پاکستان میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور قدرتی آفات کے باعث لاکھوں افراد کو مناسب خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں غذائی قلت بچوں کی صحت اور نشوونما کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 20.7 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں تقریباً 40 فیصد کی نشوونما غذائی کمی کے باعث متاثر ہوتی ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران پاکستان کے 45 متاثرہ دیہی اضلاع میں تقریباً 75 لاکھ افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ ان میں 12 لاکھ 50 ہزار افراد کی صورت حال انتہائی تشویش ناک تھی۔
سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں غربت، خشک سالی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور 2025 کے سیلاب کے اثرات نے صورت حال کو مزید مشکل بنا دیا۔
پاکستان میں گندم اور دیگر غذائی اجناس کی پیداوار کے باوجود خوراک کی منصفانہ تقسیم اور عام لوگوں کی قوتِ خرید ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بازاروں میں خوراک کی دستیابی اس وقت تک بھوک کا خاتمہ نہیں کر سکتی، جب تک غریب خاندان اسے خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔
اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے، کسانوں کی مدد کرنے، غذائی اجناس کی قیمتوں میں استحکام لانے اور بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو مناسب غذا فراہم کرنے کے اقدامات ضروری ہیں۔

دنیا بھر میں آج 16 اکتوبر کو عالمی یومِ خوراک منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد بھوک، غذائی قلت اور خوراک تک غیر مساوی رسائی جیسے مسائل کی جانب توجہ دلانا اور ہر انسان کے لیے محفوظ، صحت بخش اور مناسب قیمت پر خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے پاس اتنا علم، جدید ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لیے خوراک فراہم کر سکے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
گوتریس کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بھوک کا خاتمہ محض خوراک کی پیداوار بڑھانے سے ممکن نہیں، بلکہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہر ضرورت مند تک پہنچ سکے۔
عالمی یومِ خوراک ہر سال اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1945 میں رکھی گئی تھی۔
اس سال عالمی یومِ خوراک کی 46ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک میں آگاہی مہمات، تعلیمی سرگرمیوں، نوجوانوں کے پروگراموں اور مختلف مقابلوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

اس سال عالمی یومِ خوراک کا موضوع ہے، ‘آج جدت لائیں، کل کی غذائی ضروریات پوری کریں’۔ اس موضوع کے ذریعے جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور تخلیقی طریقوں کو خوراک کے نظام کا حصہ بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
مقصد ایسے حل تلاش کرنا ہے جو موجودہ نسل کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ مستقبل میں بھی خوراک کی فراہمی یقینی بنا سکیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کے مطابق، خوراک کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ روایتی علم اور تجربات سے بھی فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ بہتر بیج، جدید آب پاشی، موسم کی درست پیش گوئی، ڈیجیٹل معلومات اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کسانوں کو پیداوار بڑھانے اور فصلوں کے نقصانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی طرح خوراک کو محفوظ رکھنے، گوداموں میں مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے اور منڈیوں تک پہنچانے کے بہتر انتظامات بھی بھوک کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ان اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں زراعت لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث زرعی پیداوار کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی طریقوں، بہتر منصوبہ بندی اور کسانوں کی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات اور خوراک کے ضیاع کو کم کرنا بھی ضروری ہے۔
غذائی تحفظ کا مطلب صرف اتنی خوراک کی موجودگی نہیں کہ لوگوں کا پیٹ بھر سکے۔ اس میں تین بنیادی پہلو شامل ہیں۔ خوراک مناسب مقدار میں دستیاب ہو۔ ہر شخص اسے حاصل کرنے اور خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ لوگوں کو ایسی محفوظ اور متوازن خوراک میسر ہو جو ان کی صحت اور جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
دنیا بھر میں بھوک کی بڑی وجوہات میں جنگیں، مسلح تنازعات، معاشی مشکلات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ جنگوں کے باعث زرعی پیداوار اور خوراک کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، جبکہ کھاد، بیج، ایندھن اور دیگر زرعی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ خوراک کی پیداواری لاگت بڑھا دیتا ہے۔

دوسری جانب خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے خوراک کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کے مطابق، دنیا میں تقریباً 269 کروڑ افراد صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غذائی تحفظ کے لیے صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں، بلکہ لوگوں کی آمدنی اور قوتِ خرید بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اگر بازاروں میں خوراک موجود ہو، لیکن غریب خاندان اسے خریدنے کے قابل نہ ہوں تو بھوک اور غذائی قلت کا مسئلہ برقرار رہے گا۔
پاکستان میں بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے امدادی پروگراموں کو مؤثر بنائے، بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام کے اقدامات کرے، کسانوں کو درپیش مشکلات کم کرے اور خوراک کی قیمتوں کو عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے مؤثر پالیسی اختیار کرے۔
اس کے ساتھ صاف پانی، صحت کی سہولتوں اور غذائیت سے متعلق آگاہی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔
عالمی یومِ خوراک کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مناسب خوراک ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیا میں بھوک کا خاتمہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے دستیاب علم، وسائل اور ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔
حکومتوں، نجی اداروں اور عالمی تنظیموں کے درمیان تعاون بڑھانے کے ساتھ خوراک کے ضیاع کو کم کرنا، قدرتی وسائل کا تحفظ اور غذائی اجناس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا بھی ضروری ہے، تاکہ کوئی شخص غربت یا وسائل کی کمی کے باعث خوراک سے محروم نہ رہے۔

