش میں ان کے استعمال کے طریقہ کار پر سوالات پیدا ہوئے۔

چار اگست کو تفتیشی ٹیم نے مسجدِ خضرا کے عقب سے دو سی سی ٹی وی ریکارڈنگز حاصل کیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک فوٹیج میں 29 جولائی کی صبح تقریباً آٹھ بجے ایک کچرا چننے والا شخص دکھائی دیا، جبکہ دوسری ریکارڈنگ میں ایک موٹر سائیکل سوار رات تین سے چار بجے کے درمیان جائے وقوعہ پر رکتا دکھائی دیا۔ رپورٹ میں درج ہے کہ اس موٹر سائیکل سوار کا سراغ نہیں لگایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے موبائل فون سے حاصل ہونے والی معلومات اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 17 اگست کے اندراج میں سی پی ایل سی کے حوالے سے بتایا گیا کہ میر رضا نے گمشدگی سے قبل آئی میسج کے ذریعے رابطہ کیا تھا اور ایپل میپس کا استعمال بھی کیا تھا۔

کمیشن نے ڈیجیٹل شواہد کی تحویل، ان کی منتقلی کے ریکارڈ اور تفتیشی عمل میں ان کے درست استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔

ایپل واچ کی تحویل پر سوالات

رپورٹ کے مطابق 28 جولائی کو ان کے دوستوں نے ایپل واچ کھولی اور اس پر موجود نوٹس دیکھے۔ بعد ازاں 31 جولائی کو سمارٹ واچ سے متعلق ضبطی میمو تیار کیے جانے کا ذکر بھی موجود ہے۔

11 اگست کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں سمارٹ واچ اور اس سے متعلق دستاویزات کی فرانزک جانچ کے لیے رجوع کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ پولیس افسر نے بتایا کہ سمارٹ واچ غیر رسمی طور پر ان کے پاس رکھی گئی تھی اور اس کی ضبطی کا میمو تیار نہیں کیا گیا تھا۔

12 اگست کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پیش کیے گئے ضبطی میمو پر اہل خانہ کے دستخط موجود نہیں تھے۔ رپورٹ میں یہ تفصیل ڈیجیٹل شواہد کی تحویل اور دستاویز بندی کے حوالے سے اہم قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ میں ایپل واچ سے متعلق معلومات کے حصول اور محفوظ کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ اس لیے اہم تھا کہ ڈیجیٹل ریکارڈ میر رضا کی آخری سرگرمیوں اور نقل و حرکت کی جانچ میں مدد دے سکتا تھا۔

پولیس تفتیش اور اہل خانہ کے تحفظات

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے اہل خانہ نے ابتدا ہی سے خودکشی کے مؤقف کو مسترد کیا اور پولیس کی جانب سے ان کی نجی زندگی، مالی معاملات اور ذاتی تعلقات سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچانے پر اعتراض کیا۔

اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ خودکشی کا نتیجہ بہت جلد سامنے لایا گیا اور اس کے نتیجے میں میر رضا کی ساکھ اور خاندان کی نجی زندگی متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں درج ہے کہ یکم اگست کو ابتدائی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں 9 اگست کو اس ٹیم کو تحلیل کرکے نئی تفتیشی ٹیم قائم کی گئی۔

آٹھ اگست کو میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے میڈیکل لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کے خلاف شکایت بھی درج کرائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اہل خانہ نے طبی معائنے اور اس کی دستاویز بندی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ میر رضا کی آواز پر مشتمل ایک نوٹ میڈیا تک پہنچ گیا تھا۔ اس واقعے نے نجی معلومات کے تحفظ اور تفتیش کے دوران شواہد کے افشا ہونے سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا۔

بعد ازاں تفتیشی ٹیم تبدیل ہونے کے بعد نئے سرے سے بیانات ریکارڈ کرنے اور شواہد کا جائزہ لینے کا عمل جاری رہا۔

خون میں بُوپی ویکین اور دیگر شواہد کی اہمیت

رپورٹ میں فرانزک اور کیمیائی شواہد کے کئی پہلوؤں کا ذکر ہے، جن میں خون کے نمونے میں بُوپی ویکین کی موجودگی، قمیض کی پشت پر گن شاٹ ریزیڈیو اور دونوں ہاتھوں کے نمونوں میں فائرنگ کے بعد پائے جانے والے ذرات شامل ہیں۔

ان نتائج کی اہمیت کا تعین کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نمونے کس وقت اور کس طریقے سے حاصل کیے گئے، انہیں کس طرح محفوظ کیا گیا اور ان کے تجزیے میں کون سے طریقے استعمال ہوئے۔

عدالتی کمیشن نے اسی وسیع تناظر میں طبی معائنے، فرانزک رپورٹوں، ڈیجیٹل ریکارڈ اور ابتدائی پولیس کارروائی کا جائزہ لیا۔

تاہم دستیاب رپورٹ کے صفحات میں ان تمام شواہد کی مکمل سائنسی تشریح یا موت کے سبب سے متعلق حتمی نتیجہ موجود نہیں۔ اس لیے کسی ایک کیمیائی مادے یا فرانزک نشان کی بنیاد پر قتل یا خودکشی کا قطعی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔

عدالتی کمیشن کی کارروائی

رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے 24 اگست 2026 کو میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا۔ اس کا مقصد متضاد مؤقف، متنازع شواہد اور ابتدائی تحقیقات سے متعلق تحفظات کا آزادانہ جائزہ لینا تھا۔

کمیشن نے 27 اگست سے 7 اکتوبر 2026 تک کارروائی جاری رکھی۔ اس دوران 20 نشستوں میں 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے جائے وقوعہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا بھی معائنہ کیا۔ کارروائی کے تمام اجلاس عوام کے لیے کھلے رکھے گئے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور قیاس آرائیوں کو کم کیا جا سکے۔

کمیشن کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ میر رضا علی کی موت کے حالات کیا تھے، ابتدائی تفتیش کس حد تک درست اور غیر جانب دارانہ تھی اور کیا شواہد جمع کرنے، محفوظ کرنے یا ان کی تشریح میں کسی قسم کی غفلت یا ردوبدل ہوا۔

اہم نتائج اور مزید تحقیقات کی ضرورت

دستیاب رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا علی کی موت کے معاملے میں ابتدائی پوسٹ مارٹم، بعد کے طبی معائنے، جائے وقوعہ سے ملنے والے کارتوس، قمیض اور ہاتھوں کے نمونوں، سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اور ڈیجیٹل شواہد کی تحویل کے حوالے سے متعدد ایسے پہلو سامنے آئے جن کی مزید جانچ ضروری تھی۔

رپورٹ میں ابتدائی طبی معائنے کی خامیوں، گولی کے داخلے اور اخراج کے زخموں کی سمت سے متعلق اختلاف، سکیورٹی گارڈ کے اسلحے اور خالی کارتوس کے درمیان عدم مطابقت اور ڈیجیٹل شواہد کے انتظام سے متعلق سوالات درج ہیں۔

ان معاملات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ابتدائی پولیس مؤقف خودکشی کا تھا، جبکہ اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

تاہم ان سوالات اور تضادات کی موجودگی کو کسی مخصوص شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے یا موت کو حتمی طور پر قتل قرار دیے جانے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے لیے مکمل فرانزک نتائج، تمام متعلقہ بیانات اور کمیشن کی حتمی سفارشات کا جائزہ ضروری ہے۔

اسی بارے میں: