ٹیچرز ڈے: میری استانی، ثمینہ باجی

ٹیچرز ڈے

ٹیچرز ڈے پر ثمینہ باجی کی یاد آئی، بہت زمانہ ہو گیا بھول رہا ہوں باجی کہتا تھا یا آپی لیکن ان کا احترام، ادب اور محبت سگی بہنوں سے بھی زیادہ تھی۔

ثمینہ باجی پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کے معاملات دیکھتی تھیں، لڑکپن کا زمانہ تھا، بے پروا، لاابالی، ان گڑھ۔ لیکن نئی چیزیں سیکھنے، جاننے، پڑھنے کی دھن۔

پی پی ایف میں صحافت پر ورکشاپس ہوتی تھیں، میں ہر ورکشاپ میں حاضر، خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا، سوال کرتا، بال کی کھال نکالتا، ثمینہ باجی کی نظروں میں آ گیا، انہوں نے ایک طرح سے سرپرستی میں لے لیا، میری نشست و برخاست، لب و لہجے، رکھ رکھاؤ پر بھی نظر رکھتیں۔

ایک بار کوئی بہت دلچسپ نشست تھی، ثمینہ باجی برابر میں بیٹھی تھیں، چائے پیش کی گئی، میں باتیں سننے میں مگن تھا، لاابالی پن سے ٹی بیگ ساسر میں رکھ دیا۔ ٹی بیگ سے رس رس کر چائے ساسر میں بہنے لگی، میں نے نگاہِ غلط انداز تک نہ کی، ثمینہ باجی کی نظر پڑ گئی۔

ثمینہ باجی نے خاموشی سے میرے کپ سے چمچہ لیا، ٹی بیگ اس پر لپیٹا اور میرے کپ میں نچوڑنے لگیں، میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تو سامنے دیکھ رہی تھیں، ظاہر تک نہ ہونے دیا کہ میں نے کیا بدسلیقگی اور پھوہڑ پن کا مظاہرہ کیا۔

میں کنکھیوں سے انہیں تکتا رہا تو نظریں ملائے بغیر ہلکا سا مسکرا دیں۔ اور بس۔

کچھ دن بعد مجھ پر پیغمبری وقت آ گیا، بیروزگار ہو گیا۔ ثمینہ باجی نے بعد میں ایک ملاقات پر بتایا ‘تابان میں ہر نماز کے بعد تمہارے لیے دعا کیے بغیر جائے نماز سے نہیں اٹھتی تھی۔’

کیسے کیسے استاد ہماری زندگیوں میں آتے ہیں جن کی محبت، اخلاص اور دردمندی کسی بھی دنیاوی طلب و لالچ سے پاک و پاکیزہ ہوتی ہے۔ شیخ سعدی شیرازی نے ایسے ہی استادوں کے لیے کہا ہے

درسِ معلم ار بود زمزمۂ محبتی
جمعہ بہ مکتب آورد طفلِ گریز پای را

استاد کے درس میں اگر محبت کی سرگوشی ہو تو مدرسے سے بھاگنے والا بچہ جمعے کو بھی آ جائے۔

پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں استادوں کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1994 میں اقوام متحدہ کے تعلیمی, علمی اور ثقافتی ادارے کے تحت کیا گیا تھا۔
دراصل پانچ اکتوبر 1966 کو بین الاقوامی مزدور تنظیم اور اقوام متحدہ کے تعلیمی ادارے کے مشترکہ اجلاس میں اساتذہ کے حقوق، ملازمت کی شرائط اور ان کے مقام سے متعلق کچھ تاریخی سفارشات منظور کی گئی تھیں۔

اسی اہم واقعے کی یاد میں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت، اساتذہ کے مسائل اور ان کے جائز حقوق پر دنیا کی توجہ دلانا ہے۔

استاد کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے، اس سے محبت اور اس کا ادب، سماج کی قدر و قیمت کس طرح متعین کرتا ہے، اس پر سوچنے اور لکھنے والوں نے صفحوں کے صفحے بھر دیے ہیں۔
عظیم فاتح سکندر اعظم نے اپنے استاد ارسطو کے لیے جو جملہ کہا وہ تاریخ میں یادگار ہو گیا۔

سکندر نے کہا تھا ‘میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا جبکہ میرے استاد نے زمین سے آسمان پر پہنچایا’

لکھتے لکھتے مجھے استاد کی اہمیت اور احترام کے کچھ اور واقعات بھی یاد آ گئے۔

علامہ شبلی نعمانی نے النعمان میں لکھا ہے کہ امامِ اعظم امام ابوحنیفہ طلبا کو درس دے رہے تھے، مکتب کا دروازہ کھلا ہوا تھا، سامنے سے ایک صفائی والا جھاڑو دیتا گزرا، اسے دیکھتے ہی امام ابوحنیفہ کھڑے ہو گئے۔

 جب تک صفائی والا نظر آتا رہا امام کھڑے رہے۔ اس کے جانے کے بعد جب امام ابوحنیفہ بیٹھ گئے تو حیرت میں گم طلبا نے پوچھا حضرت یہ کون تھا جس کے احترام میں آپ سبق روک کر کھڑے ہو گئے۔

 امام ابوحنیفہ نے کہا یہ میرا استاد ہے، اس نے مجھے بتایا تھا کہ کتا کس عمر میں بالغ ہوتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک قول بھی یاد آ گیا، فرماتے ہیں ‘جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں، اب یہ اس کا اختیار ہے کہ مجھے آزاد کر دے یا فروخت کر دے’۔

اسی بارے میں: