آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ طے: پاکستان کے لیے 1.21بلین ڈالر کی قسط جاری کرنے کا فیصلہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو پاکستانی حکام کے ساتھ 7 بلین ڈالر کے ایسکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت چوتھے جائزے اور 1.3 بلین ڈالرز کی ریزی لینس سسٹینبلٹی سہولت کے تحت تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ کر لیا ہے۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری ملنے کے بعد پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تقریباً 1.0 بلین ڈالر اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر دستیاب ہوں گے۔ اس طرح دونوں انتظامات کے تحت مجموعی طور پر پاکستان کو ملنے والی کل رقم تقریباً 5.7 بلین ڈالر ہو جائے گی۔

آئی ایم ایف کا جائزہ وفد گذشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ آرٹیکل فور کے تحت ہونے والے مشاورتی عمل کے اختتام پر معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ادارے کے مطابق پاکستان کو اپنی معیشت کو زیادہ قدر رکھنے والی معاشی سرگرمیوں کی طرف منتقل کرنا ہوگا تاکہ پیداوار، روزگار اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔

آئی ایم ایف نےپاکستان کی معیشت میں پائیدار بہتری اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے توانائی، مالیاتی اور حکومتی نظام میں اہم اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لیے ایک اہم حفاظتی ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ غیر ملکی کرنسی کے نظام میں بتدریج اصلاحات اور ملکی مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنے سے معیشت کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ اس سے نجی شعبے کو بھی ترقی کے لیے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بجلی کے نرخوں میں بروقت تبدیلیاں اور ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے توانائی کی لاگت کم ہو سکے۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے شعبے میں دوبارہ گردشی قرضے کے بڑھنے کو روکنا ہے، تاہم اس دوران کم آمدنی والے اور کمزور صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور بجلی کی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینے کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ گیس کے شعبے میں اخراجات کی وصولی کو یقینی بنانے اور گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات میں کمی لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے صرف مالیاتی استحکام کافی نہیں بلکہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں مسابقت بڑھانے، کاروباری اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ادارے نے سرکاری ملکیتی اداروں کے انتظام اور شفافیت کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق سرکاری اداروں کی بہتر نگرانی اور شفافیت سے حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔ اسی طرح حکمرانی کے نظام اور بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط بنانا بھی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان میں ایک سادہ اور منصفانہ ٹیکس نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے مطابق ٹیکس نظام کو آسان اور زیادہ مؤثر بنانے سے حکومت کے محصولات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور معیشت پر غیر ضروری دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ حکومت کو انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے پر زیادہ وسائل خرچ کرنے چاہئیں۔ تعلیم، صحت، ہنرمندی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری سے ملک کی پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھانے، افرادی قوت میں زیادہ لوگوں کو شامل کرنے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق برآمدات میں اضافے کے لیے بھی بنیادی معاشی اصلاحات ضروری ہیں۔ زیادہ مسابقتی معیشت، بہتر کاروباری ماحول اور کم تجارتی رکاوٹیں پاکستانی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں۔

آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ ادارے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کے حوالے سے حالیہ عرصے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے مالی خطرات سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اصلاحات میں آبپاشی کے پانی کے نرخوں اور وصولیوں میں بہتری، بجلی کی سبسڈی کو زیادہ ضرورت مند صارفین تک محدود کرنا، توانائی کی بچت کے معیار کو بہتر بنانا اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے کاربن کے اخراج میں کمی لانا شامل ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ ان تمام اصلاحات کا بنیادی مقصد پاکستان کی معیشت کو زیادہ مضبوط، مؤثر اور پائیدار بنانا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر اصلاحات پر مسلسل اور مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو اس سے پیداوار میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع، نجی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی ٹیم نے اسلام آباد اور کراچی کے دورے کے دوران پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو مفید قرار دیا۔

اسی بارے میں: