ڈاکٹر شازیہ خالد کا واقعہ اور نواب اکبر بگٹی کی شہادت
نواب اکبر بگٹی کے جنرل مشرف کی حکومت کے ساتھ پہلے ہی کئی معاملات پر اختلافات تھے۔ ان میں سوئی اور ڈیرہ بگٹی سے نکلنے والے تیل اور گیس کی رائلٹی، مقامی بلوچ نوجوانوں کو او جی ڈی سی اور پی پی ایل میں ملازمتوں میں ان کا جائز حصہ نہ دینا، اور ان کے مخالف کلپر بگٹیوں کی حکومت کی طرف سے مدد کرنا شامل تھا۔ ان حالات میں گمبٹ کے قریب کھوڑا کی رہائشی ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
ڈاکٹر شازیہ کا تعلق کھوہڑا شہر سے تھا۔ ان کا خاندان کھوہڑا سے ہجرت کرکے کلفٹن، کراچی منتقل ہوچکا تھا۔
شازیہ نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کی اور ہاؤس جاب کرنے کے بعد ملازمت کے لیے مختلف جگہوں پر درخواستیں دیں۔
آخرکار وہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے سوئی گیس فیلڈ، بلوچستان میں لیڈی میڈیکل آفیسر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔
23 جون 2003ء کو ڈاکٹر شازیہ نے سوئی فیلڈ، ڈیرہ بگٹی میں اپنی ملازمت شروع کی۔ کچھ عرصے بعد ان کے شوہر انجینئر خالد امان کو بھی چین کی ایک پیٹرولیم کمپنی میں ملازمت مل گئی۔
خالد امان کو کمپنی کی تربیت کے لیے پہلے سوڈان بھیجا گیا اور بعد میں انہیں لیبیا بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر شازیہ کے شوہر انجینئر خالد امان کا تعلق بھی کھوہڑا سے تھا اور ان کا خاندان بھی کراچی منتقل ہوچکا تھا۔ اس طرح اس جوڑے کی زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔
ڈاکٹر شازیہ پی پی ایل فیلڈ، سوئی کے ملازمین کے لیے بنائے گئے ایک گھر میں رہتی تھیں۔ جس اسپتال میں ان کی ڈیوٹی تھی، وہ اسپتال بھی پی پی ایل فیلڈ کے اندر ہی قائم تھا۔
پی پی ایل، وزارتِ پیٹرولیم کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اس کا کام پاکستان کے مختلف علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کرنا اور اسے مختلف کمپنیوں کو فراہم کرنا ہے۔
سوئی شہر ڈیرہ بگٹی سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ پاکستان میں گیس کا پہلا بڑا ذخیرہ پچاس کی دہائی میں بلوچستان کے ایک گاؤں سوئی سے دریافت ہوا تھا۔ اسی گیس کو اس علاقے سے منسوب کرتے ہوئے اسے سوئی گیس کا نام دیا گیا۔
سوئی میں موجود گیس کے کنوؤں سے گیس نکال کر پیورفیکیشن پلانٹ تک لائی جاتی ہے۔ وہاں اسے صاف کرنے کے بعد ٹربائن سسٹم کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ پلانٹ ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں پلانٹ میں کام کرنے والے ملازمین کے گھر، ملازمین کے لیے اسپتال اور دیگر دفاتر بھی قائم ہیں۔
پلانٹ کی سکیورٹی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مشتمل ڈیفنس سکیورٹی گارڈ کے حوالے تھی۔ اندر جانا اتنا آسان نہیں تھا۔ شناخت اور سکیورٹی پاس کے بغیر کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
ایسی سخت سکیورٹی کے باوجود 2 اور 3 جنوری 2005ء کی درمیانی رات سوئی فیلڈ کی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے ڈیفنس سکیورٹی گارڈ کا ایک کیپٹن حماد، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شازیہ خالد کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اس نے ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور مزاحمت کرنے پر انہیں زخمی بھی کردیا۔
پی پی ایل انتظامیہ نے اس واقعے کو خفیہ رکھا، کیونکہ پی پی ایل فیلڈ کے اندر اس طرح کا واقعہ معمولی بات نہیں تھی۔ ڈاکٹر شازیہ کو زخمی حالت میں کراچی منتقل کردیا گیا۔ ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹر شازیہ نے اپنے شوہر کو لیبیا فون کرکے پاکستان بلایا۔
دوسری طرف جیسے ہی ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے بگٹی قبائلیوں کو ملی تو شدید غصہ پھیل گیا۔ بگٹی قبیلے کے مسلح افراد نے سوئی گیس پلانٹ سمیت مختلف سرکاری تنصیبات پر راکٹ حملے شروع کردیے۔
نواب اکبر بگٹی نے اعلان کیا کہ ’’سندھ کی بیٹی کے ساتھ ہمارے علاقے میں ہونے والی زیادتی نے ہمارے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جب تک اس واقعے میں ملوث کیپٹن حماد ہمارے حوالے نہیں کیا جاتا، حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘‘
نواب اکبر بگٹی کے اس اعلان کے بعد بڑی تعداد میں فوجی دستے ڈیرہ بگٹی اور سوئی بھیجے گئے۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کے دستوں اور بگٹی قبیلے کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہیں۔
سکیورٹی اداروں نے ڈیرہ بگٹی شہر اور نواب اکبر بگٹی کے قلعے پر شدید بمباری کی۔ اس کے نتیجے میں شہر اور نواب کے قلعے کا بڑا حصہ تباہ اور مسمار ہوگیا۔
مشرف حکومت نے خفیہ طور پر ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر انجینئر خالد امان کو زبردستی برطانیہ بھیج دیا۔
حکومت نے نواب اکبر بگٹی کی بہن کے شوہر میر شیر باز مزاری، چوہدری شجاعت اور کئی دوسرے لوگوں کو نواب اکبر بگٹی کے پاس مذاکرات کے لیے بھیجا، لیکن نواب اکبر بگٹی نے کیپٹن حماد کو ان کے حوالے کیے جانے تک کسی بھی سمجھوتے سے انکار کردیا۔
آخرکار نواب اکبر بگٹی نے اپنا قلعہ چھوڑ دیا اور کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کی سرحد پر واقع پہاڑی علاقے ترنتائی کی غاروں میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
26 اگست 2006ء کو سکیورٹی اداروں نے ان کے ٹھکانے پر گائیڈیڈ میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں نواب اکبر بگٹی اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔

