بنگلادیش کے بانی اور بنگالی قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان 17 مارچ 1920 کو بنگلادیش کے ضلع فریدپور میں ٹونگی محلے کے ایک متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ اسلامیہ کالج کلکتہ سے کرنے کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی سے قانون اور سیاسی سائنس کی ڈگریاں حاصل کیں۔
انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں پاکستان کی آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ شیخ مجیب الرحمان نے 1940 میں طلبہ سیاست کا آغاز ’آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘ اور ’آل انڈیا بنگال مسلم اسٹوڈنٹس لیگ‘ کا کونسلر بننے سے کیا۔ وہ 1946 میں اسلامیہ کالج اسٹوڈنٹس یونین، کلکتہ کے بلا مقابلہ سیکریٹری منتخب ہوئے۔
مارچ 1948 میں جب قائداعظم محمد علی جناح نے مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران ڈھاکا یونیورسٹی میں نئے آزاد ملک پاکستان کی قومی زبان اردو قرار دینے کا اعلان کیا تو مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے کئی طلبہ فائرنگ میں مارے گئے۔ شیخ مجیب کو زبان کے معاملے پر ہونے والے ہنگاموں کے دوران گرفتار کرلیا گیا۔
اس کے بعد 1949 میں ڈھاکا یونیورسٹی کے چھوٹے ملازمین کے حقوق کے لیے ہڑتال کرانے پر انہیں قانون کی کلاسوں سے خارج کردیا گیا۔ وہ جیل میں ’عوامی لیگ‘ کے مشترکہ سیکریٹری منتخب ہوئے اور 1952 تک جیل میں رہے۔
جیل سے رہائی کے بعد 1953 میں انہیں عوامی لیگ کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ شیخ مجیب 1954 میں متحدہ محاذ کی ٹکٹ پر پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے۔ اسی سال صوبائی کابینہ میں انہیں محنت اور تجارت کے محکمے دیے گئے۔
1958 میں مارشل لا کے دوران انہیں حفاظتی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا اور دسمبر 1959 میں رہا کردیا گیا۔ 1962 میں حسین شہید سہروردی کی گرفتاری کے خلاف جدوجہد کرنے پر انہیں گرفتار کیا گیا اور چھ ماہ بعد رہا کردیا گیا۔

1963میں جب حسین شہید سہروردی نے قومی جمہوری محاذ کو منظم کیا تو شیخ مجیب بھی اس میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے 1963 میں عوامی لیگ کو منظم کرنا شروع کیا اور 6 فروری 1966 کو لاہور میں منعقد ہونے والی ’قومی کانفرنس‘ میں چھ نکات پیش کیے۔ ان چھ نکات کا متن یہ ہے:
نکتہ 1: آئین قراردادِ لاہور کی بنیاد پر ایک وفاقی پاکستان اور ایسا پارلیمانی نظام قائم کرنے کی ضمانت دے، جس میں بالغ افراد کے ووٹ کی بنیاد پر براہِ راست منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کو بالادستی حاصل ہو۔
نکتہ 2: وفاقی حکومت کے پاس صرف دو محکمے، یعنی دفاع اور خارجہ امور، ہوں، جبکہ باقی تمام محکمے صوبوں کے انتظام میں ہوں۔
نکتہ 3 (الف): دونوں صوبوں کے لیے الگ الگ کرنسیاں جاری کی جائیں، تاہم انہیں آسانی سے ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل کیا جاسکے۔
(ب) : پورے ملک کے لیے ایک ہی کرنسی بھی مقرر کی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں ملک کے مشرقی حصے سے مغربی حصے کی طرف دولت کی منتقلی روکنے کے لیے آئین میں واضح انتظامات کیے جائیں۔ مشرقی پاکستان کے لیے الگ مالی ذخائر رکھے جائیں اور اس کے لیے الگ اقتصادی اور مالیاتی پالیسی مقرر کی جائے۔
نکتہ 4: ٹیکس عائد کرنے اور وصول کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہوگا اور وفاقی حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ وفاق کو اپنے ضروری اخراجات کے لیے صوبائی ٹیکسوں سے حصہ دیا جائے گا۔ وفاقی فنڈ تمام صوبائی ٹیکسوں پر عائد ایک مقررہ شرح کی بنیاد پر قائم ہوگا۔
- نکتہ 5:
- دونوں صوبوں میں قابلِ تبادلہ کرنسی سے حاصل ہونے والی آمدنی کے دو الگ الگ حساب رکھے جائیں گے۔
- مشرقی پاکستان کی آمدنی مشرقی پاکستان کی حکومت اور مغربی پاکستان کی آمدنی مغربی پاکستان کی حکومت کے انتظام میں ہوگی۔
- وفاقی حکومت کی غیر ملکی کرنسی کی ضروریات دونوں حصے برابری کی بنیاد پر کسی طے شدہ تقسیم کے تحت پوری کریں گے۔
- دونوں حصوں کے درمیان ملکی اشیا کی آمدورفت پر کوئی محصول عائد نہیں ہوگا۔
- آئین کے تحت صوبائی حکومتیں بیرونی ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے کی مجاز ہوں گی۔
نکتہ 6: مشرقی پاکستان کے لیے ملیشیا اور نیم فوجی فورس قائم کی جائے۔
چھ نکاتی پروگرام کے بعد عوامی لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ چھ نکات پیش کرنے کے بعد جنرل ایوب خان کی حکومت نے 1968 میں شیخ مجیب الرحمان سمیت عوامی لیگ کے 34 رہنماؤں کو اگرتلہ سازش کیس میں گرفتار کرکے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا۔
ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب نے جو تحریک چلائی، وہ زور پکڑتی گئی۔ دسمبر 1968 سے فروری 1969 تک پورے ملک میں مظاہرے ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں مولانا عبدالحمید بھاشانی نے گھیراؤ کرنے اور جلاؤ کی تحریک تیز کردی۔ اس دوران سینکڑوں لوگ مارے گئے، سرکاری عمارتیں، گاڑیاں اور بینک جلائے گئے۔
21 فروری 1969 کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں انتخابی امیدوار نہیں ہوں گے۔ 22 فروری 1969 کو شیخ مجیب الرحمان کو رہا کردیا گیا، اور 10 مارچ کو راولپنڈی میں گول میز کانفرنس ہوئی۔ شیخ مجیب کی اس میں تقریر چھ نکات کو مناسب الفاظ میں دہرانے کے مترادف تھی۔ یہ کانفرنس چار دن جاری رہی۔ ایوب خان نے کانفرنس ختم کرتے ہوئے ون یونٹ نہ توڑنے اور ایک شخص، ایک ووٹ کا نظام قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح اس کانفرنس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے یحییٰ خان کو اقتدار سنبھالنے کا حکم دیا۔ یحییٰ خان نے آئین توڑ کر مارشل لا نافذ کردیا اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا، جبکہ مغربی پاکستان کا گورنر یوسف ہارون کو مقرر کیا۔ جن کے نہ صرف ڈھاکا میں کارخانے تھے بلکہ ہارون خاندان کے شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ بہت گہرے اور دوستانہ تعلقات بھی تھے۔
27 فروری 1969 کو شیخ مجیب الرحمان نے ایک آئینی مسودے کا خاکہ جاری کیا، جس کے مطابق ملک کا نام وفاقی جمہوریہ پاکستان رکھا جائے گا۔ مشرقی پاکستان کا نام بنگلادیش اور صوبہ سرحد کا نام پختونستان ہوگا۔ دارالحکومت دو ہوں گے: ایک ڈھاکا اور دوسرا اسلام آباد۔ جنگ اور ہنگامی حالات کا اعلان قومی اسمبلی کرے گی۔ تینوں فوجوں کے مرکزی دفاتر ڈھاکا میں ہوں گے۔ خارجہ امور، دفاع اور کرنسی وفاق کے پاس ہوں گے۔ باقی تمام محکمے صوبوں کے پاس ہوں گے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے بینک الگ الگ ہوں گے۔ مرکز صوبوں سے اس طرح ٹیکس وصول کرے گا: بنگلادیش 27 فیصد، پنجاب 37 فیصد، سندھ 21 فیصد، بلوچستان 8 فیصد اور پختونستان 7 فیصد۔
1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان چھ نکاتی انتخابی منشور کی بنیاد پر اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ ان کی عوامی لیگ نے 133 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں۔ دادو کے حلقے سے سائیں جی ایم سید ملک سکندر سے ہار گئے، جس پر شیخ مجیب کو دکھ ہوا۔ شیخ مجیب نے ڈھاکا سے جیتی ہوئی اپنی دو نشستوں میں سے ایک نشست خالی کرکے وہاں سے سائیں جی ایم سید کو انتخاب لڑنے کی پیشکش کی، لیکن سائیں جی ایم سید نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
انتخابات کے بعد نئی حکومت بنانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو ڈھاکا میں شیخ مجیب سے مذاکرات کرنے گئے، لیکن یہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ 3 مارچ 1971 کو ہونے والے اسمبلی کے پہلے اجلاس کو اس سے پہلے ہی ملتوی کردیا گیا۔ اصل میں پاکستان کے جرنیل، پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ساتھی جاگیردار، نواب اور سرمایہ دار شیخ مجیب کو اقتدار دینا نہیں چاہتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی کہ معاملات طے ہوجائیں، لیکن بھٹو صاحب کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔
اس کے بعد شیخ مجیب کو ڈھاکا سے گرفتار کرکے میانوالی لایا گیا۔ ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں جنرل ٹکا خان کی قیادت میں فوجی آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے۔ قتل عام کے ردعمل میں بنگالی عوام نے علیحدگی کی تحریک چلائی۔ اس شورش کے دوران ہی بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا۔
بنگالیوں کی بغاوت اور بھارت کے حملے کے نتیجے میں آخرکار 16 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج کی مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی نے ہزاروں فوجیوں سمیت بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ دوسری طرف بنگالی مکتی باہنی کے علیحدگی پسند جنگجوؤں نے پاکستان سے الگ ہوکر بنگلادیش کا اعلان کردیا۔
20 دسمبر 1971 کو جنرل یحییٰ خان کو معزول کرکے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کردیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سب سے پہلے شیخ مجیب سے ملاقات کی اور انہیں آزاد کردیا۔ اب بنگلادیش پاکستان سے الگ ہوکر دنیا میں ایک ملک کی حیثیت سے نمودار ہوچکا تھا۔ کچھ فوجی جرنیل شیخ مجیب کو مارنا چاہتے تھے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب کو بحفاظت ملک سے روانہ کردیا۔
جیسے ہی شیخ مجیب بنگلادیش پہنچے، کچھ دن بعد 10 جنوری 1972 کو شیخ مجیب الرحمان بنگلادیش کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔ شیخ مجیب کو ’ بنگلا بندھو ‘ یعنی ’بنگالیوں کا باپ یا دوست ‘ کہا گیا۔
شیخ مجیب الرحمان نے بنگلادیش کی خراب صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے دنیا سے مدد کی اپیل کی۔ بھوک، بدحالی، سیلاب اور قحط کی صورتحال کے باعث بنگلادیش میں غربت اور اموات میں اضافہ ہوگیا۔

شیخ مجیب الرحمان نے 16 دسمبر 1972 کو پارلیمانی طرز حکومت نافذ کیا۔ 7 مارچ 1973 کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا، جو بنگلادیش کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے 300 میں سے 294 نشستیں حاصل کیں اور بعد میں وہ منتخب وزیراعظم بن گئے۔
22 فروری 1974 کو لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شیخ مجیب کو خصوصی طیارہ بھیج کر شرکت کروائی گئی۔ 24 فروری 1975 کو شیخ مجیب نے ایک نئی جماعت ’ بنگلادیش کسان عوامی لیگ‘ بنائی۔
14 اور 15 اگست 1975 کی درمیانی رات بنگلادیش کی فوج نے ملک کے بانی شیخ مجیب کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں ان کے خاندان سمیت قتل کردیا اور دھان منڈی، ڈھاکا میں واقع ان کے گھر کو بھی آگ لگا کر جلا دیا۔
شیخ مجیب کے قتل کے کئی سال بعد ان کی بچ جانے والی بیٹی شیخ حسینہ واجد نے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوگئیں اور ملک کی وزیراعظم بنیں۔ حسینہ واجد نے حال ہی میں ملک میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد استعفیٰ دے کر بھارت چلی گئیں۔
یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں اپنے اپنے ملک کے فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
آخر میں میں یہ کہوں گا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے تاریخی غلطیاں ہوئیں۔ بھٹو صاحب شیخ مجیب کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تو اقتدار شیخ مجیب کے حوالے ہوجاتا، شیخ مجیب وزیراعظم اور ذوالفقار علی بھٹو قائد حزب اختلاف بنتے۔ باقی سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت تھی، وہاں صوبائی حکومتیں پیپلز پارٹی کی بنتیں۔ س
رحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے کامیابی حاصل کی تھی، اس لیے سرحد میں مولانا مفتی محمود اور ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کی مشترکہ حکومت بنتی، جبکہ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے بلوچ قوم پرست سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور میر غوث بخش بزنجو کی حکومت بنتی۔
اس طرح پاکستان کا سیاسی نظام اور نقشہ ہی تبدیل ہوجاتا اور بھٹو صاحب خود بھی پھانسی نہ چڑھتے۔
آخرکار شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں اپنے اپنے ملک کے فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

