ایپل نے پہلی بار فولڈ ہونے والا آئی فون متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے نئے فولڈ ایبل فون کو آئی فون ڈیو (iPhone Duo) کا نام دیا ہے۔
تقریب میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی پیش کیے گئے۔ یہ تقریب ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کی سربراہی میں پہلی بڑی مصنوعات کی تقریب تھی
ایپل کا فولڈ ایبل آئی فون کمپنی کے اسمارٹ فون ڈیزائن میں کئی برس بعد ہونے والی سب سے بڑی تبدیلیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ آئی فون -ڈیو باہر سے تقریباً پاسپورٹ کے سائز کا دکھائی دیتا ہے۔ اسے کھولنے پر 7.6 انچ کی بڑی اسکرین سامنے آتی ہے، جبکہ بند حالت میں فون کے باہر 5.4 انچ کی اسکرین موجود ہے۔ بڑی اسکرین پر صارف ایک وقت میں دو ایپس استعمال کر سکے گا۔
ایپل نے اس فون کو خاص طور پر کام، ویڈیو دیکھنے اور ایک ہی وقت میں مختلف ایپس استعمال کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق فولڈ ہونے کے باوجود فون عام آئی فون کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ کھولنے پر صارف کو بڑی اسکرین مل جاتی ہے۔
قیمت تقریباً دو ہزار ڈالر
آئی فون ڈیو کی ابتدائی قیمت 1,999 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح یہ ایپل کے مہنگے ترین آئی فونز میں شامل ہو گیا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس کی قیمت سام سنگ کے Galaxy Z Fold8 اور گوگل کے Pixel 11 Pro Fold کے بعض بنیادی ماڈلز سے بھی زیادہ ہے۔
ایپل کے مطابق فون میں A20 Pro چپ استعمال کی گئی ہے، جو ٹو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی چپ مصنوعی ذہانت، گرافکس اور بیٹری کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے گی۔ فون میں گرمی کو کم رکھنے کے لیے نیا کولنگ سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے۔
آئی فون ڈیو میں ایپل کا نیا C2 موڈیم بھی موجود ہے کمپنی نے فون میں اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی کو مزید بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ مستقبل میں دیگر کمپنیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ فون میں Touch ID سائیڈ بٹن کے اندر شامل ہے، جبکہ یہ Apple Pencil کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔ اسٹوریج کی گنجائش زیادہ سے زیادہ 2 ٹیرا بائٹ تک ہے۔
ایپل کے مطابق آئی فون ڈیو کے پری آرڈرز 16 اکتوبر سے شروع ہوں گے جبکہ فون 23 اکتوبر کو مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔
قیمت آئی فون 18 پرو بھی زیادہ
ایپل نے اپنی فکیف شپ پراڈکٹ کا نیا ورژن یعنی آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی متعارف کرائے ہیں۔ دونوں فونز کی ابتدائی قیمت میں 100 ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
آئی فون 18 پرو کی قیمت اب 1,199 ڈالر جب کہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1,299 ڈالر سے شروع ہوگی۔ رائٹرز کے مطابق قیمت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ میموری چپس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
نئے پرو ماڈلز میں بھی A20 Pro چپ استعمال کی گئی ہے۔ ان فونز میں 48 میگا پکسل کا نیا مین کیمرہ دیا گیا ہے جس میں variable aperture ٹیکنالوجی شامل ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیمرہ روشنی کے حالات کے مطابق خود کو بہتر انداز میں ایڈجسٹ کر سکے گا۔
ایپل نے تصاویر کی اصلیت جانچنے کے لیے Apple Reference Image نامی نیا معیار بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے AI سے تیار یا تبدیل کی گئی تصاویر کی شناخت کے لیے SynthID معیار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم یہ دونوں خصوصیات یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں ہوں گی۔
مصنوعی ذہانت پر خاص توجہ
نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس نے تقریب میں ایپل کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی پر بھی خاص زور دیا۔ ان کے مطابق ایپل صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو AI کے دور میں اپنی بڑی طاقت سمجھتا ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ جہاں ممکن ہو، AI سے متعلق کام براہ راست آئی فون پر ہی کیا جائے گا۔ جب زیادہ کمپیوٹنگ طاقت کی ضرورت ہو تو کلاؤڈ کا استعمال کیا جائے گا، لیکن کمپنی کے مطابق اس عمل میں Private Cloud Compute کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔
ایپل نے Siri میں بھی بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ کمپنی کے مطابق نیا AI سے لیس Siri لانچ کے وقت 3 لاکھ سے زیادہ ایپس کے ساتھ کام کر سکے گا اور صارف کی ہدایت پر ایپل اور دیگر کمپنیوں کی ایپس میں مختلف کام انجام دے سکے گا۔
ایپل واچ اور ایئر پوڈز بھی نئے انداز میں
تقریب میں ایپل نے ایپل واچ سیریز 12 اور الٹرا 4 بھی متعارف کرائیں۔ نئی گھڑیوں میں صحت اور فٹنس سے متعلق کئی نئے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ سیریز- 12 کی ابتدائی قیمت 399 ڈالر جبکہ الٹرا 4 کی قیمت 799 ڈالر سے شروع ہوگی۔
نئی گھڑیوں میں دل کی دھڑکن کی زیادہ بار نگرانی، صحت سے متعلق معلومات اور Readiness Score جیسے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ ایپل نے نئی AI خصوصیات کو بھی گھڑیوں کے استعمال میں شامل کیا ہے۔
کمپنی نے نئے ایئر پورٹوڈز (AirPods) بھی پیش کیے ہیں جن کی ابتدائی قیمت 129 ڈالر ہے۔ پہلی مرتبہ ایپل نے اپنے نسبتاً سستے ایئر پوڈ ماڈل میں Active Noise Cancellation شامل کیا ہے۔ 149 ڈالر کے ماڈل میں وائرلیس چارجنگ اور اسٹیم پر انگلی سے والیوم کم یا زیادہ کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
ایپل کا فولڈ ایبل آئی فون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سام سنگ، ہواوے اور دیگر چینی کمپنیاں کئی سال سے فولڈ ایبل فونز بنا رہی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایپل کی مارکیٹ میں آمد سے اس شعبے میں مقابلہ مزید بڑھنے اور فولڈ ایبل فونز کو عام صارفین تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

