کراچی کے علاقے کورنگی میں محکمہ لائیو اسٹاک، حکومت سندھ کے زیر انتظام قائم لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن محض ایک مویشی فارم نہیں بلکہ سندھ کی مقامی اور تاریخی ریڈ سندھی گائے کے تحفظ، افزائش نسل، تحقیق اور جدید مویشی پالنے کے طریقوں کے فروغ کا ایک اہم سرکاری مرکز ہے۔
تقریباً 535 ایکڑ رقبے پر قائم یہ مرکز ایک صدی سے زیادہ پرانی تاریخ رکھتا ہے اور آج بھی مقامی مویشی نسل کے جینیاتی وسائل کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس مرکز میں بنیادی طور پر ریڈ سندھی نسل کی گائیں اور دیگر مویشی رکھے جاتے ہیں۔ ریڈ سندھی گائے سندھ کی مقامی دودھ دینے والی نسل ہے جو گرم موسم اور مقامی موسمی حالات سے مطابقت رکھنے کی صلاحیت کے باعث خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے سندھ کے مویشیوں کے جینیاتی وسائل میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
برطانوی دور سے ریڈ سندھی نسل کے تحفظ کا سفر
کراچی کے کورنگی میں قائم اس مرکز کی تاریخ برطانوی دور تک جاتی ہے۔ یہ اسٹیشن ریڈ سندھی نسل کے مویشیوں کے تحفظ اور افزائش کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ مرکز مقامی نسل کے جانوروں کی افزائش کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے کے مختلف پہلوؤں سے متعلق تجربات اور تحقیق کا مرکز بھی بنتا گیا۔
سرکاری مویشی فارمز کا مقصد صرف جانور پالنا یا دودھ حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان مراکز میں مقامی نسلوں کی خالص خصوصیات برقرار رکھنے، بہتر خصوصیات رکھنے والے جانور پیدا کرنے، افزائش نسل کے طریقوں کو بہتر بنانے، جانوروں کی صحت اور خوراک کا جائزہ لینے اور مجموعی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔
عمر کے لحاظ سے الگ شیڈز، بہتر دیکھ بھال پر توجہ
لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن کے انچارج افسر ڈاکٹر غلام حیدر خاصخیلی کے مطابق فارم پر جانوروں کی عمر کے لحاظ سے الگ الگ شیڈز بنائے گئے ہیں تاکہ ریڈ سندھی گایوں کی ضروریات کے مطابق ان کی بہتر پرورش اور دیکھ بھال کی جاسکے۔
مویشیوں کی صحت اور بہتر پیداوار کے لیے مناسب رہائش، صاف پانی، متوازن خوراک، سبز چارہ، بیماریوں سے بچاؤ، ویکسینیشن اور باقاعدہ طبی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر معیاری اور مناسب مقدار میں چارے کی فراہمی جانور کی صحت، دودھ کی پیداوار اور افزائش نسل کی صلاحیت سے براہ راست منسلک ہوتی ہے۔
فارم میں چارے کی کاشت بھی
کورنگی کے اس تاریخی فارم کا تقریباً 535 ایکڑ رقبہ صرف جانوروں کے شیڈز تک محدود نہیں بلکہ اس میں زرعی زمین بھی شامل ہے۔ دستیاب محکمانہ ریکارڈ کے مطابق فارم کے بعض حصے کاشت کے لیے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔
حکومت سندھ کے حالیہ منصوبوں میں سبز چارے کی پیداوار بڑھانے اور مشینی بنیادوں پر چارہ اگانے کے امکانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 40 ایکڑ رقبے پر الفالفا اور روڈز گراس جیسی چارہ فصلوں کی کاشت کو بھی ترقیاتی سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد جانوروں کے لیے معیاری سبز چارے کی دستیابی بہتر بنانا اور مویشیوں کی صحت و پیداوار میں بہتری لانا ہے۔
روایتی افزائش سے مصنوعی افزائش اور ایمبریو ٹرانسفر تک
مویشیوں کی افزائش کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ 2026ء میں محکمہ لائیو اسٹاک نے سرکاری مویشی فارمز کی کارکردگی، جاری افزائشی پروگراموں اور محکمانہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
اس عمل کے دوران جانوروں کی مصنوعی افزائش کے پروگرام کو جدید بنانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے پر زور دیا گیا۔ ریڈ سندھی اور کانکریج نسل کے مویشیوں کی جینیاتی بہتری کے لیے مصنوعی افزائش کے ساتھ ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔
جدید افزائش نسل کی یہ تکنیکیں بہتر جینیاتی خصوصیات رکھنے والے جانوروں کی تعداد بڑھانے اور مقامی نسلوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جبکہ اس کے ذریعے قیمتی جینیاتی خصوصیات کو محفوظ رکھنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

سندھ میں مقامی نسلوں کے تحفظ کا وسیع نیٹ ورک
کورنگی کا لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن سندھ میں مقامی مویشی نسلوں کے تحفظ کے لیے قائم سرکاری مراکز کے وسیع تر نظام کا حصہ ہے۔ سندھ کے ٹنڈو محمد خان اور نبی سر روڈ، عمرکوٹ میں بھی سرکاری مویشی فارمز موجود ہیں جہاں مقامی نسلوں کے تحفظ، افزائش اور مویشی پالنے سے متعلق سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
ان فارمز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مقامی مویشی نسلیں اپنے مخصوص جینیاتی خواص کے باعث مقامی آب و ہوا، خوراک اور ماحول کے ساتھ بہتر مطابقت رکھتی ہیں۔ ان نسلوں کا تحفظ مستقبل میں سندھ کی مویشی پالنے کی صنعت کے لیے ایک اہم جینیاتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔
تاریخی فارم کو جدید ماڈل فارم بنانے کی کوشش
کورنگی کا یہ مرکز اپنی سو سال سے زائد پرانی تاریخ کے باعث سندھ کے مویشی پالنے کے شعبے میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں ریڈ سندھی گائے کی نسل کے تحفظ سے شروع ہونے والا سفر اب بہتر افزائش، جانوروں کی صحت، چارے کی پیداوار، مصنوعی افزائش اور جدید بائیوٹیکنالوجی تک پہنچ چکا ہے۔
حکومت سندھ کے حالیہ منصوبوں میں سرکاری مویشی فارمز کو جدید ماڈل فارمز میں تبدیل کرنے کی سمت میں اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس تناظر میں کورنگی کا لائیو اسٹاک ایکسپیریمنٹ اسٹیشن ایک ایسے مرکز کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں سندھ کی ایک اہم مقامی نسل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جدید مویشی فارمنگ کے طریقوں کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یوں کورنگی کا یہ وسیع و عریض فارم صرف گایوں کے رکھنے کی جگہ نہیں بلکہ ریڈ سندھی گائے کی نسل، سندھ کے مویشیوں کے جینیاتی ورثے اور مستقبل کی جدید مویشی فارمنگ کے درمیان ایک تاریخی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔
