اداکار سے ایوانِ صدر تک: 26 جولائی 1955، آصف علی زرداری کی سالگرہ کا دن

آصف علی زرداری

آج پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ ہے۔ وہ 26 جولائی 1955 کو نواب شاہ، سندھ میں پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور وہ دو مرتبہ ملک کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کے حامی مختلف تقریبات اور پیغامات کے ذریعے انہیں مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور ان کی سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

زرداری خاندان کی تاریخ

زرداری قبیلے کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض لوگ انہیں بلوچوں کے بلیدی قبیلے کی ایک شاخ قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ مؤرخ انہیں سماٹ برادری کے جٹوں کی ایک شاخ سے جوڑتے ہیں۔ ان کا پیشہ زراعت اور اونٹ پالنا تھا۔

زرداریوں کے جدِ امجد مرکو زرداری تھے، جن کے بیٹے کا نام میر زرداری تھا۔ میر زرداری کی اولاد میں بلاول المعروف بالو فقیر تھے، جو میاں غلام شاہ کلہوڑو کی میاں وال تحریک میں شامل تھے۔ دراصل زرداری، کلہوڑوں کے مرید تھے۔ یہ قبیلہ کاچھو، دادو سے ہجرت کر کے نواب شاہ اور نوشہرو فیروز کی طرف منتقل ہوا۔ تاہم آج بھی ضلع دادو میں زرداریوں کے کئی گاؤں موجود ہیں۔

بالو فقیر زرداری کی اولاد سے زرداری قبیلے کی مختلف شاخیں وجود میں آئیں۔ ان میں سے ایک شاخ میں گاؤں فتح ہل زرداری کے سجاول زرداری تھے۔ سجاول زرداری کے بیٹے حسین زرداری کی پہلی بیوی زرداری قبیلے کی ہی ایک خاتون تھیں۔ پہلی بیوی سے ان کے ہاں عبداللہ زرداری پیدا ہوئے، جبکہ دوسری بیوی سلطانہ بیگم سے حاکم علی زرداری سمیت دو بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

حسین زرداری کی دوسری شادی کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ سندھ کے دارالحکومت نیرون کوٹ، جو بعد میں میر تالپوروں کے دورِ حکومت میں حیدرآباد کے نام سے مشہور ہوا، میں موجودہ رانی باغ کی زمین ہندو زمیندار سہارام خوب چند لیلا رام کی ملکیت تھی۔ اس زمین کو واڈھو واہ کے پانی سے سیراب کیا جاتا تھا۔

لیلا رام بھیرو مل نے اپنے والد سہارام خوب چند لیلا رام کی یاد میں رانی باغ کے درمیان ایک چبوترہ تعمیر کرایا تھا، جہاں ماضی میں ایک ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ اب رانی باغ کی اسی مرکزی جگہ پر جھولے نصب ہیں اور پارک بنایا گیا ہے۔

حیدرآباد میں وادھو واہ کھدوانے والے دیوان وادھو مل جھامن داس نے اپنی بیٹی گوپی کی یاد میں ایک تالاب تعمیر کرایا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں جانوروں کا چڑیا گھر قائم کیا گیا۔

برطانوی دور میں رانی باغ کی دیکھ بھال کرنے والے حیدرآباد میونسپل کمیٹی کے ملازم غلام حسین افغانی زیارت کی نیت سے پیدل عراق روانہ ہوئے۔ وہ اپنی پہلی بیوی بچان کمانگر کو حیدرآباد میں چھوڑ گئے۔ عراق پہنچنے پر بصرہ کی جنگ جاری تھی۔ اس دوران وہ عراقی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ غلام حسین افغانی نے وہاں ایک خوبصورت عراقی خاتون سلطانہ بیگم سے شادی بھی کر لی۔

بصرہ کی جنگ ختم ہونے کے بعد، برطانوی راج کے زمانے میں، غلام حسین افغانی اپنی اہلیہ سلطانہ بیگم اور اپنے پانچ سالہ بیٹے قاسم افغانی کے ساتھ واپس حیدرآباد آ گئے اور فقیر کی پڑ والے اپنے گھر میں رہائش اختیار کی۔ کچھ عرصے بعد غلام حسین افغانی بیماری کے باعث جنگشاہی ریلوے اسٹیشن پر انتقال کر گئے۔

غلام حسین افغانی کے انتقال کے بعد ان کی عراقی اہلیہ سلطانہ بیگم بیوہ ہو گئیں اور حیدرآباد میں آفندی خاندان کے پاس رہنے لگیں۔ عدت پوری ہونے کے کچھ عرصے بعد نواب شاہ کے گاؤں فتح ہل زرداری کے زمیندار حاجی حسین زرداری حیدرآباد میں آفندی خاندان سے ملنے آئے۔ وہاں ان کی نظر سلطانہ بیگم پر پڑی، جو نوجوان، خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھیں۔ حاجی حسین زرداری ان سے متاثر ہو گئے اور آخرکار آفندی خاندان کی وساطت سے سلطانہ بیگم سے دوسری شادی کر لی۔

حاجی حسین زرداری اور سلطانہ بیگم کے ہاں حاکم علی زرداری سمیت ایک بیٹا اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ان کی بڑی بیٹی ارباب خاتون کی شادی پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق سینئر پروڈیوسر منظور قریشی کے چچا اور سابق زرعی افسر مرحوم محمد علی قریشی سے ہوئی۔ دوسری بیٹی خورشید بیگم کی شادی نواب شاہ کے ایک سید خاندان میں ہوئی، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی خانزادی کی شادی وکیل غلام حسین قریشی سے ہوئی۔

جائیداد کی تقسیم کے وقت حاجی حسین زرداری کے بیٹوں حاکم علی زرداری اور عبداللہ زرداری کو تو حصہ ملا، لیکن سلطانہ بیگم کے پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے قاسم افغانی کو کچھ نہیں ملا۔ بعد ازاں قاسم افغانی کو کراچی ہائی کورٹ میں ٹائپسٹ کی ملازمت ملی۔

انہوں نے شادی کی، جن سے تین بیٹیاں حمیدہ، رشیدہ اور فہمیدہ پیدا ہوئیں۔ رشیدہ ملک کی معروف فوٹوگرافر بنیں، جبکہ فہمیدہ کی شادی ریٹائرڈ سیشن جج شاہنواز اعوان کے بھائی نظام الدین اعوان سے ہوئی، جو ریڈیو پاکستان خیرپور کے سابق اسٹیشن ڈائریکٹر مرحوم ارشاد علی اعوان کے رشتہ دار تھے۔

9 دسمبر 1930 کو گاؤں فتح ہل زرداری میں پیدا ہونے والے حاکم علی زرداری کی پہلی شادی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی، ممتاز ماہر تعلیم اور ادیب حسن علی آفندی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی بلقیس سلطانہ سے ہوئی، جو میر رسول بخش ٹالپر کی سالی اور سندھ کے معروف شاعر مظفر حسین جوش کی رشتہ دار بھی تھیں۔

آفندی خاندان دراصل سعید آباد کے میمن آخوند تھے۔ روایت کے مطابق حسن علی آخوند نے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان کی مالی مدد کے لیے چندہ دیا، جس پر سلطان نے انہیں ‘آفندی’ کا لقب عطا کیا، جس کے معنی ‘معزز’ یا ‘معتبر’ کے ہیں۔ اس کے بعد حسن علی آخوند، حسن علی آفندی کے نام سے مشہور ہوئے۔

حسن علی آفندی کے ایک پوتے حسین علی میمن محکمہ جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ان کی شادی مرزا خاندان کی میمونہ بیگم سے ہوئی۔ حسین علی میمن اور میمونہ بیگم کی ایک بیٹی بلقیس سلطانہ تھیں۔

بلقیس سلطانہ اور رئیس حاکم علی زرداری کا نکاح، شادی اور رخصتی حیدرآباد سینٹرل جیل کے احاطے میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں ہوئی، کیونکہ ان دنوں بلقیس سلطانہ کے والد حسین علی میمن کی تعیناتی حیدرآباد سینٹرل جیل میں تھی۔

رئیس حاکم علی زرداری اور بلقیس سلطانہ کے ہاں چار بچے پیدا ہوئے۔ سب سے پہلے نومبر 1951 میں بیٹی فوزیہ زرداری پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی ایوب خان کی کابینہ کے وزیر کرنل افضل خان کے بیٹے اقبال حبیب سے ہوئی، جو ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ فوزیہ زرداری کی دو بیٹیاں ہیں۔

اس کے بعد 21 فروری 1953 کو بیٹی عذرا پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ ان کی شادی سابق بیوروکریٹ اور سابق سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو سے ہوئی۔

پھر 26 جولائی 1955 کو آصف علی زرداری پیدا ہوئے۔ آخر میں 26 اپریل 1958 کو فریال پیدا ہوئیں۔ فریال کی شادی میر علی بخش ٹالپر کے بیٹے میر منور ٹالپر سے ہوئی۔ ان کے دو بچے ہوئے، بیٹا میر سرور ٹالپر اور بیٹی عائشہ۔ میر سرور ٹالپر نے خودکشی کر لی، جبکہ بیٹی عائشہ کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔

بلقیس سلطانہ کی بہنوں کی شادیاں میمن اور ٹالپر خاندانوں میں ہوئیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل، ڈاکٹر شعیب میر اور ڈاکٹر واصف علی، آصف علی زرداری کے ماموں زاد بھائی ہیں۔ اسی طرح میر رسول بخش ٹالپر کی اہلیہ بھی آصف علی زرداری کی والدہ بلقیس سلطانہ کی کزن تھیں۔ اس نسبت سے میر رفیق ٹالپر اور آصف علی زرداری آپس میں دور کے ماموں زاد بھی ہیں۔

مرحومہ بلقیس سلطانہ نے بمبینو سنیما کے منیجر سید مظفر کے بیٹے اویس مظفر المعروف ٹپی کو بھی اپنے بیٹوں کی طرح پالا۔ اسی وجہ سے اویس مظفر ٹپی خود کو آصف علی زرداری کا بھائی کہا کرتے تھے۔

آصف علی زرداری کی والدہ بلقیس سلطانہ 13 نومبر 2002 کو انتقال کر گئیں۔ انہیں نواب شاہ کے قریب آبائی قبرستان ‘بالو جا قبا’ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

آصف علی زرداری کا جنم

رئیس حاکم علی زرداری کے گھر پیدا ہونے والے آصف علی زرداری کے بارے میں اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہی بچہ ایک دن ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کا بے تاج بادشاہ بن جائے گا۔

رئیس حاکم علی زرداری کے ہاں ایک ہی بیٹا تھا، جو بچپن ہی سے شرارتی اور ضدی مزاج تھا۔ اس کی شرارتوں کی شکایات نہ صرف محلے والے کرتے تھے بلکہ اسکول کے اساتذہ بھی اکثر شکایت کرتے تھے۔ کیڈٹ کالج پٹارو میں تعلیم کے دوران کالج کے ایڈمنسٹریشن بلاک میں ہنگامہ آرائی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کالج کے پرنسپل ایس ایس عظیم نے 6 اپریل 1972 کو لیٹر نمبر CDT/5940/72 جاری کیا، جس کے تحت چار طلبہ پر کالج میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

ان طلبہ میں کیڈٹ وحیدالدین، کیڈٹ زرار حیدر، کیڈٹ محمد نسیم اور کیڈٹ آصف علی بلوچ (زرداری) شامل تھے۔

اس نوٹس کے بعد رئیس حاکم علی زرداری نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی کروا کر اپنے اکلوتے بیٹے کا کالج میں دوبارہ داخلہ بحال کرا لیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد آصف علی زرداری نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈپلومہ کیا۔

بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب آصف علی زرداری کا زیادہ تر وقت سندھ یونیورسٹی جامشورو کے اس دور کے باغی اور سرگرم کامریڈ طلبہ کے ساتھ گزرتا تھا۔

اسی دوران ان کی دوستی ایل ایم سی جامشورو کے طالب علم ذوالفقار مرزا سے بھی ہوئی۔ پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب آصف علی زرداری کا زیادہ تر وقت حیدرآباد میں اولڈ کیمپس اور گل سینٹر کے درمیان واقع بمبینو سنیما کے قریب مصطفیٰ میمن کے شوروم پر گزرتا تھا۔

مصطفیٰ میمن ان کے فرنٹ مین اور کاروباری شراکت دار تھے۔ بعد میں آصف علی زرداری نے مصطفیٰ میمن کے کاروبار، جائیداد اور پیٹرول پمپوں پر قبضہ کر لیا اور ان کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج کرا دیے۔ مصطفیٰ میمن جان بچا کر ملک چھوڑ گئے اور آخرکار دبئی میں وفات پا گئے۔

’کوئی رشتہ ہی نہیں دیتا‘

رئیس حاکم علی زرداری اپنے اکلوتے بیٹے کی سرگرمیوں کے بارے میں اکثر فکر مند رہتے تھے۔ دسمبر 1982 کی وہ سرد اور ابر آلود شام آج بھی بہت سے زرداریوں کو یاد ہے، جب مورو کے قریب زرداری برادری کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں سیٹھ مولا بخش زرداری کی اوطاق پر رئیس حاکم علی زرداری اپنے اکلوتے بیٹے آصف کے ساتھ برادری کے لوگوں سے ملنے آئے تھے۔

اس موقع پر رئیس سلام زرداری، رئیس حاکم علی زرداری اور آصف زرداری کا تعارف گاؤں کے معززین سے کرا رہے تھے۔ اس محفل میں ڈاکٹر لائق زرداری، رئیس غلام رسول زرداری، حاجی ارباب زرداری اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اسی دوران حاجی ارباب زرداری نے آصف علی زرداری سے کہا، ‘تم رئیس کے اکلوتے اور بڑے بیٹے ہو، اب نسل آگے بڑھانے کے لیے شادی کر لو۔’

اس پر آصف علی زرداری نے جواب دیا، ‘مجھے کوئی رشتہ ہی نہیں دیتا، پھر شادی کیسے کروں؟’

ان کی یہ بات سن کر محفل میں موجود سب لوگ ہنس پڑے۔ بعد میں کھانے کے دوران حاجی ارباب زرداری نے یہی بات رئیس حاکم علی زرداری سے کہی کہ ‘رئیس، تم اس کے والد ہو، اب اس کی شادی کر دو۔’

اس پر رئیس حاکم علی زرداری نے جواب دیا، ‘یہ جوان آدمی ہے، جب کہے گا شادی کرا دوں گا۔ زبردستی تو اس کی شادی نہیں کرا سکتا۔’

ذوالفقار علی بھٹو اور رئیس حاکم علی زرداری کی دوستی اس زمانے میں شروع ہوئی جب ذوالفقار علی بھٹو بیرون ملک سے بیرسٹری کی تعلیم مکمل کر کے واپس آئے۔ انہوں نے ایس ایم لا کالج کراچی میں لیکچرار کی حیثیت سے کام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ اس دور کے معروف قانون دان اور وکیل ڈنگومل رام چندانی کی لا فرم بھی جوائن کی۔

ذوالفقار علی بھٹو اور حاکم علی زرداری کی پہلی ملاقات رئیس غلام مصطفیٰ جتوئی کے ذریعے رام چندانی کے دفتر میں ہوئی، جہاں حاکم علی زرداری کراچی کے چند متنازع پلاٹوں اور جائیداد کے مقدمات کے سلسلے میں آئے تھے۔ یہی واقفیت بعد میں گہری دوستی میں بدل گئی۔

کراچی میں تقسیم ہند کے بعد پہلی بار 1947 میں نشاط اور جوبلی سنیما قائم ہوئے۔ اس کے بعد سابق بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ پر اسٹار سنیما بنایا گیا، جہاں آج اللہ والا مارکیٹ اور موبائل مارکیٹ قائم ہیں۔

ساٹھ کی دہائی میں شیخ کاشف علی نے بمبینو سنیما کی تعمیر شروع کی، لیکن ابھی یہ زیر تعمیر ہی تھا کہ رئیس حاکم علی زرداری نے اسے خرید لیا۔ حاکم علی زرداری سندھ کے ان چند بڑے زمینداروں میں شامل تھے جنہوں نے اس زمانے میں شوبز کی صنعت میں سرمایہ کاری کی۔

انہوں نے مانڈی والا پکچرز کے ساتھ مل کر فلموں کی پیشکش، نمائش اور تقسیم کا کاروبار ‘بمبینو چیمبرز’ سے شروع کیا۔ بعد میں وہ کراچی کے صدر میں ریگل چوک کے قریب واقع مشہور جڑواں سینماؤں، بمبینو اور اسکالا، کے مالک بھی بن گئے۔ وہ ان سینماؤں کے مالک کیسے بنے، یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔

رئیس حاکم علی زرداری فلمی صنعت میں فلموں کے نمائش کار، تقسیم کار اور پیشکار کے طور پر معروف تھے۔ ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور لالی ووڈ کی تقریباً ہر نئی فلم کی نمائش کراچی میں سب سے پہلے انہی کے سینماؤں میں ہوتی تھی۔ نور جہاں، شمیم آرا، مسرت نذیر اور اس دور کی دیگر معروف فلمی شخصیات ان کی مہمان ہوا کرتی تھیں۔ خوبصورت چہروں اور بااثر شخصیات کی میزبانی ان کی کمزوری سمجھی جاتی تھی۔

اسی تعلق اور ذوالفقار علی بھٹو سے دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بمبینو سنیما کی افتتاحی تقریب میں صدر ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے ذریعے مدعو کیا اور افتتاح ان سے کرایا۔

ہالی ووڈ کی دو عالمی اعزاز یافتہ فلموں ‘لارنس آف عریبیہ’ اور ‘کلیوپیٹرا’ کی پاکستان میں پہلی نمائش بھی حاکم علی زرداری کے بمبینو سنیما میں ہوئی۔

حاکم علی زرداری کی پہلی اہلیہ مرحومہ بلقیس سلطانہ کی قریبی رشتہ دار ملکہ سلطانہ آفندی نے اپنی فلم ‘منزل دور نہیں’، جس کا بعد میں نام بدل کر ‘سالگرہ’ رکھا گیا، بنائی۔ اس فلم میں وحید مراد کے بچپن کا کردار آصف علی زرداری نے ادا کیا۔ فلم کے ہدایت کار زاہد علی خان تھے اور یہ فلم 14 فروری 1969 کو کراچی کے پلازہ سنیما میں ‘نبیلہ’ بینر کے تحت نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

اس فلم میں چائلڈ اداکار آصف علی زرداری کے علاوہ وحید مراد، شمیم آرا، صوفیہ بانو، سجاد، حنیف، روزینہ اور دیگر فنکاروں نے کام کیا، تاہم فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔

بعد میں جب حاکم علی زرداری نے بمبینو سنیما میں ہالی ووڈ کی مشہور فلم ‘ڈاکٹر ژیواگو’ کی نمائش کی تو ذوالفقار علی بھٹو کے لیے ایک خصوصی شو رکھا گیا۔ اس شو میں صرف ذوالفقار علی بھٹو، ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو، سات سالہ بیٹی بینظیر، جنہیں گھر میں پیار سے ‘پنکی’ کہا جاتا تھا، اور پانچ سالہ بیٹے میر مرتضیٰ نے شرکت کی۔

اس وقت رئیس حاکم علی زرداری کے پانچ سالہ بیٹے آصف علی زرداری کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ جن مہمانوں کو فلم دکھانے کے لیے ان کے والد نے کتنی محنت اور کوششیں کی تھیں اور جن کی آمد پر وہ بے حد خوش تھے، انہی مہمانوں کے خاندان سے ان کا مستقبل اس قدر گہرے انداز میں جڑ جائے گا۔

ان خاص مہمانوں میں شامل سات سالہ بینظیر ایک دن ان کی شریکِ حیات بن جائیں گی، اس وقت کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی تو اس وقت ضلع نواب شاہ، جس میں نوشہرو فیروز بھی شامل تھا، سے رئیس غلام مصطفیٰ جتوئی تو پہلے ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے تھے، لیکن نواب شاہ کے مقامی وڈیروں کے باہمی اختلافات اور جتوئی، سید سیاسی تنازع کے باعث نواب شاہ کے سید خاندان پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوئے۔

1970 کے انتخابات کے وقت نوشہرو تعلقہ ضلع نواب شاہ کا حصہ تھا اور نواب شاہ اور نوشہرو کی قومی اسمبلی کی مجموعی طور پر دو نشستیں تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مورو اور نوشہرو کے حلقہ این اے 113 سے غلام مصطفیٰ جتوئی کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا۔ اس حلقے میں ان کے مقابلے میں سید ظفر علی شاہ امیدوار تھے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی 87,597 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ سید ظفر علی شاہ 55,166 ووٹ حاصل کر کے شکست کھا گئے۔

حاکم علی زرداری پی پی کا ایم این اے

نواب شاہ کے حلقہ این اے 112 سے ذوالفقار علی بھٹو نے غلام مصطفیٰ جتوئی کی سفارش پر سید امیدواروں کے مقابلے میں رئیس حاکم علی زرداری کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا۔ رئیس حاکم علی زرداری 63,845 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ ان کے مدِمقابل سید شبیر احمد شاہ 52,215 ووٹ حاصل کر کے ہار گئے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد 20 دسمبر 1971 کو جنرل یحییٰ خان نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کیا۔ بعد میں 1973 کا آئین تمام پارلیمانی جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کیا، لیکن جب آئین پر دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو قومی اسمبلی کے کئی ارکان نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

جن ارکانِ قومی اسمبلی نے 1973 کے آئین پر دستخط نہیں کیے، ان میں یہ شخصیات شامل تھیں:

1۔ میر علی احمد ٹالپر (میر حیدر ٹالپر اور میر محمد علی ٹالپر کے والد)
2۔ عبدالحمید خان جتوئی (لیاقت علی جتوئی کے والد)
3۔ میر علی بخش ٹالپر (میر منور ٹالپر کے والد اور فریال ٹالپر کے سسر)
4۔ نواب خیر بخش مری
5۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ
6۔ بیگم جینیفر موسیٰ
7۔ میاں محمود علی قصوری، قصور
8۔ مخدوم نور محمد ہاشمی، رحیم یار خان
9۔ میاں نظام الدین، بہاولپور
10۔ ارباب سکندر خلیل

عبدالحمید خان جتوئی، میر علی احمد ٹالپر، حاکم علی زرداری اور میر علی بخش ٹالپر، اگرچہ پیپلز پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی تھے، لیکن بلوچ سرداروں سے ہمدردی رکھتے تھے۔

حاکم علی زرداری کی پی پی سے دوری

اس زمانے میں قادر بخش نظامانی روپوش تھے۔ بھٹو حکومت نے پاسپورٹ دفتر کو ہدایت جاری کی کہ قادر بخش نظامانی کو پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے، لیکن ایم این اے حاکم علی زرداری نے اپنے لیٹر پیڈ پر سفارش کر کے انہیں پاسپورٹ جاری کرایا اور لندن روانہ کرا دیا۔ بعد میں جب یہ بات ذوالفقار علی بھٹو کے علم میں آئی تو وہ حاکم علی زرداری سے ناراض ہوئے۔

اسی طرح جب میر منور ٹالپر کے والد اور رکن قومی اسمبلی میر علی بخش ٹالپر کو گرفتار کیا گیا تو رئیس حاکم علی زرداری بھی لندن چلے گئے۔

حاکم علی زرداری کے ملک چھوڑنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ٹنڈو جام کے قریب ان کے فارم ہاؤس پر رات کے وقت فیڈرل سکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) نے چھاپہ مارا۔

دونوں طرف سے صبح ہونے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ دن نکلنے پر ایف ایس ایف کی ٹیم واپس چلی گئی۔ اس وقت فارم ہاؤس میں حاکم علی زرداری اور میر علی بخش ٹالپر، دونوں خاندانوں کے متعدد افراد بھی موجود تھے۔

13 فروری 1973 کو ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت برطرف کر دی۔ گورنر غوث بخش بزنجو اور وزیر اعلیٰ عطا اللہ مینگل کی حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ نیپ پر پابندی عائد کر دی گئی اور ولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو اور دیگر بلوچ و پشتون رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

اس اقدام کے بعد بلوچوں نے بغاوت کر دی، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔

سندھ سے عبدالحمید جتوئی، میر علی بخش ٹالپر، میر علی احمد ٹالپر، میر رسول بخش ٹالپر اور رئیس حاکم علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کیے، جس کے نتیجے میں انہیں بھٹو حکومت کے دور میں جیلیں اور روپوشی برداشت کرنا پڑی۔

آخرکار ذوالفقار علی بھٹو نے رئیس حاکم علی زرداری کو پارٹی سے خارج کر دیا اور مارچ 1977 کے انتخابات میں نواب شاہ سے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ انہیں دینے کے بجائے سید خاندان کے سید نور احمد شاہ کو دے دیا۔

بعد ازاں ملک میں مارشل لا نافذ کر کے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔ حیدرآباد ٹربیونل بھی ختم کر دیا گیا اور ولی خان، نواب خیر بخش مری، سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر، میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف سمیت حیدرآباد سینٹرل جیل میں قید تمام بلوچ اور پشتون رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

اس کے بعد حاکم علی زرداری بھی پاکستان واپس آ گئے اور بیگم نسیم ولی خان اور میر شیر باز مزاری کی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) میں شامل ہو گئے۔

آصف علی زرداری کی بلدیاتی انتخابات میں شرکت، شکست

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد 1979 میں جب جنرل ضیا الحق نے بلدیاتی انتخابات کرائے تو آصف علی زرداری نے الٰہی بخش ڈاہری اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نواب شاہ سے انتخاب لڑا، لیکن سید خاندان کے امیدوار کے ہاتھوں کونسلر کی نشست بھی ہار گئے۔

بعد میں جنرل ضیا الحق نے 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرائے، جن کا پاکستان پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا۔ مرحوم رئیس حاکم علی زرداری نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 160، نواب شاہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جبکہ ان کے مقابلے میں سید اصغر علی شاہ امیدوار تھے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 22، نواب شاہ سے انتخاب لڑا، جہاں ان کے مقابلے میں سید نواز علی شاہ تھے، جبکہ پی ایس 23 سے سید شوکت حسین شاہ امیدوار تھے۔

1985 کے ان غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 160 سے سید اصغر علی شاہ 34,140 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ڈاکٹر محمد عمر ڈاہری 26,239 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ رئیس حاکم علی زرداری 15,305 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے اور شکست کھا گئے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 22 سے سید نواز علی شاہ 22,150 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں فیض احمد صدیقی نے 16,529 ووٹ حاصل کیے، جبکہ آصف علی زرداری صرف 53 ووٹ لے سکے۔ وہ آٹھویں نمبر پر رہے اور ان کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ ادھر پی ایس 23 سے سید شوکت شاہ کامیاب ہو کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اسی دور میں فریال ٹالپر کے شوہر میر منور ٹالپر جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔

رئیس حاکم علی زرداری ایک طویل عرصے تک خان عبدالولی خان، رسول بخش پلیجو اور فاضل راہو کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی میں بھی سرگرم رہے اور پارٹی کے مرکزی نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔

 قسمت کے فیصلے

کراچی کلب میں ایک موقع پر رئیس حاکم علی زرداری کی ملاقات زیڈ اے بخاری کی صاحبزادی ڈاکٹر زرین بخاری سے ہوئی۔ ڈاکٹر زرین بخاری لمبے قد، حسین شخصیت کی مالک تھیں اور انہوں نے لندن یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ رئیس حاکم علی زرداری ان سے متاثر ہوئے اور یہ قربت بالآخر رشتے میں بدل گئی۔ 1984 میں، جب ڈاکٹر زرین بخاری کی عمر 44 برس اور رئیس حاکم علی زرداری کی عمر 54 برس تھی، دونوں نے شادی کر لی۔

ڈاکٹر زرین بخاری اپنے اعلیٰ سماجی حلقوں میں ‘ٹمی بخاری’ کے نام سے معروف تھیں۔ شادی کے بعد وہ ‘ٹمی زرداری’ کہلانے لگیں۔ رئیس حاکم علی زرداری انہیں محبت سے ‘ٹمان’ یا ‘بیگم صاحبہ’ کہتے تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد انہیں ‘ٹی ٹی امی’ کہہ کر پکارتے تھے۔ حاکم علی زرداری اور ٹمی زرداری کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

بینظیر بھٹو کے رشتے کی ابتدا بھی ایک دلچسپ انداز میں ہوئی۔ ایک روز ذوالفقار علی بھٹو کی چھوٹی بہن منور الاسلام، جنہیں بھٹو خاندان کے بچے محبت سے ‘آنٹی منا’ کہتے تھے، نے کراچی کلب میں ایک عشائیہ دیا۔ اس موقع پر ان کی ملاقات رئیس حاکم علی زرداری اور ڈاکٹر زرین زرداری سے ہوئی۔

گفتگو کے دوران منور الاسلام نے اپنی بھتیجی بینظیر بھٹو کی شادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ اس پر رئیس حاکم علی زرداری نے فوراً کہا، ‘مجھے بھی اپنے بیٹے آصف کے رشتے کی فکر ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم رشتہ دینے کے لیے تیار ہیں۔’

آنٹی منا نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں اپنی بھابھی بیگم نصرت بھٹو سے بات کریں گی۔ اس کے بعد ڈاکٹر زرین بخاری مسلسل آنٹی منا سے رابطے میں رہیں۔

جنرل ضیا الحق کے دور میں بھٹو خاندان مسلسل بڑے سانحات سے گزرا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی جلاوطنی، دونوں بیٹوں کی ‘الذوالفقار’ تنظیم کی سرگرمیوں کے باعث جان کو لاحق خطرات، قید و بند اور نظر بندیوں کی صعوبتوں نے بیگم نصرت بھٹو کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔

ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے انہوں نے بے شمار دکھ سہے۔ دوسری طرف جوان بیٹیوں، بینظیر اور صنم، کی فکر بھی انہیں ہر وقت لاحق رہتی تھی۔ پھر فرانس میں شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت نے ان پر ایک اور بڑا صدمہ ڈالا، جس کے بعد وہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہو گئیں۔

ان مسلسل صدمات کے باعث بیگم نصرت بھٹو اپنی دونوں بیٹیوں، بینظیر بھٹو اور صنم بھٹو، کی شادی کے بارے میں بہت فکر مند رہتی تھیں۔

انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی صنم بھٹو کی شادی آفتاب شعبان میرانی کے بھانجے ناصر حسین سومرو سے کر دی۔ اس شادی سے ان کے دو بچے، بیٹی آزادی اور بیٹا شاہ میر، پیدا ہوئے۔ بعد میں صنم بھٹو اور ناصر حسین سومرو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور دونوں میں طلاق ہو گئی۔ بعد ازاں صنم بھٹو نے امریکہ میں مقیم چانڈیو برادری سے تعلق رکھنے والے سابق بیوروکریٹ حسن چانڈیو سے شادی کر لی۔

بیگم نصرت بھٹو کو بینظیر بھٹو کی شادی کی خصوصی فکر رہتی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ بینظیر کی شادی کسی سندھی خاندان میں ہو۔ اسی مقصد کے تحت بینظیر بھٹو کے رشتے کی پہلی باقاعدہ بات چیت سابق کمشنر سکھر ڈویژن اور سابق وفاقی سیکریٹری سید محب اللہ شاہ کے چھوٹے بھائی، کسٹمز افسر سید شجاع شاہ، سے ہوئی۔

معاملہ منگنی، انگوٹھی پہنانے، دعا اور باقاعدہ اعلان تک پہنچ چکا تھا کہ ہونے والے دولہا سید شجاع شاہ نے جنرل ضیا الحق کو درخواست بھیج دی کہ ان کی بینظیر بھٹو سے شادی کی بات چل رہی ہے، اگر اجازت ہو تو وہ یہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔

جنرل ضیا الحق نے اس درخواست پر صرف ایک لفظ لکھا’  ‘Approved۔ جب یہ بات بینظیر بھٹو کو معلوم ہوئی تو وہ شدید ناراض ہوئیں اور کہا: ‘جو شخص مجھ سے شادی کی اجازت میرے والد کے قاتل سے لے، میں ایسے شخص سے ہرگز شادی نہیں کروں گی۔’

کہا جاتا ہے کہ بعض حلقوں نے سید شجاع شاہ کو یہ بھی ڈرایا تھا کہ اگر انہوں نے بینظیر بھٹو سے شادی کی تو انہیں جنرل ضیا الحق کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی خوف کے باعث انہوں نے جنرل ضیا سے اجازت لینے کی غلطی کی۔

اس واقعے کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو نے سید شجاع شاہ کے خاندان کو یہ کہہ کر رشتہ دینے سے انکار کر دیا کہ ‘جو شخص آج ہی جنرل ضیا سے اس قدر خوفزدہ ہے، وہ مستقبل میں کچھ بھی کر سکتا ہے، اس لیے ہم یہ رشتہ نہیں کریں گے۔’

بینظیر بھٹو سے شادی

اس صورتِ حال سے رئیس حاکم علی زرداری جیسے زیرک شخص نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپنی دوسری اہلیہ ڈاکٹر زرین بخاری، المعروف ‘ٹمی زرداری’، سے کہا کہ وہ منور الاسلام اور بیگم نصرت بھٹو سے رشتے کے معاملے پر مسلسل رابطے میں رہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر زرین زرداری، بھٹو صاحب کی سگی بہن منور الاسلام، جنہیں ‘آنٹی منا’ کہا جاتا تھا، کے ساتھ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کے رشتے کے سلسلے میں مسلسل رابطے میں رہیں۔

آخرکار منور الاسلام نے اپنی بیمار بھابھی بیگم نصرت بھٹو پر زور دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید ہو چکے ہیں، شاہنواز بھی دنیا سے جا چکے ہیں، اور وہ خود پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہیں، اس لیے اپنی آنکھوں سے بیٹی کی خوشیاں دیکھ لیں۔

جب بینظیر بھٹو سے ان کی شادی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے ابتدا میں شادی سے انکار کر دیا۔ بینظیر بھٹو نے اپنی معروف خودنوشت ‘ڈاٹر آف دی ایسٹ’ (دخترِ مشرق) میں بھی لکھا ہے کہ جب ان کی والدہ اور پھوپھی نے شادی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔

ان کے مطابق بعد میں انہیں دور سے آصف علی زرداری کو دکھایا گیا، لیکن ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جو انہیں متاثر کرتی یا شادی پر آمادہ کرتی۔ تاہم ان کی پھوپھی نے ان کی والدہ پر مسلسل اصرار کیا اور آخرکار وہ اپنی والدہ کے آنسوؤں کے سامنے ہار گئیں اور شادی پر رضامند ہو گئیں۔

اس طرح 27 جولائی 1987 کو لندن میں صنم بھٹو کے فلیٹ پر بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی منگنی ہوئی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد شریک ہوئے۔

دنیا میں سوتیلی ماؤں کے رویوں سے متعلق بے شمار قصے مشہور ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ہر کسی کو ڈاکٹر زرین ‘ٹمی’ زرداری جیسی سوتیلی ماں عطا کرے، جنہوں نے آصف علی زرداری جیسے نوجوان کا رشتہ بینظیر بھٹو جیسی عالمی شہرت یافتہ سیاست دان سے کروا دیا۔

وہی پانچ سالہ آصف علی زرداری، جو اپنے والد کے بمبینو سنیما میں صرف بھٹو خاندان کے لیے رکھے گئے انگریزی فلم ‘ڈاکٹر ژیواگو’ کے خصوصی شو کے دوران سات سالہ ‘پنکی’ (بینظیر) کو حسرت سے دیکھتے رہے تھے، وقت کے جبر نے ایسا رخ اختیار کیا کہ 18 دسمبر 1987 کو کراچی کے ککری گراؤنڈ میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کی شادی ہو گئی۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد 17 اگست 1988 کو جنرل ضیا الحق فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد عام انتخابات ہوئے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار تھے۔

حلقہ این اے 158 میں سید ظفر علی شاہ 71,850 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی 30,490 ووٹ لے کر ہار گئے۔ این اے 159، مورو میں حاجی رحمت اللہ بہن 46,143 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ غلام مصطفیٰ جتوئی 31,110 ووٹ حاصل کر کے شکست کھا گئے۔

دوسری طرف نواب شاہ کے حلقہ این اے 160 سے حاکم علی زرداری 35,591 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ سید نور احمد شاہ 18,522 ووٹ لے کر ہار گئے۔ اس طرح رئیس حاکم علی زرداری 1988 کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

سیاست میں انٹری

صرف اٹھارہ ماہ بعد، 6 اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی۔ اس کے بعد 1990 کے انتخابات میں آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں، این اے 160 نواب شاہ اور لیاری، سے انتخاب لڑا۔ نواب شاہ میں ان کا مقابلہ مرتضیٰ جتوئی سے ہوا، جو 48,588 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ آصف علی زرداری 44,964 ووٹ حاصل کر کے ہار گئے۔ تاہم لیاری سے وہ 54,308 ووٹ لے کر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

1993 کے انتخابات میں نواب شاہ کے حلقہ این اے 158 میں غلام مصطفیٰ جتوئی اور آصف علی زرداری کے درمیان مقابلہ ہوا۔ غلام مصطفیٰ جتوئی 48,595 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ آصف علی زرداری 28,929 ووٹ لے کر ہار گئے۔ اسی انتخاب میں این اے 160 سے آصف علی زرداری 40,372 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ ان کے مدمقابل سید کاظم حسین شاہ 29,026 ووٹ لے کر شکست کھا گئے۔

1993 میں میر مرتضیٰ بھٹو جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے اور انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنیں۔ 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کے بعد، نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی۔ بعد کے انتخابات میں نواز شریف حکومت میں آئے، آصف علی زرداری جیل چلے گئے اور بینظیر بھٹو جلا وطن ہو گئیں۔

18 اکتوبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں، امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی ثالثی سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں، لیکن 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک حملے میں جاں بحق ہو گئیں۔

پیپلزپارٹی کے بےتاج بادشاہ

تمام بھٹوز کے انتقال کے بعد آصف علی زرداری اسی جماعت کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ سچ کہا جاتا ہے کہ وقت سب سے بڑا بادشاہ ہوتا ہے۔

بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد گزشتہ چودہ برس سے آصف علی زرداری نہ صرف سندھ کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں بلکہ اسی کے ساتھ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت، بینظیر بھٹو کی چھوڑی ہوئی دولت، جائیداد اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی وراثت کے بھی بلا شرکتِ غیرے وارث بن گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی ہمشیرہ فریال ٹالپر سندھ کی ڈی فیکٹو چیف منسٹر اور تمام معاملات کی بااختیار شخصیت ہیں۔

آصف علی زرداری کے حامی انہیں سیاست کا بادشاہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے میکاولی طرز پر چالاکی سے سیاست چلائی اور پاکستانی سیاست میں کرپشن کے کلچر کو فروغ دیا۔

آصف علی زرداری دوسری مرتبہ ملک کے صدرِ مملکت بنے اور گزشتہ کئی برس سے مسلسل سندھ پر حکمرانی کرتے آ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ سندھ کے کسی ایک شہر کو بھی ماڈل شہر نہیں بنا سکے۔

آصف علی زرداری کے دور میں کرپشن اور بدانتظامی بڑے سوالات رہے ہیں۔ آصف علی زرداری پاکستانی سیاست کا ایک متنازع کردار رہے ہیں، جن پر کئی الزامات لگتے رہے ہیں۔

آج ان کی سالگرہ ہے۔ ان کے حامی ان کی سالگرہ منا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ کا عام آدمی ان کے دور میں ہونے والی کرپشن، بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے ان سے ناراض ہے۔

سندھ کے وسائل کی جتنی لوٹ مار اور تباہی آصف علی زرداری کی نگرانی اور حکمرانی میں ہوئی ہے، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب شمار کیا جائے گا۔

آصف علی زرداری کی نگرانی میں گزشتہ پندرہ برس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اقتدار میں ہے۔ یہ اتنا طویل عرصہ ہے کہ اس دوران سندھ کو ایک مثالی صوبہ بنایا جا سکتا تھا، لیکن ان کی توجہ ترقی کے بجائے کرپشن پر رہی۔ سندھ اس وقت تاریخ کے کرپٹ ترین حکمرانوں کے زیرِ انتظام چل رہا ہے۔

اسی بارے میں: