ایم کیو ایم کے مشاعرے سے ’انکار‘

مشاعرے

ملک کی ایک کہنہ مشق شاعر عنبرین حسیب عنبرنے آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام ہونے والے مشاعرے میں شرکت سے انکار کردیا۔

یہ مشاعرہ 30 ستمبر بروز بدھ وفاقی جامعہ اردو میں منعقد ہورہا ہے۔ عنبرین حسیب عنبر نے فیس بک پر ’ انکار‘ کے عنوان سے پوسٹ ڈالی،انہوں نےلکھا: ’وہ تمام احباب جو ہم سے اس مشاعرے میں ہماری شرکت کی بابت دریافت کر رہے ہیں،

‘ان کے علم میں لانا ضروری ہے کہ ہم اس مشاعرے میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔ اور اس کا سبب منتظمین کو بتا بھی چکے ہیں۔
‘ہمیں بے حد خوشی ہوتی ہے کہ دوسرے شہروں سے شعرا اور شاعرات کراچی آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔ ہمیں بہت اچھا محسوس ہوتا ہے کہ منتظمین ان کی عزت و تکریم کریں۔

‘لیکن مقامی شعرا کی تضحیک یا حق تلفی ہمیں گوارا نہیں۔ ہم نے ہمیشہ اس پر احتجاج کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔
‘یہ احتجاج نہ تو کسی شاعر کے خلاف ہے اور نہ اس کو دی جانے والی اہمیت کے خلاف ہے۔ احتجاج صرف یہ ہے کہ بعض شعرا کا مقام کیوں گرایا جا رہا ہے؟ کیا مہمان نوازی کی ایسی مثال کسی اور شہر میں ملتی ہے؟

‘اگر منتظمین سمجھتے ہیں کہ سامعین ان شعرا کو سننے نہیں آ رہے ہیں تو ان شعرا کو مدعو کرنے کی زحمت ہی نہ کریں۔

‘لیکن مدعو کر کے اس طرح تضحیک کرنا نہایت غلط عمل ہے جس پر احتجاج کیا جانا چاہیے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں‘۔

عنبرین حسیب عنبر نے اپنی پوسٹ میں ایک سےزیادہ بار تضحیک کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا تضحیک کی گئی جو ان کے انکار کا سبب بنی۔

 انہوں نے لکھا: ’بعض شعرا کا مقام کیوں گرایا جا رہا ہے‘۔

سوال یہ ہے کہ شاعروں کا مقام کیسے گرایا جا رہا ہے؟ عنبرین حسیب عنبر نے اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ وہ مشاعرے میں شرکت سے معذوری کا سبب منتظمین کو بتا بھی چکی ہیں۔

وہ سبب غالبا یہی ہے کہ ان کی دانست میں مقامی شعرا کی تضحیک کی گئی ہے،ان کا مقام گرایا گیا ہے۔

مقام کس طرح گرایا گیا اس کی پوسٹ میں کھل کر وضاحت نہیں البتہ اپنی پوسٹ کے ساتھ  مشاعرے کے پوسٹر کی تصویر لگانا واضح کرتا ہے کہ عنبرین حسیب عنبر کا اشارہ کس طرف ہے۔

مشاعرے کی تہذیب میں تقدیم و تاخیر یعنی کون اول کون آخر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ تہذیب یہ ہے کہ بڑے شاعروں کو پڑھوایا تو بعد میں جاتا ہے لیکن ان کی نشست صف اول میں ہوتی ہے۔

گویا نوآموز شاعروں جنہیں عرف عام میں متشاعر بھی کہہ دیتے ہیں۔ پچھلی صفوں میں یا دائیں بائیں بیٹھتےہیں البتہ انہیں شروع میں ہی بھگتا دیا جاتا ہے تاکہ جب مشاعرہ جم جائے اور سامعین کثیر تعداد میں پہنچ چکے ہوں تب سینئر شاعروں کوپڑھوایا جائے۔

جب سے پوسٹر اور بینر وغیرہ کا ٹرینڈ چلا ہے تو اس میں بھی عموما بڑے شاعروں کے نام اور تصویریں صف اول میں ہوتی ہیں جبکہ چھوٹے موٹے شاعروں کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا یا بالکل حاشیےمیں ۔۔

اے پی ایم ایس او کے اس مشاعرےمیں معاملہ بالکل الٹا ہے جس پر عنبرین حسیب عنبر نے احتجاج کیا۔ پوسٹر میں گیارہ شاعروں کی تصویریں اور نام شائع کیے گئے ہیں جن میں عنبرین حسیب عنبر کا نام اور تصویر سب سے اخر میں ہے۔

پہلی صف میں نورالحرا اور عبداللہ ضریم جیسے نوآموز ہیں جنہیں کچھ لوگ تو شاعربھی نہیں مانتے۔ اس کے علاوہ پہلی صف میں معروف لوگوں میں سےعمیر نجمی اور علی زریون ہیں۔

یہ دونوں معروف تو ہیں لیکن سینئر شعرا کے حلقےمیں ان کی کچھ بہت زیادہ وقعت نہیں۔ خاص طورپر علی زریون کے بارے میں ایک سینئر شاعر اقبال خاور سےمیری بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ شروع میں علی زریون میں کافی پوٹینشل نظر آیا تھا لیکن پھر واہ واہ کے شوق میں ان کا معیار کافی گرگیا۔ یہ اب

کس نےجینز کری ممنوع

پہنو اچھی لگتی ہو

جیسے شعر کہہ کر نہ صرف اردو ادب بلکہ اپنے سامعین کا معیار بھی گرا رہے ہیں۔

پوسٹر کی پہلی صف میں موجود احمد سعید، افکار علوی اور عبداللہ ضریم کو ٹک ٹاک کا شاعر ہی سمجھا جاتا ہے۔ ستم ضریفی کی بات یہ ہے کہ بے چارے افکار علوی کا نام پوسٹر میں افکار’ حلوی‘ لکھا گیا ہے۔

پوسٹرکی دوسری صف میں نظر ڈالیں تو وہاں بھی عنبرین حسیب عنبر جیسی کہنہ مشق شاعر سےپہلےفرحان جعفری پیکر اوردانیال اسماعیل کے نام ہیں جنہیں شاید کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔

اس مشاعرے کو قومی مشاعرے کا نام دیا گیا ہے لیکن شاعروں کی فہرست میں کراچی کے نمائندہ شاعر نظر ہی نہیں آ رہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عنبرین حسیب عنبر کے ’انکار‘ کی ایک وجہ کراچی کے شاعروں کو نظر انداز بھی کرنا ہے گویا شہر قائد شاعروں کے حوالے سے بانجھ ہوچکا ہو۔

میں نے معروف شاعر اور کراچی پریس کلب کےصدر فاضل جمیلی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا’ ایم کیوایم کی تنظیم ضرورت سے زیادہ پنجاب کے شاعروں کواہمیت دیتے ہیں‘۔

فاضل جمیلی نے ہنستے ہوئے کہا: ’ایک بار تو ایسا ہوا کہ انور شعور کو بھی بلایا لیکن صدارت علی زریون سےکروائی، عنبرین حسیب عنبر نے پہلی بار اس پر آواز بلند کی ہے تو ان کا ساتھ دینا چاہیے کہ اتنے اچھے شاعر کراچی میں موجود ہیں تو انہیں کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے‘

 کراچی کم ازکم ابھی تک تو اچھے شاعروں کی موجودگی سے محروم نہیں ہوا۔ ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے توانور شعور،اقبال خاور،جاوید صبا،خالد معین،کاشف رضا،فاضل جمیلی،عمار اقبال جیسے باکمال شاعر نظر آتے ہیں جو آج بھی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتےہیں۔

یہ سب شاعر اے پی ایم ایس او کے تمام مدوعین سےزیادہ سینئر بھی ہے اور ان کا شعر قد بھی بلند ہیں۔ ان سب کو بہ یک قلم نظرانداز کردینا بھی عنبرین حسیب عنبر کے ’انکار‘ کی ایک اور وجہ ہوسکتا ہے۔

سینئر صحافی اور مشاعروں کے شوقین خالد فروشوری سےمیری اس معاملے پر بات ہوئی تو انہوں نےکہا ’یہ پوسٹ دیکھ کر میرے چودہ طبق روشن ہوگئے، عنبرین حسیب عنبر کا اعتراض قطعی بجا ہے کہ سینئر شعرا کو نہیں بلایا گیا لیکن منتظمین نے بلایا ہی مقبول شاعروں کو ہے اور چونکہ عنبرین حسیب عنبر نے نظامت کرنا ہے تو ان کا نام آخر میں ہی لکھا جانا چاہیے تھا تو اس لحاظ سے پوسٹر صحیح ہے۔

بس اس میں افسوس اس بات کا ہے کہ ایم کیوایم اس سطح پر آگئی ہےکہ عنبرین حسیب عنبر ایم کیوایم کو انکار کر رہی ہیں ورنہ یہ وہ ایم کیوایم تھی کہ انہوں نے جون ایلیا کو اٹھا کرڈنڈا ڈولی کرکے اسٹیج سے نیچے پھینک دیا تھا۔

اس وقت بڑے سے بڑا شاعر بھی ایم کیوایم کےسامنے چوں نہیں کرسکتا تھا۔ آج حال یہ ہے کہ 30 ستمبر کو مشاعرہ ہے اور عنبرین صاحبہ نے انکار کردیا‘

اسی بارے میں: