پانچ دہائیوں تک فلم انڈسٹری پر راج کرنے والےنانا پاٹیکر چل بسے، موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا: ڈاکٹر

بھارتی سینما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ جمعرات کی صبح گوا میں اپنے گھر پر دل کا دورہ پڑنے کے بعد چل بسے۔

ہسپتال کے مطابق نانا پاٹیکر کو گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں منی پال ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے شعبہ امراض سرطان کے سربراہ ڈاکٹر شیکھر سالکر نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں سی پی آر دے کر بچانے کی کوشش کی، تاہم ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ انہیں صبح پانچ بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر سالکر کے مطابق نانا پاٹیکر کی موت کے معاملے میں میڈیکو لیگل کیس درج کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم بھی کیا جائے گا۔

نانا پاٹیکر کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ اداکاری کے میدان میں ان کا سفر تھیٹر سے شروع ہوا اور 1978 میں فلم ‘گامن’ سے فلمی دنیا میں نمایاں ہوئے۔

اس کے بعد انہوں نے مراٹھی اور ہندی سینما میں ایسی شناخت بنائی جس میں بلند آواز سے زیادہ لہجے، خاموشی، آنکھوں کے تاثرات اور مکالموں کی غیر معمولی ادائیگی ان کی پہچان بن گئی۔

پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر میں نانا پاٹیکر نے سنجیدہ، منفی، سماجی اور مزاحیہ کردار ادا کیے۔ ‘پریندا’، ‘پراہار’، ‘انگار’، ‘کرانتی ویر’، ‘ترنگا’، ‘خاموشی’، ‘اب تک چھپن’، ‘اپہارن’ اور ‘ٹیکسی نمبر 9211’ ان کی نمایاں فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔

فلم ‘پریندا’ میں ان کی اداکاری نے انہیں قومی فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ دلایا، جبکہ ‘کرانتی ویر’ میں ان کی کارکردگی پر انہیں بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ ان کے کیریئر میں مجموعی طور پر تین قومی فلم ایوارڈ شامل ہیں۔

نانا پاٹیکر صرف سنجیدہ کرداروں تک محدود نہیں رہے۔ 2007 کی فلم ‘ویلکم’ میں ان کا کردار اودے شیٹی ان کی شخصیت کا ایک بالکل مختلف پہلو سامنے لایا۔ خطرناک دکھائی دینے والے مگر مزاحیہ گینگسٹر کے کردار نے انہیں نئی نسل کے ناظرین میں بھی بے حد مقبول کیا۔ بعد میں انہوں نے ‘ویلکم بیک’ میں بھی یہی کردار ادا کیا۔

نانا پاٹیکر کی اصل طاقت ان کا مکالمہ بولنے کا انداز تھا۔ ان کے کئی مکالمے بھارتی مقبول ثقافت کا حصہ بن گئے۔ ‘ایک مچھر آدمی کو ہجڑا بنا دیتا ہے’، ‘صبح گھر سے نکلو، بھیڑ کا حصہ بنو’ اور ‘گرو سالے، گرو’ جیسے مکالموں کو ان کی منفرد ادائیگی نے یادگار بنا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نانا پاٹیکر نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے کئی مشہور مکالمے انہوں نے خود لکھے تھے۔ وہ ایک نوٹ بک بھی رکھتے تھے جس میں اشعار اور اپنے خیالات لکھتے رہتے تھے۔

ان کے فن کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ وہ صرف اداکار نہیں بلکہ مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ ان کی فلم ‘پراہار’ ان کے تخلیقی کام کی ایک نمایاں مثال ہے۔

نانا پاٹیکر کا تعلق صرف فلمی دنیا تک محدود نہیں رہا۔ وہ سماجی کاموں میں بھی سرگرم رہے اور مہاراشٹر میں پانی کے تحفظ اور دیہی علاقوں میں آبی منصوبوں کے حوالے سے نام فاؤنڈیشن کے کام سے وابستہ رہے۔

ان کی اداکاری کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ کردار کو صرف ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی آواز، جسمانی حرکات اور خاموش وقفوں سے اسے ایک الگ شخصیت دے دیتے تھے۔ اسی لیے وہ ولن ہوں، پولیس افسر، سماجی کردار یا مزاحیہ گینگسٹر، ہر روپ میں اپنی الگ شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے۔

حالیہ برسوں میں بھی نانا پاٹیکر نے اداکاری جاری رکھی۔ وہ ‘ہاؤس فل 5’ میں نظر آئے جبکہ وشال بھاردواج کی فلم ‘او رومیو’ میں بھی پولیس افسر کا کردار ادا کیا۔

نانا پاٹیکر کے انتقال پر بھارتی فلمی صنعت اور سیاسی حلقوں سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت متعدد شخصیات نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

نانا پاٹیکر چلے گئے، مگر ان کی آواز، مکالموں کی گونج اور پردے پر نبھائے گئے کردار بھارتی سینما کی تاریخ میں طویل عرصے تک زندہ رہیں گے۔

اسی بارے میں: