’آپ اور زور سے تالیاں بجاتے رہے تو ہوسکتا ہے میں اپنا آدھا انعام صدر ٹرمپ کو دے دوں‘۔
غریب بس ڈرائیور کی بیٹی کی اس فراخ دلانہ پیش کش پر وہاں موجود سب لوگ ہنس پڑے۔ یہ 85 سال کی ’ناوانتھم عرف ناوی پلے‘ تھیں جنہیں اس سال کے لیے امن کے نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
ناوی کی کہانی عزم و ہمت، حوصلے، انسان دوستی، مزاحمت اور تمام تر مشکلات کو خندہ پیشانی سے جھیلنے اور پھر بھی اپنی حسِ مزاح اور شوخ طبعی برقرار رکھنے کی عجیب و غریب مگر قابلِ تقلید داستان ہے۔
ناوی کو جب بتایا گیا کہ انہیں اس سال امن کا نوبل انعام دیا جا رہا ہے تو اس موقع پر بھی ان کی شرارت کی رگ پھڑک اٹھی۔ کہنے لگیں ’کیا آج اپریل فول ہے‘؟
اس سے پہلے جب انہیں نوبل کمیٹی کی طرف سے فون پر فون کیے جا رہے تھے تو محترمہ نے فون اٹھانے کی زحمت ہی نہ کی، بعد میں نوبل کمیٹی کے چیئرمین نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا ’اگر آپ کو اپنے فون پر کوئی ناروے کا نمبر نظر آئے تو براہِ مہربانی اٹھا لیا کریں‘۔
جنوبی افریقا کی نامور جج اور انسانی حقوق کی علمبردار ناوانتھم ناوی پلے کا آبائی تعلق بھارت سے ہے، ان کے دادا دادی اور نانا نانی کو انگریز جبری مشقت کے لیے تامل ناڈو سے ڈربن لے آئے تھے۔
ناوی کے والد بس ڈرائیور تھے جنہوں نے شدید غربت میں اپنے بچوں کی پرورش کی۔ انہیں ناوی سے کچھ زیادہ محبت تھی، انہوں نے اپنی اس بچی کا نام ’ناوانتھم‘ رکھا۔ تامل اور سنسکرت میں اس کا مطلب تازہ مکھن ہے جو پاکیزگی اور معصومیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ناوانتھم عرف ناوی 23 ستمبر 1941 کو ڈربن کے ایک غریب علاقے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں غیر سفید فام لوگوں کو رنگ اور نسل کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔
وہ بچپن ہی سے پڑھائی میں غیر معمولی طور پر ذہین اور محنتی تھیں لیکن غربت ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ اور وکیل بننے کا جذبہ دیکھ کر مقامی تامل برادری نے چندہ جمع کر کے ان کی فیس کا انتظام کیا۔
انہوں نے 1963 میں بی اے اور 1965 میں قانون کی ابتدائی ڈگری حاصل کیا۔
وکالت کے آغاز کے بعد کئی سال اپنی کمائی سے پیسے بچاتی رہیں تاکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ سال 1981 ان کے لیے بڑی خوش خبری لایا۔ ایک خاص بین الاقوامی اسکالرشپ کی بدولت ناوی امریکہ کی مشہور ہارورڈ یونیورسٹی جا پہنچیں۔
ہارورڈ سے 1982 میں ماسٹرز اور 1988 میں قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ وہ اس معتبر ادارے سے ڈاکٹریٹ کرنے والی پہلی جنوبی افریقی خاتون بنیں گے۔
جنوبی افریقہ اس وقت بدترین نسلی آمریت کا شکار تھا۔ نیلسن منڈیلا حریت و آزادی کا استعارہ بنے سفید فام حکمرانوں کی جیل میں ضمیر کے قیدی بنے ہوئے تھے۔ ناوی نے ہارورڈ کی ڈگری سے ’نوٹ چھاپنے‘ کے بجائے مظلوموں کے دفاع کی ٹھانی۔
ناوی نے نیلسن منڈیلا کی جماعت کے سیاسی قیدیوں کا جرات کے ساتھ دفاع کیا۔ انہیں نسل پرست حکومت کی طرف سے ہر قسم کی دھونس دھمکی اور نسلی حملوں کا سامنا رہا لیکن وہ ڈٹی رہیں۔
1995 میں نیلسن منڈیلا نے انہیں جنوبی افریقا کی ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا جس کے بعد وہ عالمی سطح پر ابھریں۔
انہوں نے روانڈا کے بین الاقوامی ٹربیونل میں جج کی حیثیت سے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے پہلی بار عصمت دری اور جنسی تشدد کو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔
ناوی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہیں۔
انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کی جس نے ستمبر 2025 کی اپنی رپورٹ میں یہ اہم نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ میں نسل کشی کی گئی ہے۔
نوبل کمیٹی نے ناوانتھم پلے کو یہ اعلیٰ ترین اعزاز بین الاقوامی قانون کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم کے خلاف ان کی غیر متزلزل قانونی خدمات کے اعتراف میں دیا ہے۔
یہ انعام ایک ایسے دور میں انصاف کی بالادستی کا اعتراف ہے جب عالمی قانونی اداروں کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناوی کو یہ اعزاز ملنے پر سخت چراغ پا ہیں۔ انہوں نے غصے میں بھڑکتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 8 جنگیں رکوائیں، یہ انعام تو انہیں ملنا چاہیے۔ شاید اسی لیے شرارتی ناوی نے چھیڑتے ہوئے انہیں آدھا انعام دینے کی پیش کش کر دی

