14 اگست 2026 کو پاکستان اپنی آزادی کے 79 سال مکمل ہوگئے۔
یہ صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے اس عہد کی تجدید کا دن ہے، جب انہوں نے ایک علیحدہ، خودمختار اور منصفانہ ریاست کے حصول کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے ایک آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک، پاکستان، ابھارا۔
آج، جب ہم قیام پاکستان کے 79 سال مکمل ہونے پر یہ دن منا رہے ہیں، تو یہ موقع جہاں خوشی اور جشن کا ہے، وہاں ایک صحافتی و تاریخی انداز میں اس پورے 79 سالہ سفر کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کا بھی ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچے اور آئندہ کا راستہ کس سمت جاتا ہے۔
ابتدا اور ابتدائی چیلنجز (1947 – 1950 کی دہائی)
پاکستان کی پیدائش ہی کٹھن حالات میں ہوئی تھی۔ تقسیم کے فوراً بعد لاکھوں مہاجرین کی آمد، وسیع پیمانے پر فسادات، اثاثوں کی غیر مساوی تقسیم اور جموں و کشمیر کا تنازع جیسے مسائل نے نوزائیدہ ریاست کو گھیر لیا۔ اوپر سے قیام پاکستان کے محض ایک سال بعد قائد اعظم کی رحلت نے ملک کو ایک سیاسی خلا میں دھکیل دیا۔ ان تمام تر چیلنجز کے باوجود، ابتدائی دہائی میں پاکستان کے بیوروکریٹک اور فوجی ڈھانچے نے ریاست کو پاؤں پر کھڑا کیا۔
لیکن آئین سازی میں ہونے والی تاخیر نے جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع نہ دیا اور گورنر جنرل کے عہدے سے سیاسی مداخلت کے سلسلے کا آغاز ہوا۔
آمریت، سیاسی کشمکش اور ملکی تقسیم (1958 – 1971)
1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا نے پاکستان کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ ایوب خان کے دور میں اگرچہ صنعتی اور معاشی میدان میں اہم پیش رفت ہوئی، لیکن سیاسی جمہوریت پر پابندی اور اقتدار میں شراکت داری کا درست نظام نہ ہونے کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں احساس محرومی بڑھتا گیا۔ 1970 کے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور سیاسی بصیرت کی کمی کے باعث 1971 کا المناک سانحہ پیش آیا اور مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔
اس سانحے نے یہ سبق دیا کہ صرف فوجی طاقت یا معاشی نمو ریاست کو یکجا نہیں رکھ سکتی بلکہ عوامی رائے اور آئینی برابری ہی حقیقی استحکام کی ضامن ہے۔
آئین پاکستان، سیکیورٹی اور سیاسی اتھل پتھل (1970 اور 1980 کی دہائی)
سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور تباہ شدہ حوصلوں کو نئی جلا بخشی۔ اس دور کی سب سے بڑی کامیابی 1973 کا متفقہ آئین تھا، جس نے ملک کو ایک وفاقی اور پارلیمانی فریم ورک دیا۔ تاہم، 1977 میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا ملک کو ایک بار پھر آمریت کی تاریکی میں لے گیا۔
ضیا کا دور افغان جنگ، معاشرے میں شدت پسندی کے فروغ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث جانا جاتا ہے۔ اسی دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرد جنگ اور سلامتی کے بیانیے کا عمل دخل انتہائی گہرا ہوگیا۔
نوے کی دہائی کا جمہوری تجربہ اور ایٹمی قوت (1990 کی دہائی)
1988 سے 1999 تک کا دور بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی قیادت میں جمہوری حکومتوں کی باریوں کا دور رہا۔ اگرچہ اس دہائی میں آئین کے آرٹیکل 58 کی شق (2)(ب) کے ذریعے حکومتوں کو بار بار برطرف کیا گیا اور سیاسی عدم استحکام رہا، لیکن اسی دہائی میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔
اکیسویں صدی: دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سی پیک (2000 سے اب تک)
اکیسویں صدی کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا اور نائن الیون کے واقعات سے ہوا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بنا، جس کی قیمت ملک نے 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کی صورت میں ادا کی۔
اس کے بعد جمہوری دور کی واپسی ہوئی، جب 2008 سے 2013 تک صوبائی خودمختاری کی بحالی کے لیے 18ویں ترمیم منظور ہوئی، جبکہ 2013 کے بعد پاک چین اقتصادی راہداری کی بنیاد اور ملک سے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں سامنے آئیں۔ 2018 کے بعد کا دور ایک بار پھر سیاسی تناؤ، نئی سیاسی صف بندیوں اور معاشی بحران کے باعث مسلسل امتحان کا رہا ہے۔
آج کا پاکستان: درپیش چیلنجز اور امکانی راستے
تاسیس کے 79 سال مکمل ہونے پر پاکستان متعدد محاذوں پر کھڑا ہے، جیسے:
معاشی عدم استحکام: افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ملک کے معاشی ڈھانچے کے لیے سخت امتحان بنا ہوا ہے۔
سیاسی اور ادارہ جاتی کشمکش: قانون کی حکمرانی اور تمام اداروں کا اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
موسمیاتی تبدیلی:
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، جیسا کہ حالیہ سیلابوں سے واضح ہوا۔
نوجوان آبادی: پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور روزگار کی فراہمی ایک بڑا چیلنج اور موقع دونوں ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان کی 79 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس قوم نے انتہائی مشکل حالات، قدرتی آفات اور سیاسی بحرانوں کے باوجود ہمیشہ سنبھلنا سیکھا ہے۔ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا باہمت نوجوان اور محنتی عوام ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ سالوں میں پاکستان اپنے بانی کے خوابوں کی سچی تعبیر بنے، تو ہمیں سیکیورٹی سے ہٹ کر معاشی ترقی، قانون کی بالادستی، انسانی وسائل کی ترقی اور علاقائی و عالمی سطح پر توازن پر مبنی خارجہ پالیسی کو ترجیح دینی ہوگی۔
79واں سال تجدید عہد کا سال ہے، ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کا جہاں آئین، جمہوریت اور عوامی فلاح سب سے مقدم ہوں۔

