پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں حالیہ سیاسی بحران، احتجاجی تحریک اور بدامنی کی تحقیقات کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن (سچائی اور مفاہمتی کمیشن) قائم کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔
قرارداد کے مطابق مجوزہ کمیشن آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے گا اور حالیہ احتجاج، تشدد، سیاسی کشیدگی اور اس سے جڑے تمام واقعات کی تحقیقات کرے گا۔ کمیشن بحران کے اسباب اور حقائق سامنے لانے، تمام فریقوں کے مؤقف اور شکایات سننے اور دیرپا امن، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کمیشن کا مقصد حکومت، سیاسی جماعتوں، احتجاجی مظاہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا اور ایسے اقدامات تجویز کرنا ہے جن سے آئندہ سیاسی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے دوران پیش کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں تمام متعلقہ فریقوں کی نمائندگی ہو۔
ان کے مطابق کمیشن بحران کے اصل حقائق معلوم کرے، تمام فریقوں کی شکایات اور مؤقف کا جائزہ لے، سیاسی، قانونی اور انتظامی مسائل کی جانچ کرے اور ایک ایسا حل تجویز کرے جو منصفانہ، پائیدار اور تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
یہ قرارداد ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب گزشتہ کئی ہفتوں سے آزاد کشمیر، خصوصاً پونچھ ڈویژن میں سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
اس دوران احتجاجی مظاہرے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، گرفتاریاں اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے۔
ان واقعات نے آزاد کشمیر کی سیاست کو مزید گرم کر دیا ہے اور جاری انتخابی عمل کے دوران یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن گیا ہے۔
ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو ان معاشروں میں قائم کیا جاتا ہے جہاں طویل سیاسی تنازع، خانہ جنگی، آمریت یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو چکی ہوں۔
ایسے کمیشن صرف مجرموں کو سزا دلانے پر توجہ نہیں دیتے بلکہ حقائق سامنے لانے، متاثرین کی بات سننے، ان کے نقصانات کا اعتراف کرنے، اصلاحات کی سفارش کرنے اور معاشرے میں مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا کے چالیس سے زیادہ ممالک میں اس نوعیت کے کمیشن قائم کیے جا چکے ہیں۔
دنیا میں اس کی سب سے معروف مثال جنوبی افریقہ کا ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن ہے، جو نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے بعد 1995 میں صدر نیلسن منڈیلا کے دور میں قائم کیا گیا۔
اس کمیشن کی سربراہی آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو نے کی۔
کمیشن نے 1960 سے 1994 تک ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیں۔ ہزاروں متاثرین نے کھلے عام اپنے ساتھ ہونے والے ظلم، تشدد، قتل اور جبری گمشدگیوں کی گواہیاں دیں۔ جن افراد نے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے جرائم کا مکمل اعتراف کیا، انہیں بعض صورتوں میں معافی بھی دی گئی۔
کمیشن نے اپنی جامع رپورٹ میں متاثرین کو معاوضہ دینے اور ریاستی اداروں میں اصلاحات کی سفارش کی۔
جنوبی افریقہ کے علاوہ چلی نے 1990 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد ایسا کمیشن قائم کیا جس نے سیاسی قتل اور جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کیں۔ ایل سلواڈور میں 1992 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں سچائی کمیشن بنایا گیا۔
گوئٹے مالا میں طویل خانہ جنگی کے دوران ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم ہوا، جس نے ریاستی اداروں کو زیادہ تر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
اسی طرح سیرالیون، پیرو، مشرقی تیمور، مراکش، کینیڈا اور کولمبیا میں بھی مختلف ادوار میں ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کیے گئے۔
ان کمیشنوں نے خانہ جنگیوں، نسلی امتیاز، جبری گمشدگیوں، تشدد، مقامی آبادیوں کے حقوق کی پامالی اور دیگر سنگین واقعات کی تحقیقات کیں اور متاثرین کے لیے معاوضے، ریاستی اصلاحات اور قومی مفاہمت کی سفارشات پیش کیں۔
اگرچہ ہر ملک میں ان کمیشنوں کا دائرۂ کار مختلف رہا، تاہم ان کے بنیادی مقاصد ایک جیسے تھے۔ ان میں ماضی کے واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کرنا، متاثرین اور گواہوں کے بیانات قلم بند کرنا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا، متاثرین کے لیے معاوضے کی سفارش کرنا، ریاستی اداروں میں اصلاحات تجویز کرنا اور مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام کے لیے قومی مفاہمت کو فروغ دینا شامل ہے۔
ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن عام طور پر عدالتوں کی طرح سزائیں نہیں سناتے بلکہ ان کا کردار حقائق سامنے لانا اور اصلاحی تجاویز دینا ہوتا ہے۔
بعض ممالک میں ان کمیشنوں کے ساتھ خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئیں تاکہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی حالیہ قرارداد بھی اسی عالمی تصور سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ مجوزہ کمیشن کو گواہوں کو طلب کرنے، سرکاری ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے یا دیگر قانونی اختیارات حاصل ہوں گے یا نہیں۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ اس قانون یا ضابطے میں کیا جائے گا جس کے تحت کمیشن قائم کیا جائے گا، جس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

