موری (ماری) پور کا ‘سفید سونا’: قدیم کراچی کی نمک کشیدگی، تحریک آزادی اور زوال کی داستان

موری

فضائی اڈے کے شور میں دفن ایک قدیم داستان

کراچی کا نام لیتے ہی آج کا عام شہری ‘موری (ماری) پور’ کا نام سن کر فوری طور پر پاک فضائیہ کے مسرور بیس یا پھر سڑکوں پر دوڑتے ہزاروں وزنی ٹرکوں کے دھوئیں اور شور کو تصور میں لاتا ہے۔

لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اس علاقے کی عالمگیر شہرت کی اصل وجہ اس کا تاریخی نمک کا کارخانہ تھا، جس نے غیر منقسم برصغیر میں کراچی کو سمندری نمک کی پیداوار کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنا دیا تھا۔ اس علاقے کا نام ہی برطانوی عہد کے پہلے نمک کے محصولات کے افسر ‘مسٹر موری’ کے نام پر منسوب ہے، جو اپنے دور میں نمک سازی کی جدید سائنس اور تجارتی تکنیک کے بے مثال ماہر سمجھے جاتے تھے۔

ویرانے سے صنعت تک: مسٹر موری کا گرڈ ڈیزائن 1878

ڈاکٹر سہیل انصاری کی تحقیق کے مطابق، موری پور میں باقاعدہ صنعتی نمک کشیدگی کا آغاز برطانوی راج میں 1878 کے دوران ہوا تھا۔ اس زمانے میں کراچی کا یہ ساحلی علاقہ بالکل دلدلی، ویران اور الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا جہاں سمندر کا نمکین پانی مدوجزر کے ساتھ چڑھتا اور اترتا تھا۔

انگریز حکومت نے اس ساحلی جغرافیے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے نمک کی صنعت کے لیے 500 ایکڑ سے زائد اراضی الاٹ کی۔ مسٹر موری نے، جنہیں کراچی کے پہلے باقاعدہ نمک کے تالاب قائم کرنے کا سہرا جاتا ہے، اس میں سے تقریباً 175 ایکڑ اراضی کو چھوٹے متناسب پلاٹوں میں تقسیم کیا۔

ان تالابوں کو سمندر کی اونچی اور سرکش لہروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے گرد 8 فٹ بلند حفاظتی پشتے تعمیر کیے گئے۔ اس خطے میں پانی کا قدرتی بہاؤ ایسا تھا کہ سمندری پانی خود بخود یا کنوؤں کے ذریعے تالابوں میں لایا جاتا تھا۔

نمک سازی کا روایتی طریقہ اور نوناری برادری کا کردار

یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ موری پور کے نمک کارخانے کوئی ‘نمک کی کانیں’ نہیں تھیں جہاں سے پتھر کی شکل میں نمک کھودا جاتا، بلکہ یہ سمندری پانی کی قدرتی تبخیر کا ایک منظم اور پیچیدہ تکنیکی عمل تھا۔

1843 میں سندھ پر قبضے کے بعد برطانوی حکمرانوں نے موری پور کے قریب کی یہ زمینیں اپنے مقامی حامیوں اور جاگیرداروں کو پیش کیں، لیکن انہوں نے اس الگ تھلگ اور سنسان علاقے میں زندگی گزارنے کو ناممکن سمجھ کر یہ پیشکش ٹھکرا دی۔

اس کے بعد انگریز انتظامیہ نے یہ دعوت ‘نوناری برادری’ کو دی، جو صدیوں سے اسی علاقے میں رہتے تھے اور روایتی طریقوں سے نمک جمع کرنے کے ماہر تھے۔ نوناری بنیادی طور پر لغت کے لحاظ سے ‘نون’ یعنی نمک بنانے یا اس کی تجارت کرنے والے لوگ کہلاتے ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، اس قبیلے کے لوگ قدیم دور سے ہی جنوبی پنجاب اور سندھ کی ساحلی پٹیوں پر روایتی نمک سازی سے وابستہ تھے۔

نمک سازی کے اس عمل میں تالابوں کے ساتھ کھودے گئے کنوؤں سے انتہائی کثیف نمکین پانی تالابوں میں پھیلایا جاتا تھا۔ سورج کی شدید حرارت اور تیز ہوا سے پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا اور نیچے نمک کی سفید تہیں باقی رہ جاتیں۔ مزدور لکڑی کے خاص کھرچنے والے اوزاروں سے نمک کو کھرچتے، پھر کنوؤں کے نمکین پانی سے اسے دھو کر صاف کرتے اور برف جیسے سفید مخروطی ڈھیروں کی شکل میں ذخیرہ کرتے تھے۔

صنعتی عروج، نجی کمپنیاں اور بنگال کو برآمدات

بیسویں صدی کے آغاز تک موری پور روڈ پر نمک کی صنعت تجارتی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اب یہاں نجی کمپنیوں نے سرمایہ کاری شروع کر دی تھی، جن میں ‘نصروانجی سالٹ ورکس’، ‘لکشمی سالٹ ورکس’ اور ‘گریکس سالٹ ورکس’ نمایاں تھے۔

کراچی کے پہلے میئر اور پارسی برادری کے مقتدر رہنما، جمشید نصروانجی مہتا نے موری پور میں محض ایک فیکٹری نہیں چلائی بلکہ اسے ایک فلاحی ماڈل بنا دیا۔ انہوں نے نمک کھرچنے والے نوناری مزدوروں کے لیے پکی بستی بنوائی، ان کے بچوں کے لیے اسکول قائم کیا اور ایک مفت ڈسپنسری کھولی۔

نمکین پانی میں مسلسل کام کرنے کی وجہ سے مزدوروں کو جلد کی بیماریاں ہو جاتی تھیں، جن کا علاج نصروانجی کی ڈسپنسری میں بالکل مفت ہوتا تھا۔ دوسری طرف، ‘گریکس سالٹ ورکس’ نے اس صنعت میں جدید انجینئرنگ متعارف کروائی۔ انہوں نے نمک کے گڑھوں سے تیار شدہ نمک کو منتقل کرنے کے لیے موری پور میں ایک ہلکی ریلوے کا نیٹ ورک بچھایا۔

جب سورج کی تیز گرمی سے سمندر کا پانی اڑ جاتا اور پیچھے سفید نمک کی تہیں باقی رہ جاتیں، تو مزدور اسے کھرچ کر برف جیسے سفید مخروطی ڈھیروں کی شکل دیتے۔ وہاں سے یہ نمک چھوٹی ٹرام گاڑیوں میں لوڈ ہو کر موری پور ریلوے سائڈنگ تک جاتا، جہاں سے اسے نارتھ ویسٹرن ریلوے کی بڑی ویگنز کے ذریعے کیماڑی بندرگاہ پہنچایا جاتا تھا۔ وہاں کھڑے بحری جہاز اس نمک کو دنیا بھر میں برآمد کرتے تھے۔

1940 کی دہائی میں موری پور کا تیار کردہ یہ نمک بڑی مقدار میں بنگال بھیجا جاتا تھا۔ اگر حالیہ سالوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے، مثلاً 2004 کے دستیاب آمار کے مطابق، تو اس علاقے میں ماہانہ تقریباً 20,000 ٹن نمک تیار ہوتا تھا، جس کا ماہانہ کاروباری حجم تقریباً 60 لاکھ روپے تھا۔

اس صنعت سے تقریباً 250 مزدور خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ تھی۔ موجودہ دور میں یہاں سے خام نمک خریدنے والے زیادہ تر مقامی تاجر ہیں جو اسے پیس کر غذائی صنعت کے لیے چھوٹے پیکٹوں میں فروخت کرتے ہیں۔

نمک پر برطانوی ٹیکس اور کراچی کا خونریز ستیہ گرہ، سول نافرمانی کی تحریک، اپریل 1930

برصغیر میں نمک پر ٹیکس کی تاریخ بہت پرانی ہے، لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے کنٹرول کے بعد برطانوی حکومت نے اس میں بے تحاشا اضافہ کر دیا تھا۔ انگریزوں کے عائد کردہ اس ظالمانہ نمک ٹیکس نے ہندوستانی عوام میں شدید غصہ پھیلا دیا، جس کا نکتہ عروج 1930 میں مہاتما گاندھی کا مشہور ‘نمک ستیہ گرہ’ بنا۔

کراچی اس تحریک کا ایک اہم ترین مرکز بن کر ابھرا۔ اپریل 1930 کی ایک برطانوی اخباری رپورٹ کے مطابق، جب انڈین نیشنل کانگریس کے چھ رہنماؤں پر برطانوی نمک کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا، تو کراچی میں زبردست اور پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے۔

ورکرز یونین کے اراکین اور طلبہ پر مشتمل 10,000 سے زائد افراد کے مشتعل ہجوم نے عدالت کا گھیراؤ کر لیا۔ مظاہرین نے پتھراؤ کر کے عدالت کی تمام کھڑکیاں توڑ دیں، پولیس کا حصار توڑ کر کورٹ روم اور دفاتر کو تہس نہس کر دیا۔ ہجوم نے موٹر گاڑیوں اور ٹراموں پر حملہ کر کے سواریوں کو زخمی کر دیا۔

پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے باوجود ہجوم منتشر نہ ہوا، جس پر پولیس نے گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں 9 افراد شدید زخمی ہوئے اور ایک شخص بعد میں دم توڑ گیا۔ بالآخر برطانوی فوج کو طلب کر کے امن و امان بحال کیا گیا، جبکہ اس دن پورٹ کے گودی مزدوروں اور صفائی کے عملے نے اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مکمل ہڑتال کی۔

عالمی جنگ، فضائی اڈہ اور زوال

موری پور کی اس تاریخی صنعت کا زوال 1940 کی دہائی میں دوسری جنگ عظیم کے ساتھ شروع ہوا۔ برطانوی سلطنت کو دفاعی مقاصد کے لیے کراچی میں ایک وسیع ہوائی اڈے کی ضرورت پیش آئی، جس کے لیے موری پور کی ہموار اور کشادہ اراضی پر ‘رائل ایئر فورس اسٹیشن موری پور’ قائم کیا گیا، جو بعد میں پاک فضائیہ کا مسرور بیس بنا۔

رن وے اور عسکری سیکیورٹی زون کے لیے نمک کے دسیوں کارخانوں اور سینکڑوں ایکڑ اراضی کو سرکاری طور پر تحویل میں لے لیا گیا۔ بندرگاہ تک نمک لے جانے والی ٹرام لائنیں سیکیورٹی وجوہات پر بند کر دی گئیں اور نوناری برادری کے موروثی گڑھے ختم ہو گئے۔ اگرچہ آج نمک سازی کے کچھ حصے کورنگی کریک اور لون خان بھنبھور کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، لیکن موری پور کا نام اور اس کا ماضی کراچی کی تجارتی و سیاسی جدوجہد کی ایک ناقابل فراموش داستان کے طور پر تاریخ میں درج ہے۔

اسی بارے میں: